ایسا میں نے کب سوچا تھا 

ایسا میں نے کب سوچا تھا 
ایسا میں نے کب سوچا تھا 

  

خا ن صاحب جب آپ نے حکومت سنبھالی تو میرے سمیت بہت سے پاکستانیوں نے سوچا تھا کہ اب ملک میں پٹرول،ڈیزل آدھے نرخ یعنی بہت سے ٹیکسوں کے بغیر ملکی عوام کو دستیاب ہوگا۔پٹرول کی قیمت کم ہو گی تو نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہوں گے بلکہ فیکڑیوں،کارخانوں اور دکانوں کو بجلی کے بل بھی کم دینے پڑیں گے۔ بجلی گیس پٹرول کی قیمتوں میں واضح کمی ہوگی تو مہنگائی ساتویں آسمان تک نہیں پہنچے گی،والدین غربت،بھوک اور نئے کپڑے نہ خرید پانے کے ڈر سے بچوں کو نہر میں پھینک کے خود کشی نہیں کریں گے۔تعلیم،صحت اور انصاف کا بول بالا ہوگا خوشحالی ہوگی۔ہم تو یہ سوچ کے ہی خوشی سے نہال ہوئے جارہے تھے کہ جب ہمارے ملک کا سرمایہ دار بجلی،گیس کے زائدبلوں اور اداروں کی بلیک میلنگ سے نجات پا لے گا،تو وہ دوسرے ملکوں میں سرمایہ منتقل کرنے کی بجائے اپنے ہی ملک میں نئے کارخانے لگائے گا۔جس سے ہزاروں نوجوانوں کو روز گار ملے گا اور ملکی معیشت مضبوط ہونے لگے  گی۔ہم نے تو سوچا تھا کہ آپ کے مسند نشین ہوتے ہی جب روزانہ کی بنیاد پر دو ارب روپیہ منی لانڈرنگ سے باہر ملکوں کو جانا بند ہوجائے گا تو ملک میں پیسے کی ریل پیل ہوگی۔ہم نے یہ بھی سوچا کہ جب حکمران ایماندار ہوگا تو نیچے اُس کے وزیر مشیر خود بخود سیدھے رستے پہ آجائیں گے۔خان صاحب عالی مقام آپ جب ریاست مدینہ کی بات کرتے تھے تو ہمارے سینے فخر سے چوڑے ہوجایا کرتے تھے اور ہم سوچا کرتے تھے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ملک میں اب اسلامی قوانین کے مطابق معاملات چلائے جائیں گے۔

یعنی ہم نے سوچا تھاکہ آپ کے مسند سنبھالتے ہی سارے ملکی حالات یکسر ہی بدلتے چلے جائیں گے اب کسی ادارے میں سیاست نہیں ہو گی سکولز کے بچوں سے اساتذہ ناروا سلوک نہیں کریں گے تھانوں میں مظلوم کی داد رسی ہوگی کلرک بادشاہوں کا اب قبلہ درست ہو جائے گا۔ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازموں کو اپنی پنشن کے اجراء کے لیے کسی کلرک کو کسی افسر کو بھاری رشوت نہ دینی پڑے گی۔ گورنر ہاؤسز یونیورسٹیوں میں تبدیل ہوجائیں گے تو ملک میں شرع خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ ہونے لگے گا۔کرپشن کا ناسور ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے گا ملک میں مساوات ہوگی طبقاتی تقسیم کا وجود نہیں ہوگا وزیراعظم بھلے سائیکل پر پرائم منسٹر ہاؤس نہ جائے مگر ریاست مدینہ میں کسی کو کوئی الگ سے پروٹوکول نہ دیا جائے گا۔ کسی وزیر مشیر،گورنر،چیف کے گزرتے وقت سڑکیں بند کر کے عام لوگوں کو پریشان نہ کیا جائے گا۔روز گا ر عام ہوگا تو ہر گھر میں خوشیوں کے بسیرے ہوں گے۔ غریبوں کو چھت میسر ہوگی پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی عوام کو جان و مال کا تحفظ ہوگا۔قانون کا احترام ہوگا کوئی طاقت ور کسی کمزور کو تنگ نہ کر سکے گا بچوں کی تربیت ایسے ہوگی کہ راہ چلتی ہر خاتون خود کو محفوظ سمجھے گی۔خواتین کی عصمتیں محفوظ ہونگی۔قائد کے فرمان کے مطابق اسلامی اصولوں کو عملی طور پر ملک میں لاگو کر کے ایک نئے پاکستان کی شکل دنیا کے سامنے آشکار ہو گی۔

بقول ساحر لدھیانوی؎مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیں مگر اب تین سالوں میں سب کچھ بد سے بدتر ہو چکا ہے۔روز مرہ استعمال کی چیزوں کے نرخ بہت بڑھ چکے ہیں۔آپ مہینے میں دو بار پٹرول کی قیمتیں بڑھاتے ہیں تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ کسی کو نئی نوکری تو کیا ملتی پہلے سے ملازم پیشہ افراد کو نوکریاں بچانے کے لالے پڑئے ہو ئے ہیں۔وزیراعظم صاب آپ فرمایا کرتے تھے ملک میں مہنگائی ہو جائے تو سمجھو ایسا ہے اور نیچے ایسا ہو تو سمجھو اوپر ایسا ہے اور اب ملک میں مہنگائی تاریخ کو مات کررہی ہے اور نیچے بھی بالکل ویسا ہے جیسے جناب عمران خان آپ فرمایا کرتے تھے اور ہم بالکل ویسا ہی سمجھ رہے ہیں جیسے آپ نے ارشاد فرمایا تھا البتہ اب آپ ویسا نہیں سمجھ رہے نہ  مان رہے ہیں مجھے اور بھی تکلیف اس وقت ہوئی جب ایک محکمہ کا ریٹائر ڈ شخص کہہ رہا تھا صاحب میری بچی ایف ایس سی کرنا چاہتی ہے اسے کتابیں چاہئیں حالانکہ اسے پنشن بھی ملتی ہوگی اور وہ محنت مزدوری بھی کرتا ہے لیکن اپنی پنشن اور مزدوری سے اتنا نہیں بچا نہیں پاتا کہ اپنی بیٹی کو کتابیں لے کر دے سکے اسے آنکھوں کے ڈاکٹر کو چیک کرانا ہے لیکن اس کے پاس اپنی آنکھوں کے علاج کے لئے پیسے نہیں حالات تو یہ ہیں کہ مزدور تو رہے ایک طرف ایک ملازم پیشہ شخص کے لئے گھر چلانا محال ہوا تو مزدرو تو بے چارہ مجبور ہے ٹھیک ہے موجودہ حکومت نے کہیں کچھ درست اقدامات بھی  کئے ہیں لیکن اگر آپ کی حکومت کے تین سالوں کا جائزہ لیا جائے تو عوامی مسائل کے حل کے لئے پچھلی حکومتوں نے آپ کے مقابلے میں بہت کچھ کیا ہے پچھلے دور میں جب ڈینگی کی ہلاکت انگیزیوں کاسلسلہ جاری تھا

تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف تھے وہ اس ڈینگی کے حوالے سے اس قدر سنجیدہ تھے کہ انہوں نے آر پی اووز کی میٹنگ کال کی اور کہا کہ اپنے ڈی پی اوز کو ہدایت کردیں کہ کسی ضلع میں ڈینگی کا لاروا نہ پایا جائے حالانکہ یہ پولیس کام نہ تھاانہوں نے ڈینگی پر اس قدر کام کیا کہ انہیں ڈینگی برادران کہا جانے لگا اور جب خیبر پختونخوا میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز پر بات کی گئی تو جناب خان صاحب آپ نے فرمایا تھا کہ موسم بدلے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔اور سابقہ دور میں جب پنجاب کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے خیبرپختونخوا  میں اپنی سروسز فراہم کرکے عوام کے دکھوں کا مداوہ کرنا چاہا تو آپ کی حکومت کے لوگوں نے پنجاب کی طرف سے ملنے والی مدد قبول کرنے سے انکار کردیا۔گویا عوام کی صحت پر بھی آپ نے اپنی ضد کو قائم رکھا۔ خان صاحب آپ کو معلوم ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود اب ہمیں گندم، دالیں اور دوسری اجناس دوسرے ملکوں سے منگوانا پڑتی ہیں۔ایک طرف آبادی بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف آپ نے کنسٹرکشن کمپنیوں کو ہر سہولت سب سے پہلے دے کے ملکی زرعی زمینو ں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کی چھوٹ دے رکھی ہے، حالانکہ سونا اگلنے والی نہری اور زرعی زمینوں کو ہاوسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے پاکستان کے زرعی تشخص کو بچایا جائے غریب عوام کو معاشی ظلم سے نجات دی جائے بے رحم مافیا نے زمینوں کے ریٹس اس حد تک اوپر پہنچا دیئے ہیں کہ ایک غریب اور ملازمت پیشہ انسان اپنی چھت کا تصور بھی نہیں کر سکتا اس کا صرف ایک یہی منفی پہلو نہیں بلکہ اجناس کی پیداوار میں شدید کمی بھی ہے آخر زندگی کی بنیادی ضروریات یہی ہی لہٰذا بے رحم لوگوں کا محاسبہ کریں مبادہ دیر نہ ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -