”پنڈورا پیپرز کی تحقیقات“

”پنڈورا پیپرز کی تحقیقات“

  

پنڈورا پیپرز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے معاملے کی تحقیقات کے  لیے تین رکنی سیل قائم کر دیا ہے،جس کے سربراہ وہ خود ہوں گے۔یہ سیل پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کرے گا۔ایف بی آر، ایف آئی اے اور نیب کے نمائندے سیل کا حصہ ہوں گے۔یہ سیل دیکھے گا کہ پنڈورا پیپرز میں سامنے آنے والی پاکستانی شخصیات نے ٹیکس دیا یا چوری کی،ان کے ذرائع آمدن کیا تھے۔انہوں نے اثاثے  ڈکلیئر کیے یا نہیں، منی لانڈرنگ ہوئی یا نہیں۔اِس حوالے سے وفاقی وزراء اور اٹارنی جنرل پر مشتمل کمیٹی پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کو ابتدائی رپورٹ پیش کر چکی ہے، قومی دولت ملک سے باہر لے  جانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، اور ان کے خلاف عمران خان کا تحقیقات کا فیصلہ نہایت احسن ہے۔تاہم یہ تحقیقات اس انداز میں ہونی چاہئے کہ کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔اپوزیشن اِس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر چکی ہے۔اس کا مطالبہ ہے کہ اس کے لئے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے  یا اسی طرح جے آئی ٹی قائم ہو، جیسی نواز شریف صاحب کے معاملے میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ جن وفاقی وزراء اور حکومتی عہدیداروں کے نام فہرست میں آتے ہیں، ان سے استعفے لئے جائیں، اس کے بعد وہ تحقیقات کا سامنا کریں۔ یہ وہی مطالبہ ہے جو پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد عمران خان مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے کرتے رہے تھے۔

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں احتساب مختلف اوقات میں یک طرفہ اور مخالفین کو کچلنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے،برسر اقتدار طبقے نے احتساب کے نام پر اپوزیشن کو مقدمات کے جال میں پھنسا کر رگڑا لگانے کی کوشش کی،ماضی میں اگر کچھ غلط ہوتا رہا ہے تو اِس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس تسلسل کو قائم رکھا جائے۔پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد نیب کے کردار اور طریق کار پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی تھیں۔اگرچہ کہ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا انتخاب خود اپوزیشن نے کیا تھا تاہم اب اپوزیشن کا یہ کہنا ہے کہ نیب حکمران طبقے کو نظر انداز کر کے صرف اسے تنگ کر رہی ہے۔اگر وزیراعظم عمران خان تحقیقات کو شفاف، غیر متنازع بنانا چاہتے ہیں تو انہیں اِس بات میں احتیاط کی ضرورت ہو گی کہ  پنڈورا پیپرز میں حکومتی وزراء اور دیگر بااثر شخصیات کے نام بھی سامنے آئے ہیں،اور دونوں جانب سے وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے۔یہ درست ہے کہ آف شور کمپنیاں بنانا کوئی غیر قانونی اقدام نہیں، تاہم اگر آپ ان کمپنیوں کو خفیہ رکھتے ہیں تو  یہ قابل تازیر یقینا قابل دید ہے۔ 

وزیر اعظم کی نیت جتنی بھی نیک ہو، ان کے حامی اس حوالے سے جو بھی وعدے کریں،انصاف صرف کیا ہی نہیں جانا چاہئے، ہوتا ہوئے نظر بھی آنا چاہئے۔ وزیر اعظم اگر اپنی سربراہی میں سیل قائم کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قوم کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو بصد ادب یہ عرض ہے کہ یہ اندازہ درست نہیں ہے۔ ان کی کابینہ کے ارکان الزامات کی زد میں ہیں، اگر وہ اپنے ان رفقاء کے معاملے میں اپنے آپ کو خود ہی ”جج“ مقرر کر لیں گے تو ان کے مخالفین اسے ہرگز ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

اگر کسی سیل سے ابتدائی تحقیقات کرانا مقصود ہیں  تو وزیر اعظم کو اس کی سربراہی نہیں کرنی چاہئے، بہتر تو یہی ہو گا کہ اس معاملے میں اپوزیشن سے مشاورت کی جائے  اور ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس پر دونوں کا اتفاق ہو، اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر عدالتی کمیشن کا تقرر عمل میں لایا جائے، اس کے سربراہ کا تقرر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ ایسا ہو جائے تو تحقیقی عمل کو مقدمہ کے بڑے حصے کا اعتماد حاصل ہو جائے گا، یکطرفہ احتساب اور یکطرفہ انصاف میں سے کوئی بھی قبول عامہ حاصل نہیں کر سکتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -