ایک کامیڈین اور ایک سولجر!

 ایک کامیڈین اور ایک سولجر!
 ایک کامیڈین اور ایک سولجر!

  

میں نے کئی بار اپنے سولجرز سے یہ سوال کیا کہ کیا آپ اخبار پڑھتے ہیں؟ ان کی اکثریت نے نفی میں سر ہلایا…… میرا دوسرا سوال ہوتا تھا کہ کیا یونٹ کے انفرمیشن روم میں اردو کا اخبار نہیں آتا اور اگر آپ نے میٹرک سیکنڈ ڈویژن میں پاس کرکے فوج جوائن کی ہے تو اخبار کی طرف کبھی رغبت ہوئی؟…… ان کا جواب ہوتا کہ ’رغبت‘ تو بہت ہوتی ہے، وقت نہیں ملتا۔ اس کے بعد بھی سوال و جواب کا سلسلہ چلتا رہتا۔ مجھے احساس ہوا کہ سولجرز کی ذمہ داریاں آج سے ربع صدی پہلے والے سولجر کی ذمہ داریوں سے بہت آگے نکل گئی ہیں۔ میرا انٹرایکشن جب بھی کسی حاضر نوکری سولجر سے ہوتا ہے تو میں اس قسم کے سوال کرکے فوج کی موجودہ معلوماتی نبض، معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے سولجر کے مسائل ماضی کے مقابلے میں بہت بڑھ گئے ہیں۔

موبائل اور سوشل میڈیا کی ٹیکنالوجی نے ہمارے سپاہیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ خبردار اور Informed کر دیا ہے۔ وہ جو ہم کہا کرتے تھے کہ میڈیا کا کام خواندہ (یا نیم خواندہ) قارئین کو مزید خواندہ بنانا ہے اور ان کو مزید انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہے تو یہ تاثر اب قصہ ء پارینہ بن چکا ہے۔ آج کا نیم خواندہ سولجر بھی عصرِ حاضر کے خواندہ سویلین نوجوانوں سے آگے بڑھ کر سوچتا ہے…… میں اس کی ایک حالیہ مثال آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

آج کا سولجر پوچھتا ہے کہ اخبار میں ہوتا کیا ہے۔ وہی خبریں جو ہم 20،24گھنٹے پہلے درجنوں نیوز چینل پر دیکھ اور سن چکے ہوتے ہیں، وہی اگلے روز اخباروں میں چھپ کر جب سامنے آتی ہیں تو باسی معلوم ہوتی ہیں …… اور آج کا سپاہی تو لنگر کی باسی روٹی نہیں کھاتا۔ باسی خبریں کیسے ہضم کر سکتا ہے؟

ایک یونٹ کی رجمنٹل پولیس (RP) کا ایک حوالدار اگلے روز مجھے ملنے آیا۔ اسے اپنی بیٹی کے داخلے کی فکر تھی۔ وہ مجھ سے سفارش کروانے آیا تھا۔ اس کو کسی نے شاید بتا دیا تھا کہ کرنل صاحب فلاں سکول کی پرنسپل کے والد کے دوست ہیں۔ یہ دوستی کی ”رشتہ داری“ اس نے کیسے معلوم کی اس کی تو مجھے کچھ خبر نہیں اور نہ ہی میں نے اس سے یہ پوچھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد جب وہ جانے لگا تو میں نے وہی پرانا سوال دہرایا کہ کیا آپ اخبار پڑھتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: ”ہاں پڑھتا ہوں اور اس دن کو کوستا ہوں جب میں نے فوج جوائن کی تھی“…… یہ سن کر میری حیرانی میں اضافہ ہوا اور پوچھا کہ فوج نے آپ کو آج تک کن کن تکالیف سے ’نوازا‘ ہے؟…… یہ سن کر اس نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر بولا: ”سر! مائنڈ نہ کرنا۔ میں ایک بات آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں“…… میں نے کہا کہ شوق سے پوچھو تو اس نے اندر کا پنڈورا بکس کھول کر میرے سامنے رکھ دیا: ”سر، چار پانچ روز پہلے پاکستان کے ایک کامیڈین عمر شریف کی جرمنی میں وفات ہوگئی۔ اس کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ اللہ کریم اس کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ وہ لوگوں کو ہنسایا کرتا تھا۔ بڑا عقل مند اور ہنس مکھ تھا۔ کہتے ہیں کئی فلموں اور ڈراموں میں کام کیا تھا۔ فی البدیہہ فقرہ بازی میں اس کا جواب نہ تھا۔ اس کو حکومت نے علاج کے لئے 4کروڑ روپے دیئے اور امریکہ جا کر دل کا آپریشن کروانے کے لئے ایک ہوائی جہاز بھی دیا۔ لیکن اس کی آئی ہوئی تھی اور سر! آپ کو معلوم ہے موت کا تو ایک دن اور وقت مقرر ہے۔ میں بھی مرحوم عمر شریف کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور ان کے پس ماندگان سے اظہارِ تعزیت کرتا ہوں۔ لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ جونہی اس کی وفات کی خبر آئی، سارا میڈیا خیبر میل بن گیا۔ اس کی یاد میں ٹاک شوز منعقد کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم اور دوسرے کئی زعما نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ لمحہ لمحہ کی خبریں آ رہی ہیں کہ اس کی میت فلاں وقت پاکستان پہنچے گی اور اسے کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی ؒکے مزار کے احاطے میں دفن کیا جائے گا…… میں دوسری بار اس کے لئے دعاگو ہوں کہ اللہ اس کو فردوس میں اعلیٰ جگہ عطا فرمائے……آمین!“

اتنا کہہ کر وہ RPحوالدار خاموش ہو گیا اور میں بھی سوگواری کے عالم میں چپ چاپ ہو کر سامنے خلا میں گھورنے لگا۔ جب 30،35 سیکنڈز گزر گئے اور وہ حوالدار خاموش رہا تو میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ لٹکا ہوا تھا اور داڑھی آنسوؤں سے تر تھی۔ میں نے سوال کیا کہ مرحوم سے کیا رشتے داری تھی؟…… ”اس سوال پر وہ سسکیاں بھرنے لگا اور کہا: ”سر! میری رشتے داری مرحوم عمر شریف سے نہیں تھی۔ میرا بھائی فوج میں تھا اور وہ ان چار شہیدوں میں شامل تھا جو کل سپن وام (شمالی وزیرستان) کے علاقے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان کی تصاویر جو ISPR نے میڈیا کو دی تھیں وہ آپ نے شاید دیکھی ہوں گی۔ سب شہداء نوجوان تھے، شادی شدہ تھے اور ہنستے کھیلتے گاڑیوں میں جا رہے تھے کہ دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔ میں آج اپنے گاؤں جا رہا ہوں۔ اپنی بھاوج اور بھتیجوں کو جا کر ملوں گا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہو کر مستقبل کا پروگرام بناؤں گا۔ لیکن سر!“……

اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔ ہچکیوں اور سسکیوں میں اضافہ ہو گیا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا: ”سر! کیا میرے مرحوم بھائی کی جان عمر شریف مرحوم سے اتنی ہی سستی تھی کہ میڈیا کے کسی چینل نے ان شہیدوں کے لواحقین سے رابطہ نہیں کیا۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ شہید، قوم اور وطن پر قربان ہو گئے۔ اس قسم کی قربانیاں پاک فوج ہر روز دے رہی ہے۔ ہم صرف پانچ دس سیکنڈز کی ایک خبر میڈیا پر دیکھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کہ ان مرحومین کے بھی کوئی رشتہ دار تھے، بال بچے تھے، بہن بھائی تھے۔ ان کی شہادت پر اب آرمی چیف ان کے گھروں میں جا کر تعزیت کریں گے اور اس کی ایک چھوٹی سی خبر بھی میڈیا پر لگ جائے گی۔ لیکن سر! کوئی کامیڈین ہو یا سولجر،اس کے مر جانے کا غم کیا یکساں دردناک نہیں ہوتا؟…… یہ اخبار او ریہ نیوز چینل اتنے بے حس کیوں ہیں؟ ان شہدا کی زندگی کی داستانیں اور ان کے ورثا کی وہ تمنائیں اور امنگیں جو ان سے وابستہ تھیں کیا وہ کسی کامیڈین کے لواحقین سے کم کرب انگیز تھیں؟“

وہ دیر تک میرے سامنے بیٹھا رہا اور روتا رہااور میں اسے چپ کراتا رہا۔ میرے پاس اس کو تسلی دینے کے لئے کوئی زیادہ الفاظ نہیں تھے اور نہ ہی میں نے مناسب سمجھا کہ مرحوم عمر شریف کی قومی خدمات اور اس حوالدار کے بھائی کی قومی خدمات کا موازنہ کروں۔خدا دونوں کو غریقِ رحمت کرے اور اس کے بھائی کے ساتھ جو اور تین سولجرز شہید ہوئے ان کے لواحقین کو بھی صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اخبارات کے اربابِ اختیار سے بھی میری گزارش ہے کہ وہ افواج پاکستان کے شہدا کی یاد میں کبھی کبھار ایک خصوصی ایڈیشن بھی شائع کر دیا کریں …… کامیڈین ہو کہ سولجر، دونوں کی جانیں ملک و قوم کے لئے جہاں سامانِ راحت و مسرت بنتی ہیں وہاں سرمایہء اشک و آہ بھی ہوتی ہیں!

مزید :

رائے -کالم -