حمزہ شہبازکا دورۂ جنوبی پنجاب 

حمزہ شہبازکا دورۂ جنوبی پنجاب 
حمزہ شہبازکا دورۂ جنوبی پنجاب 

  

حمزہ شہباز کے دورۂ جنوبی پنجاب سے نون لیگ مخالفین حلقوں میں سراسیمگی دوڑ گئی اور وہ دورے کے اختتام سے قبل ہی اسے ایک ناکام دورہ قرار دینے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف نظر آئے۔ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں اور اس اعتبار سے اپنے لیگی ساتھیوں کے ہاں فاتحہ خوانی کے لئے جانا ان پر لازم تھا۔ ایسا اس لئے بھی ضروری ہوگیا تھا کہ وہ لگ بھگ دو برس تک کرپشن کے جھوٹے الزامات کی بنا پر جیل میں رہے اور اس دوران پنجاب میں لیگی کارکن اور قائدین تو مسلسل ان سے رابطے میں رہے مگر وہ خود ان کے ہاں نہیں پہنچ سکتے تھے اور اب جونہی ایک موقع بنا تو کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر وہ نکل کھڑے ہوئے۔ 

اس کے باوجود کہ حمزہ شہباز عوامی رابطہ مہم پر نہیں نکلے تھے، وہ جہاں جہاں سے گزرے عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ لاہور سے خانیوال انٹرچینج پر پہنچے توہزاروں کارکن ان کے استقبال کے لئے کھڑے تھے، سینکڑوں گاڑیاں اس کے علاوہ تھیں، عام کارکن علیحدہ سے موٹرسائیکلوں پر سوار پارٹی جھنڈے اٹھائے انہیں خوش آمدید کہتے پائے گئے۔

بس یہی وہ لمحہ تھا کہ نون لیگ مخالف حلقے خوفزدہ ہو گئے کہ کہیں نواز شریف کا بھتیجا میلہ نہ لوٹ لے، چنانچہ وہی ہوا کہ جس کا احتمال تھا کہ دورہ ابھی مکمل نہ ہوا تھا کہ انہوں نے دورے کو ناکام ثابت کرنے کے لئے واویلا شروع کردیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حمزہ شہباز جس جس سڑک اور جس جس گلی سے گزرے عوام کی بڑی تعداد نے گل پاشی سے ان کا استقبال کیا، تین کلومیٹر کا سفر ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا، حالانکہ گاڑی پر تو یہ سفر تین منٹ میں پورا ہوجاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حمزہ جہاں پہنچے، عوام ایک فطری جذبے کے تحت ان کے ساتھ جڑتے پائے گئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے والد اور نون لیگ کے صدر شہباز شریف نے اپنی وزارت اعلیٰ کے ادوار میں جنوبی پنجاب کی ترقی کو ترجیح دیئے رکھی اور وہاں کے عوام کے لئے اتنا کچھ کیا کہ جب موجودہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کو وہاں دورے پر لے جایا گیا تو ایک بڑھیا کو ان کا تعارف کو یوں کروایا گیا کہ ”ماں جی! ایہہ اج کل شہباز شریف لگا کھڑااے!“اس ایک جملے سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نون لیگ نے جنوبی پنجاب میں اس قدر ترقیاتی کام کروائے تھے کہ مخالفین کو بھی اپنے تعارف کیلئے ان کا حوالہ دینا پڑتا ہے۔

ایک شہباز شریف ہی نہیں بلکہ خود نون لیگ کے قائد نواز شریف کی کاوشوں سے جنوبی پنجاب میں جس طرح سے موٹر ویز کو ملانے والی سڑکوں کا جال بچھا ہے اس سے ازخود ترقی کے نئے سوتے پھوٹ پڑے ہیں کیونکہ کہاجاتا ہے کہ جہاں ترقی لے جانی ہو، وہاں سڑک لے جائیں۔ چنانچہ اس فارمولے کے تحت جنوبی پنجاب کے عوام کو ان سڑکوں کے بن جانے سے پسماندہ علاقوں سے نکل کر ترقی یافتہ اور بڑے شہروں کی طرف رخ کرکے روزی روٹی کمانے کا موقع ملا اور آج جنوبی پنجاب میں بھی خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ وہ تو موجودہ حکومت کی نااہل معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ جنوبی پنجاب کیا، آج تو لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، سیالکوٹ اور دیگر ایسے بڑے تجارتی و صنعتی شہروں کے عوام بھی بلبلا رہے ہیں اور حکومت کو کوس رہے ہیں۔ 

ایک دلچسپ لطیفہ سن لیجئے کہ گزشتہ روز راقم کو ایک بڑے بیوروکریٹ کے دفتر جانے کا موقع ملا۔ وہاں پر ان کے کچھ کولیگ ان سے ملنے آئے ہوئے تھے۔ ہوتے ہوتے بات پی ٹی آئی تک پہنچی تو ایک کولیگ نے سیکرٹری صاحب سے کہا کہ سر آپ کو یاد ہے کہ ہم نے مل کر پی ٹی آئی کے آنے کی خوشی منائی تھی۔ اس پر سیکرٹری صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ اب ہم ان کے جانے کی خوشی منائیں گے! 

یہ پی ٹی آئی حکومت کی خراب کارکردگی ہی ہے کہ آج جنوبی پنجاب،جہاں سے پی ٹی آئی کو جنوبی پنجاب محاذ کے نام پر الیکٹ ایبلز کی فوج ظفر موج میسر آگئی تھی اورجو کوئی ساتھ دینے کو تیار نہ تھا اسے محکمہ زراعت کے فیلڈ افسروں کے تھپڑوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، دوبارہ سے نون لیگ کی جانب دیکھ رہا ہے اور بلاول بھٹو بھی وہیں پیپلز پارٹی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی تگ و دو کرتے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ حمزہ شہباز کے دورے کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو چاہئے کہ وہ پی ٹی آئی کا تازیانہ لکھیں کہ جس نے جنوبی پنجاب کی ترقی کو بربادی کی راہ پر ڈال دیا۔ 

ملتان کے جلسے پر تنقید کے ڈونگرے برسانے والے یہ بتانے سے گریز کیوں کر رہے ہیں کہ جلسے سے عین قبل تیز بارش نے پنڈال کو آلیا تھا جس کے سبب حمزہ شہباز کو وہاں پہنچنے میں تاخیر ہوئی مگر اس کے باوجودجب وہ پنڈال کی جانب بڑھے تو کمیٹی چوک ہو یا کوئی اور چوک، ہر جگہ عوام کی بڑی تعداد ان کے اسقبال کے لئے موجود تھی اور ہجوم میں راستہ بنانا مشکل ہوا جاتا تھا۔ اس لئے ملتان کے شو کو ایک ناکام شو قراردیناسوائے قلمی زیادتی کے اور کچھ نہیں ہے۔ دوسری جانب بہاولپور میں موسم کی ادائیں نہ بدلیں تو ورکرز کنونشن خود بخود عوامی جلسے میں تبدیل ہو گیا۔

یوں بھی حمزہ شہباز کا دورۂ جنوی پنجاب اپنے دیرینہ ساتھیوں کی محبتوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے تھا۔وہ جنوبی پنجاب فتح کرنے نہیں نکلے تھے مگر اس کے باوجودانہیں اس قدر والہانہ محبت ملی کہ وہ جگہ جگہ کہتے پائے گئے کہ انہیں لگتاہے کہ وہ اپنے گھر میں آئے ہیں۔ حمزہ شہباز کو اس دورے کے دوران جس قدر پذئرائی ملی ہے وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ نواز شریف کا ووٹ کو عزت دو کے نعرے کا جادو اب پورے ملک میں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -