لیگی قیادت کیخلاف غداری کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ نکلا، کریمینل ریکارڈ سامنے آگیا

لیگی قیادت کیخلاف غداری کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ نکلا، کریمینل ...
لیگی قیادت کیخلاف غداری کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ نکلا، کریمینل ریکارڈ سامنے آگیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیگی قیادت کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرلیا گیا لیکن اس مقدمے کا ملزم خود ریکارڈ یافتہ نکلا اور اس کا کریمینل ریکارڈ سامنے آگیا۔

سماء ٹی وی کے مطابق  بغاوت کےمقدمےکامدعی  بدررشید خود ریکارڈ یافتہ ہے جس کا کریمینل ریکارڈ سامنے آگیا ہے لیکن اب وہ خود غائب ہوچکا ہے ، بدررشیدپراقدام قتل،اسلحہ اورکارسرکارمیں مداخلت کےمقدمات درج ہیں، اقدام قتل کےدومقدمات تھانہ شاہدرہ ،  ناجائزاسلحےکامقدمہ تھانہ شرقپور اور کارسرکارمیں مداخلت ، پولیس سے دست درازی کامقدمہ پرانی انارکلی میں درج ہے۔

پولیس کے مطابق بدررشید یوسی چیئرمین کاالیکشن بھی لڑچکا ہے لیکن شکست ہوئی ، بدررشیدکچھ مقدمات میں گرفتاربھی ہوا لیکن پھر رہا ہوگیا۔

یادرہے کہ   لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں شہری بدر رشید کی مدعیت میں نواز شریف اور دیگر کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی، 121، 121 اے، 123 اے، 124 اے، 153 اے اور 505 اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی شق 10 تحت مقدمہ درج کیا گیا۔مذکورہ مقدمے میں موقف اپنایا گیا 'مجرم نواز شریف پاکستان کی اعلی عدالتوں سے سزا یافتہ ہے اور ان کیخلاف بدعنوانی کے مقدما ت اعلی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بنیادی انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں جان بچانے اور علاج معالجہ کیلئے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی اور حکومت وقت نے مخا لفت نہیں کی۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق تاہم اب سزا یافتہ نواز شریف علاج کروانے کے بجائے لندن میں بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی مجرمانہ سازش کے تحت پاکستان اور اس کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کی غرض سے نفرت اور اشتعال انگریز تقاریر کر رہے ہیں۔ مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق مجرم نواز شریف نے اپنے 20 ستمبر اور یکم اکتوبر 2020 کے خطابات دشمن ملک بھارت کی بیان کردہ پالیسی کی تائید میں کیے تاکہ پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ میں ہی رہے۔ تھانے میں درج مقدمے میں نواز شریف، مریم نواز  اور مسلم لیگ (ن) میں شا مل پاک فوج کے تین ریٹائرڈ جنرل کے نام بھی شامل ہیں جن میں لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی بھی شامل ہیں، ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی، 121، 121 اے، 123 اے، 124 اے، 153 اے اور 505 اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون2016 کی شق 10 تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف نے اپنے 20 ستمبر اور یکم اکتوبر 2020 کے خطابات دشمن ملک بھارت کی بیان کردہ پالیسی کی تائید میں کیے تاکہ پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ا یف اے ٹی ایف)کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ میں ہی رہے۔ تھانے میں درج مقدمے کے متن میں موقف اپنایا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر کا بنیادی مقصد پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنا اور پاکستا ن کو روگ اسٹیٹ قرار دینا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف کے آل پارٹیز کانفرنس، مسلم لیگ کی سینٹرل ورکرز کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے خطابات میں شریک رہنماں راجا ظفر الحق، سردار ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، جنرل(ر)عبدالقیوم، سلیم ضیا، اقبال ظفر جھگڑا، صلاح الدین ترمذی، مریم نواز شریف، احسن اقبال، شیخ آفتاب احمد، پرویز رشید، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، بیگم نجمہ حمید، بیگم ذکیہ شاہ نواز، طارق رزاق چوہدری نے تقاریر کی تائید کی۔

مزید یہ کہ ایف آئی آر کے مطابق سردار یعقوب ناصر، نوابزدہ چنگیز مری، مفتاح اسمعیل، طارق فزاق چوہدری، محمد زبیر، عبدالقادر بلوچ، فاطمہ خواجہ، مرتضی جاوید عباسی، مہتاب عباسی، جاوید لطیف، مریم اورنگزیب، عطا للہ تارڑ، چوہدری برجیس طاہر، چوہدری محمد جعفر اقبال، عظمی بخاری، شائستہ پرویز ملک، سائرہ افضل تارڑ، بیگم عشرت اشرف، وحید عالم، راحیلہ درانی، دانیال عزیز سمیت ویڈیو لنک پر شریک رہنماوں راجا فاروق حیدر، خواجہ سعد رفیق، امیر مقام عرفان صدیقی و دیگر نے نواز شریف کی تقاریر کو سن کر اس کی تائید کی۔ مختلف دفعات کے تحت درج مقدمے کے مطابق نواز شریف نیب قوانین کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم ہے اور نواز شریف کا مقصد میڈیا پر براہ راست پاکستان کے مقتدر اداروں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنا اور عوام بالخصوص اپنے پارٹی اراکین کو اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانا ہے جبکہ وہ لندن سے بیٹھ کر میڈیا کے ذریعے عوام کو کھلے عام بغاوت کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ عوام ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کریں تاکہ ملک میں آگ و خون کا کھیل کھیلا جاسکے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -