جزائر تنازعہ، وفاق اور سندھ نے " قبضہ سیاست" شروع کردی ، حافظ نعیم الرحمن بھی میدان میں آگئے

جزائر تنازعہ، وفاق اور سندھ نے " قبضہ سیاست" شروع کردی ، حافظ نعیم الرحمن بھی ...
جزائر تنازعہ، وفاق اور سندھ نے

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کی ساحلی پٹی پر جزائر کے معاملے پر وفاق اور سندھ نے قبضہ اور سیاست شروع کردی ہے،سندھ میں پیپلزپارٹی کی ایک طویل عرصے سے حکومت رہی ہے اس کے باوجوداس نے کراچی سمیت جزائر کے لیے کچھ نہیں کیا،اگر شہر میں بااختیارشہری حکومت ہو تو یہ تمام معاملات اسی کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں، حکمرانوں کے اقدامات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جزائر کی تعمیر و ترقی کے بجائے قبضہ اور اپنے پسندیدہ لوگوں کونوازنا پیش نظر ہے،حیرت ہے کہ ایک طرف وفاق اور صوبے کی کمیٹی بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف ہر وقت قبضہ کی جنگ اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جارہی ہے،ایسی صورتحال میں واضح نہیں ہے کہ ماہی گیروں کے روزگار اور ماہی گیری کی صنعت کا کیا ہوگا؟ماحولیات پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی اقدام سے پہلے ماہرین کے ہمراہ اس مسئلے پر تبادلہء خیال ہونا چاہیئے۔

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کراچی کے قریب جزائر پر قبضہ کرنے کے بجائے عوام کو روزگار فراہم کیا جائے، ساحلی پٹی کے جزائر پر کراچی سمیت سندھ کے عوام کا حق ہے،وفاق ان پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کرے،مذکورہ جزائر پر کام کرنے سے قبل وفاقی حکومت بتائے کہ کراچی کے عوام کے مسائل کے لیے وفاق نے اس سے پہلے اپنی ذمہ داری کتنی ادا کی ہے؟کراچی میں وفاقی حکومت کے تحت منصوبوں اور پروجیکٹ میں مسلسل تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ کراچی کا گرین لائین منصوبہ ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوا؟ وفاقی حکومت کے تحت چلنے والی کے الیکٹرک عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے لیکن عوام کو اس کی زیادتیوں اور لوٹ مار سے نجات دلانے کے بجائے اس کی سرپرستی کی جارہی ہے اسے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کی ساحلی پٹی کے قریب جزائر پر تعمیر و ترقی کا فائدہ کراچی سمیت سندھ کے عوام کو ملنا چاہیئے،ان جزائر میں کراچی کے نوجوانوں کو بھی روزگار کے مواقع فراہم ہونے چاہیئےماہی گیری سے وابستہ افراد کو نقصانات سے بچانا ضروری ہے،سندھ حکومت کی پہلے وفاق کے ساتھ ہم آہنگی ہوئی تھی کہ سارے انتظامات وفاق کی جانب سے کیے جائیں گے مگر اب معاملے کو کوئی اور رخ دیا جا رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے دور نظامت میں بھنڈار اور ڈنگی جزیروں پر ٹیکنا لوجی آئی لینڈ سٹی قائم کرنے، سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر فیکٹریز لگانے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا جس کے تحت نوجوانوں کو روزگار اور ہنر دینا مقصود تھا مگر اس منصوبے پر بعد میں عمل درآمد نہیں ہو سکا،ضرورت اس امر کی ہے کہ ان جزائر کو مثبت و ترقیاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی، بیرونی و عالمی قوتوں اور ان کے آلہ کاروں،شراب خانوں اور جوئے کے اڈوں کے قیام سے محفوظ رکھا جائے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -