سندھ کابینہ نے ”پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ آرڈیننس مسترد کردیا

سندھ کابینہ نے ”پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ آرڈیننس مسترد کردیا
سندھ کابینہ نے ”پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ آرڈیننس مسترد کردیا

  

کراچی(آئی این پی) سندھ کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کو متفقہ طور پر مسترد کردیا ہے جس کے تحت پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آرڈیننس واپس لے۔

کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ اور متعلقہ سکریٹریز نے شرکت کی۔ وزیر توانائی امتیاز شیخ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں کابینہ کو 31 اگست 2020 کو صدر پاکستان کے ذریعہ پیش کردہ آرڈیننس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کے ارکان نے آرڈیننس سے متعلق اپنے بحث میں کہا کہ یہ (آرڈیننس) پاکستان کے آئین کے منافی ہے۔ کابینہ کے اراکین نے کہا کہ آئین کے تحت صوبائی حکومت کے علائقائی دائرہ اختیار  میں واقع زمینوں، جزائر اور سمندری زمین صوبائی حکومت کی ملکیت ہے۔ کابینہ نے کہا کہ اس آرڈیننس کو اس طرح نافذ کیا گیا ہے جیسے یہ جزائر وفاقی حکومت کی ملکیت ہوں۔ کابینہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ترقی کیلئے کچھ پیرامیٹرز رکھے ہیں جن میں جزیرے شامل ہیں وہ صوبائی حکومت کی ملکیت رہیں گے، ترقیاتی منصوبوں کی شرائط و ضوابط کو صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کے مفاد کے حق میں تقسیم کیا جائے گا جسکی حفاظت کی جائے گی۔ کابینہ نے کہا کہ اس معاہدے نے سندھ حکومت کی طرف سے طے کی گئی شرائط کو ایک طرف رکھتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کے علاقائی دائرہ اختیار میں واقع جزیروں کو وفاقی حکومت کی ملکیت قرار دیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے کہا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے عوام کے حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ کابینہ نے اس آرڈیننس کو واپس لینے کے اصرار کے ساتھ وفاقی حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں صوبائی حکومت اور اس کے عوام کے حقوق کی منافی کی گئی ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -