وزیر اعلیٰ میگا ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے اعلان کر رہے ہیں، علاقائی سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کا کوئی پرسان حال نہیں!

وزیر اعلیٰ میگا ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے اعلان کر رہے ہیں، علاقائی سڑکوں ...

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

لاہور میں آج کل سیاسی موسم ٹھنڈا ہے، لیکن مون سون کا آخری جھٹکا ہوا کو گرم رکھے ہوئے ہے۔ یہاں گزشتہ ہفتے کے دوران کئی بار بارش ہوئی، لیکن یہ بھادوں والی ہی تھی کہ شہر کے بعض حصوں میں مینہ برستا تو دوسرے سارے حصے خشک رہتے جن علاقوں میں بارش ہو جاتی وہاں نکاسی آب کا مسئلہ بن جاتا بہر حال اس بارش سے ہمارے دوستوں کے کہنے کے مطابق موسم تو خوشگوار  کیا ہوتا، ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ جانے سے حبس ہو جاتا ہے اور خوامخواہ پسینہ بہتا رہتا ہے۔ خوشگوار موسم خبر ہی کی حد تک ہے، عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی اتنی بڑھ گئی کہ پہاڑ بھی تیز ترین بارش برداشت نہیں کر پاتے اور لینڈ سلائیڈنگ پریشانی کا باعث ہے، دنیا بھر کے موسم ایسے تبدیل ہوئے  کہ سمندر بھی بپھر جاتے ہیں اور اس کی تند لہروں کے سامنے وہ ترقی یافتہ ملک بھی بے بس نظر آتے ہیں جو خلاء کی تسخیر کے دعویدار ہیں۔ ہم پاکستانیوں کو بھی شدید بارشوں کا سامنا رہا ہے اور اب تو طوفان شاہین مجموعی طور پر مہربانی کر کے عمان کی طرف مڑ گیا، کراچی ٹھٹھہ تو بچ گئے۔ تاہم گوادر کے ماہی گیروں کو ضرور نقصان ہوا، بہر حال بات تو لاہور کی ہے یہاں درخت تو دھل گئے اور جھوم بھی رہے ہیں کہ ہماری انتظامیہ کو تو اس کی فکر ہی نہیں کہ عام دنوں میں یہ درخت اور پودے گرد اور دھوئیں سے اٹ جاتے ہیں۔

صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے دعوے دیکھیں اور سنیں کہ احساس ہوتا ہے کہ جلد ہی ہم بڑے خوشگوار موسم میں چین کی نیند سوئیں گے لیکن اس حکومت کی انتظامیہ اور اداروں کا یہ حال ہے کہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئیں، خصوصاً علاقائی سڑکوں کے گڑھے سواریوں اور گاڑیوں کے لئے عذاب بنے ہوئے ہیں، حال ہی میں پی ایچ اے کو خیال آیا اور انتظامیہ نے حکم جاری کیا  ہے کہ پتے اور ٹہنیاں جلانے پر سزا دی جائے گی۔ اس انتظامیہ کو معلوم نہیں کہ یہ حکم سابقہ ادوار سے چلا آ رہا ہے اور ہر تین ماہ بعد ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ایک نوٹیفیکیشن دہرا دیا جاتا ہے کہ دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت کوڑا جلانا منع ہے۔ لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہوا اور ملازم خود ہی ایسا کرتے ہیں، جبکہ شجر کاری کے نام پر بہت زیادہ گڑبڑ ہوتی ہے۔ دستاویزات میں جتنی تعداد کا ذکر کیا جاتا ہے عملی طور پر ان کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔ جب یہاں ڈنڈی ماری جائے گی تو پھر ان کی پرورش سے بھی لاپرواہی ہو گی۔ بہرحال ضلعی انتظامیہ کو علاقائی سڑکوں کی مرمت اور صفائی پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ جو شہریوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔

وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار ہر روز ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں اور یہ سب میگا پروجیکٹس ہوتے ہیں جن کی تکمیل میں سال دو سال اور زیادہ عرصہ لگتا ہے۔ جو کام روز مرہ کے ہیں وہ کون کرے گا اس پر کوئی توجہ نہیں، توقع ہے کہ ادھر بھی نظر ہو گی اور لوگ مشکل سے بچیں گے۔ وزیراعلیٰ نے پیر کے روز میٹروبس سروس میں 64 نئی بسوں کے فلیٹ کا افتتاح کیا جو چین سے خریدی گئی ہیں، ان کے چلنے سے روزانہ ڈیڑھ لاکھ مسافر مستفید ہوں گے۔ تاہم ان کی توجہ لاہور ٹرانسپورٹ کی طرف بھی تو ہونا چاہئے۔ جس کی بارہ سو بسیں محض اس لئے کوڑا بن گئی ہیں کہ موجودہ حکومت نے یہ سروس معطل کر دی تھی اور جلد بحال کرنے کے اعلان کے باوجود کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو ئی۔ یہ بسیں بالکل ناکارہ نہیں ہیں۔ مرمت کے بعد چل سکتی ہیں۔ ان کو نیلام کر کے نئی بسوں کا انتظام بھی تو کیا جا سکتا ہے۔

سیاست کا کیا ذکر کریں مسلم لیگ (ن) نے اپنے اراکین اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے لئے ڈویژنل کنونشن شروع کئے تھے ان کنونشنوں کے حوالے سے اختلافی خبریں چلیں۔ تاہم حمزہ شہباز کی شرکت سے ایک بار پھر دب گئیں وہ اب جنوبی پنجاب کا دورہ کر رہے ہیں اور ان کے والد قائد حزب اختلاف علالت کے باعث آرام کر رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی نے مہنگائی کے حوالے سے کچھ حرکت شروع کی تھی۔ لیکن تنظیمی امور کی گڑبڑ نے بات آگے نہیں بڑھنے دی اور نہ ہی وسطی پنجاب کے صدر کو کوئی فکر ہے۔ وہ آسمانی من و سلوی کا انتظار کر رہے ہیں۔

مہنگائی کے بارے میں سوچنا بلڈپریشر خراب کرنے کے مترادف ہے کہ روزانہ ہر ضرورت کی شے مہنگی ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال مرغی کا گوشت ہے جو ایک روز میں 30 روپے فی کلو مہنگا ہوا ہے۔ پیاز اور ٹماٹر روزمرہ کے استعمال کی سبزی ہے اس کے نرخ ہر روزبڑھ جاتے ہیں اب کیا بات کی جائے کہ سرکاری مشینری سطحی کام کرتی ہے۔ رسد، طلب اور پیداوار کا تخمینہ لگا کر تھوک نرخوں سے اہتمام نہیں کیا جاتا۔

 بارش ہوتی ہے تو ہوا میں نمی بڑھ جاتی اور حبس سے پسینے چھوٹ جاتے ہیں 

شہباز شریف کمر درد کے باعث آرام کر رہے ہیں، حمزہ جنوبی پنجاب کے دورے پر، راجہ پرویز اشرف متحرک نہیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -