جنوبی پنجاب کی پائیدانی سیاست 

جنوبی پنجاب کی پائیدانی سیاست 
جنوبی پنجاب کی پائیدانی سیاست 

  

ایک زمانہ تھا سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری جب پیپلزپارٹی کے جیالے تھے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی پجارو کے پائیدان پر لٹک کر جلوسوں میں شامل ہوتے تھے۔ آج چشمِ فلک نے یہ منظر دیکھا کہ ان کے بیٹے سردار اویس احمد خان لغاری مسلم لیگ (ن) کے ایک جونیئر رہنما حمزہ شہباز کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہو کر ان کے حق میں نعرے لگوا رہے تھے۔ شاید اویس لغاری یہ سمجھتے ہیں بڑی سیاسی جماعتوں کی خاندانی سیاست کے وارث ایسے پارس پتھر ہوتے ہیں کہ ان کی گاڑی کے پائیدان کو چھو لینے سے بھی ملک کی صدارت مل جاتی ہے، مگر مجھ میں اس منظر کو دیکھ کر ایک حیرت نے جنم لیا۔ سردار اویس لغاری کئی بار رکن اسمبلی اور وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا ایک سیاسی قد کاٹھ ہے، پھر وہ لغاری قبیلے کے سردار بھی ہیں، جو عام آدمی سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتا۔ اتنے بڑے مرتبے کے حامل کسی شخص کو یہ زیب دیتا ہے، وہ صرف سیاسی فائدے کے لئے وہ حرکت کرے جو عام سیاسی کارکنوں کو زیب دیتی ہے۔ کیا حمزہ شہباز کی عمر اور مرتبہ ایسا ہے کہ ان کی وہ شخص غلامی کرے جس کا والد ملک کا صدر رہا ہو اور جس نے خود اس وراثت کی وجہ سے کامیابیاں سمیٹی ہوں کسی سیانے کا قول ہے انسان اپنی عزت خود کراتا ہے اور خود گنواتا ہے۔ کسی دوسرے کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ کیا اویس لغاری نے سیاسی فائدے کے لئے گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہونے کی عادت اپنے والد سے سیکھی ہے؟ آج پورے جنوبی پنجاب میں ان کی یہ تصویر سوشل میڈیا کے ذریعے گردش کر رہی ہے لوگ اسے دھڑا دھڑ شیئر کر رہے ہیں، ان کا سوال یہ ہے جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں کی غلامانہ ذہنیت کب بدلے گی، کب وہ اپنے مقام کو پہنچانیں گے، کہنے کو وہ تختِ لاہور کی زنجیریں توڑنے کا نعرہ بہت لگاتے ہیں، جنوبی پنجاب کے عوام کو بڑے بڑے خواب دکھاتے ہیں مگر خود اسی تخت لاہور سے آنے والوں کی خوشامد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

مجھے یاد ہے جب سردار فاروق احمد خان لغاری کو بے نظیر بھٹو نے صدر مملکت کے لئے امیدوار نامزد کیا تو ہم چند صحافی ملتان سے ان کے بارے میں فیچر بنانے ڈیرہ غازیخان میں ان کے آبائی علاقے گئے۔ وہاں ہم نے جو باتیں لغاری خاندان کے بارے میں سنیں، بہت خوشی ہوئی کہ ایک دیندار شخص کو صدرِ مملکت بنایا جا رہا ہے۔ بتایا گیا کہ اپنے والد کی نمازِ جنازہ بھی سردار فاروق لغاری نے خود پڑھائی تھی، کیونکہ سب سمجھتے تھے ان سے زیادہ متقی اور پرہیز گار کوئی نہیں اب ایک طرف ان کی شخصیت کا یہ تاثر تھا اور دوسری طرف ہمارے ذہن میں ان کی وہ تصویریں گردش کرتی تھیں، جو بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد کے دوران وہ ان کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہو کر بنواتے رہے۔ خیر یہ وقت بھی گزر گیا مگر جب انہوں نے بطور صدر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی تو کسی کو یقین نہ آیا یہ وہی شخص ہے جو محترمہ کی تابعداری میں کوئی کسر اٹھا نہیں چھوڑتا تھا۔

لوگ کہتے ہیں سردار فاروق لغاری سے تو سید یوسف رضا گیلانی ایک بہتر سیاستدان ثابت ہوئے جنہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ چھوڑنی منظور کر لی، مگر سوئس کیس کھولنے کے لئے خط نہیں لکھا۔ فاروق لغاری پر بھی اگر پیپلزپارٹی کی حکومت ختم کرنے کے لئے کوئی دباؤ تھا تو انہیں اپنی صدارتی کرسی قربان کر دینی چاہئے تھی تاریخ میں ایک بے وفا اور معتوب کردار نہیں بننا چاہئے تھا۔ مگر شاید پائیدانی سیاست اتنی اخلاقی جرأت نہیں رہنے دیتی۔ ہم نے کئی لیڈروں کو اپنے پارٹی قائدین کی ڈرائیونگ کرتے دیکھا ہے، اس حد تک تو درست ہے، کیونکہ اس میں ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا ہے، مگر پائیدان تو پاؤں رکھنے کی جگہ ہے، وہاں جو کھڑے ہونے کو تیار ہو جائے وہ بوقت ضرورت اپنے فائدے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے اور سردار فاروق لغاری نے اس کی عملی مثال قائم کی ہے۔

اویس لغاری کو تھوڑا انتظار کرنا چاہئے تھا وہ بے شک اپنے والد کی روایت نبھاتے مگر اس کے لئے حمزہ شہباز کا پائیدان مناسب نہیں تھا، ہاں اگر شہباز شریف آتے، مریم نواز آتیں تو اس وقت اس پائیدانی سیاست کا مظاہرہ لوگوں کی نظر میں اتنا نہ کھٹکتا، اب تو ایسا لگتا ہے وہ بے صبری کا مظاہرہ کر گئے ہیں انہیں کم از کم اپنا مقام و مرتبہ تو پہچاننا چاہئے تھا۔ وہ حمزہ شہباز کی گاڑی چلانے کا مرتبہ ہی مانگ لیتے، جیسا کہ سید یوسف رضا گیلانی نے بلاول بھٹو زرداری کے دورہئ جنوبی پنجاب کے موقع پر کیا، وہ ڈرائیونگ سیٹ پر رہے۔ چلیں اس سے بندے کی تھوڑی بہت لاج تو رہ جاتی ہے۔ مگر خود ایک بڑے سیاسی خانوادے کا فرد ہو کر اور وزارتوں سے فیض یاب ہونے والا جب تخت لاہور سے آنے والے کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہو کر نعرے لگواتا ہے تو کم از کم اس کے عقیدت مند، اس کے پیروکار اور اس کے چاہنے والوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ پھر وہ ہو بھی اپنے قبیلے کا سردار جس کے آگے بڑے بڑوں کی گردن جھک جاتی ہے تو یہ منظر کوئی اور کہانی سنانے لگتا ہے۔

جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں کا یہ المیہ ہے، وہ صرف اقتدار ہی میں اپنا حصہ مانگتے ہیں اور اس کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ وہ جنوبی پنجاب کے حقوق کی بات نہیں کرتے کیونکہ اس سے انہیں کوئی سروکار ہے اور نہ ہی وہ اس کی جرأت رکھتے ہیں انہیں ڈر لگا رہتا ہے اگر جنوبی پنجاب کے لئے کچھ مانگ لیا تو کہیں اوپر والے ناراض نہ ہو جائیں۔ ان کے ذہن میں آج بھی یہ بات ہے انہیں اقتدار لاہور والوں کی وجہ سے ملتا ہے۔ تین برسوں سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ جنوبی پنجاب کے پاس ہے، عثمان بزدار نے کبھی عمران خان کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہو کر نعرے نہیں لگوائے، گویا اس بات کا اشارہ ہے، اقتدار کا ہما کسی وقت بھی کسی کے سرپر بیٹھ سکتا ہے۔ آج عثمان بزدار نے ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے لئے جتنا ترقیاتی کام کیا ہے، فاروق لغاری نے صدر مملکت بن کر بھی نہیں کیا تھا۔ سرداروں کے پاس پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ بھی رہی اور گورنری بھی مگر ان میں میں یہ جرأت نہیں تھی وہ اس علاقے کو اپنی مرضی سے فنڈز دے سکتے۔ عثمان بزدار نے کم از کم یہ کام تو کر دکھایا ہے۔ آج حمزہ شہباز جنوبی پنجاب میں یہ کہہ رہے ہیں وہ اس کا احساس محرومی دور کریں گے۔ حالانکہ یہاں احساسِ محرومی پھیلا ہی مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں ہے، کاش اویس لغاری پائیدانی سیاست کی بجائے حمزہ شہباز کے سامنے یہ بات کرتے مگر ایسی باتیں مفاداتی سیاست کے دور میں کون کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -