وزیراعظم آفس، وزارتوں کو 33 بلٹ پروف لگژری گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ، فنڈز منتقلی کی ہدایت کردی گئی

وزیراعظم آفس، وزارتوں کو 33 بلٹ پروف لگژری گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت دینے ...
وزیراعظم آفس، وزارتوں کو 33 بلٹ پروف لگژری گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ، فنڈز منتقلی کی ہدایت کردی گئی
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں وزارت خارجہ کیلئے خریدی گئیں 33بلٹ پروف لگژری گاڑیاں وزیراعظم آفس،ایوان صدر اوروفاقی وزارتوں کو استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔یہ لگژری گاڑیاں وی وی آئی پیز اور غیرملکی شخصیات کے دورہ پاکستان کے دوران بھی استعمال کی جائیں گی۔ گاڑیوں کی دیکھ بھال، مرمت اور فیول کیلئے مختص فنڈز انٹیلیجنس بیورو سے کابینہ ڈویژن کو منتقل کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ 

سابق وزیراعظم نواز شریف،شاہد خاقان عباسی، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے افسران لگژریوں گاڑیوں کے غلط استعمال پر نیب کی تحقیقات کا سامنا کررہے ہیں۔33لگژری گاڑیوں کو استعمال کرنے کیلئے ای سی سی کا 9ستمبر 2016 کے فیصلے اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق 1980کے رولز میں ترمیم کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی سفارشات پر وفاقی کابینہ کی جانب سے آج منظوری دئیے جانے کا امکان ہے۔

روزنامہ 92 نیوزکے مطابق کابینہ ڈویژن نے 12فروری2020کودفتر خارجہ کی جانب سے خرید ی گئی ہائی سکیورٹی گاڑیوں کے استعمال،سپردگی،مرمت اور ایندھن کے اخراجات کے حوالے سے سمری وزیر اعظم کو ارسال کی۔وزیر اعظم کی جانب سے ای سی سی کے 7جون2016کے فیصلے میں تبدیلی کیلئے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی۔جس میں غیر ملکی شخصیات اور وی وی آئی پیز کیلئے گاڑیوں کے استعمال کے حوالے سے رولز فار دی یوز آف سٹاف کارز 1980میں ترمیم کی ہدایت کی گئی۔گاڑیوں کے اخراجات اور مرمت کیلئے اٹیلیجنس بیورو کے پاس دستیاب فنڈز کو کابینہ ڈویژن کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔

 فنانس ڈویژن کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرکو پہلے سے ہی بجٹ کے اندر ریپئر اینڈ مینٹی نینس کی مد میں اخراجات کرنے کے اختیارات دیے جا چکے ہیں۔وزیر اعظم کی جانب سے کابینہ ڈویژن کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سمری کے ذریعے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سفارشات کے مطابق کابینہ ڈویژن کو فنانس ڈویژن سے 33گاڑیوں کا چارج لے کر سنٹرل پول آف کارز کو سپرد کردیا جائے۔

ایوان صدر،وزیر اعظم آفس،وزارتیں،ڈویژن اور دوسرے حکومتی ادارے ضرورت کے وقت مذکورہ گاڑیوں کے استعمال کیلئے کابینہ ڈویژن کو درخواست دیں گے۔رولز فار دی یوز آف سٹاف کارز 1980کے رول 28(2)کے بعد ضمنی رول 2(a)شامل کیا جائے گا جس کے تحت وزارت خزانہ کی گاڑیاں غیر ملکی شخصیات،صدر پاکستان اور وزیر اعظم کی پروٹوکول ڈیوٹیوں کیلئے استعمال کی جائیں گی۔ 

دوسری جانب سے پی آئی اے کو مالی بحران سے نکالنے سے متعلق پلان آج وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پی آئی اے انتظامیہ نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ 400ارب روپے سے زائد کا ملکی وغیر ملکی قرض کی ادائیگی حکومت اپ فرنٹ کردے۔ قرض کی ادائیگی اور ایکسچینج خسارہ پی آئی اے کیلئے ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔

پی آئی اے نے ریونیو میں اضافے کیلئے 9نکاتی پلان تیار کرلیا ہے۔ٹیکنیکل گراؤنڈ سروس،سپیڈ ایکس کورئیر سروس،فوڈ سروس ڈویڑن سمیت کئی شعبے آو¿ٹ سورس اور پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا عمل شروع کردیا گیا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -