سقراط نے زیر کا پیالہ اپنے ہونٹو ں سے لگالیا۔کیوں؟ 

سقراط نے زیر کا پیالہ اپنے ہونٹو ں سے لگالیا۔کیوں؟ 
سقراط نے زیر کا پیالہ اپنے ہونٹو ں سے لگالیا۔کیوں؟ 

  

یونان کی ریاست سقراط کی گفتگو اور تقاریر سے سخت نالاں تھی اور عوام پر اس کے اثرات پڑرہے تھے اور حکمران اس کو روکناچاہتے تھے اور بالا ٓخر یونان میں عدالت لگی اور اس کے اندر 501 ججز تھے۔ سقراط پر فرد جرائم عائد کی گئی۔ عدالت نے ووٹنگ کی اور ججز کی اکثریت نے سقراط کو موت کی سزا سنادی عدالت میں 281نے سزائے موت کے حق میں رائے دی اور 220نے اسے بے گناہ ثابت کیا اور سزاسنانے کے بعد عدالت نے سقراط کو بولنے کا حق دیا اور اس کے بعد سقراط نے بڑے اطمینان سے اپنا موقف بیان کیا۔تقریر کے بعد اسے جیل میں ڈال دیا گیا اور عدالت کے حکم کی تعمیل کی گئی اور اسے زہر کا پیالہ تھما دیا۔سقراط نے بڑے اطمینان سے پیالہ کو لبوں سے لگا لیا اس کے شاگرد اس منظر کو دیکھ اور  رو رہے تھے۔اپنی تقریر کے دوران سقراط نے موت کی سزا کے بعد یہ بھی کہا میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ آپ اپنے جسم اور دولت کو اولیت مت دیں بلکہ اپنی روح کی فکر کریں اور اسے خوبصورت بنائیں میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ دولت سے حق حاصل نہیں ہوتا بلکہ حق سے دولت اور نیکی دونوں حاصل ہوتی ہیں۔اس کے بعد عدالت نے ملی ٹس کی تجویز کردہ سزائے موت پر رائے شماری کرائی اور سقراط کو موت کا حکم سنایا۔اس پر اس نے ایک عظیم تقریر کی جو اس وقت تک زندہ رہے گی جب گک انسان اور اس کی انسانیت زندہ ہے۔اس نے کہا۔

”حضرات۔مجھے سزائے موت صرف اس لئے دی گئی ہے کہ میں ایک عوامی نقاد ہوں اور لوگوں کو ان کی برائیوں پر ٹوکتا رہتا ہوں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ میں نے صفائی میں وہ باتیں نہیں کیں جو عام طور پر ملزم کرتے رہتے ہیں اور عدالت جن کی عادی ہو گئی ہے۔مثلاً گریہ وزاری،منت وسماجت اور دوسری ذلیل حرکتیں اور نازیبا باتیں۔میں خطرے سے بچنے کے لئے کبھی ناروا حرکت نہیں کر سکتا۔میں اس قسم کی صفائی دے کر زندہ رہنے سے مرجانا بہتر سمجھتا ہوں۔مجھے یا کسی دوسرے آدمی کو میدان جنگ میں اکثر ایسا موقعہ پیش آتا ہے کہ اگر ایک آدمی اپنے ہتھیار پھینک دے اور اپنے دشمنوں یا تعاقب کرنے والوں سے رحم کی بھیک مانگ لے تو اس کی جان بچ سکتی ہے۔اسی طرح ہر خطرے سے بچنے کے لئے ایک نہ ایک سبیل نکل سکتی ہے  بشرطیکہ ایک شخص ہر جائز و ناجائز اور ہر غلط وصحیح بات کے لئے تیار ہو۔لیکن حضرات! میرا معاملہ اس کے بعد برعکس ہے۔ میرے لئے مشکل کام موت سے بچنا نہیں بلکہ بے ایمانی اور غیر حق سے بچنا ہے۔یہ بات کہیں زیادہ مشکل ہے ہے، کیونکہ بے ایمانی موت سے زیادہ خطرناک ہے اور موت سے زیادہ تیزی سے پیچھا کرتی ہے۔میں بوڑھا اور سست آدمی ہوں لہذا مجھے آہستہ رو یعنی موت نے آلیا ہے۔اب میں اور وہ جدا ہورہے ہیں۔مجھے آپ نے موت کی سزا دی ہے جبکہ حق نے انہیں ضلالت کی سزادی ہے میں اپنی سزا بھگتوں گا اور وہ اپنی جزا کو پہنچیں گے۔

اب میں ان کے مستقبل کے بارے میں ایک پیش گوئی کرنا چاہوں جنہوں نے مجھے موت کی سزا دی ہے اس وقت میں اس منزل پر ہوں جہاں پہنچ کر لوگ مستقبل کی بات کرنے لگتے ہیں۔آنے والی موت کے سائے میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ میری موت کے بعد تمہارے اوپر ایک بلا نازل ہو گی،جو تمہارے حق میں میرے قتل سے زیادہ کرب ناک ہو گی۔تم نے میرے ساتھ یہ سب محض اس لئے کیا ہے نا کہ تم مواخذہ اور احتساب سے بچے رہو۔تاکہ تم اپنے اعمال افعال کے لئے کسی کے سامنے جواب دہ نہ رہو۔لیکن اس کا نتیجہ تمہاری توقع کے بر خلاف ہوگا۔اب ایک سے زیادہ آدمی تمہارا مواخذہ کریں گے اور تم سے میرے خون کا حساب مانگیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن کو میں نے اب تک روک رکھاتھا اور جن کو تمہاری نظروں نے دیکھا وہ تمہارے اوپر زیادہ سختی کریں گے کیونکہ وہ نوجوان ہیں اور تمہیں مجھ سے زیادہ تکلیف ہوگی۔ اگر تم یہ سمجھتے ہوکہ تم لوگوں کو موت کی سزائین دے دے کر اپنی شرمناک زندگیوں کو تنقید سے محفوظ کر لوگے تویہ تمہاری بھول ہے کیونکہ اس قسم کاتحفظ نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی باعزت ہے۔اس کے مقابلے میں دوسری بات زیادہ آسان اور زیادہ قابل عزت ہے۔ وہ یہ کہ تم لوگوں کی زندگیوں کو تلف مت کرو اور اپنی بہتری کی خاطر تنقید وتبصرہ کا خیرمقدم کرو۔

جنہوں نے میرے حق میں رائے دی ہے ان سے بھی باتیں کرنے کو میرا دل چاہتا ہے۔ حضرت! آپ کو میں اپنی سرگزشت کے حقیقی معانی سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ میری زندگی میں ہرقدم پر ایک خدائی آوازمیری رہنمائی کرتی رہی ہے۔ یہ میرے ضمیر کی مانوس آواز تھی۔ وہ ماضی میں چھوٹی سے چھوٹی باتوں میں بھی مجھے غلطی سے روکتی تھی۔ لیکن اب جب کہ میرے اوپر ایک ایسا ماجرا گزررہا ہے جسے عام طور پر بڑاالمناک تصورکیاجاتا ہے تووہ خاموش ہے۔ آج صبح میں گھر سے نکلاتو اس آواز نے میری مزاحمت نہ کی۔ نہ ہی عدالت میں داخل ہوتے وقت اور نہ ہی تقریر کے دوران۔ اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ جو کچھ میرے ساتھ ہورہا ہے اچھا ہورہاہے۔بہت سے ایسے لوگ جو موت کو اچھا نہیں سمجھتے اس کو درست نہیں سمجھیں گے لیکن مجھے ان سے اتفاق نہیں ہے، یہ انجام کتنا اچھاہے! اب میں وہاں جاؤں گاجہاں مجھے ان مشاھیر کی صحبت میسر آئے گی جن کی ساری عمر حق پرستی میں گزری۔ہومراورہیسیڈ (Hesoid) کی صحبت کتنی پرلطف ہوگی۔ وہاں پر وہ قدماء بھی ہوں گے جوظلم اورجہل کے شکارہوئے۔ میں ان سے اپنے تجربات کا موازنہ کروں گا۔ 

میرا خیال ہے وہاں لوگ تنقید وتردید پر کسی کو موت کی سز نہیں دیں گے۔ اراکین عدالت۔آپ کو بھی ایک دن موت آئے گی۔میرا یہ ایمان ہے کہ ایک حق پرست آدمی کو کوئی چیززک نہیں پہنچا سکتی اور اس کا انجام اتنا برا نہیں ہو سکتا۔ 

مزید :

رائے -کالم -