فیس بک اور ویٹس ایپ وغیرہ کی اچانک بندش،وفاقی دارالحکومت میں افواہیں!

فیس بک اور ویٹس ایپ وغیرہ کی اچانک بندش،وفاقی دارالحکومت میں افواہیں!

  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں واٹس ایپ،فیس بُک اور انسٹا گرام کی سروس دو  روز قبل یکایک بند ہونے سے وفاقی دارالحکومت میں ابتدائی طور پر کئی قیاس آرائیوں نے جنم لیا،کیونکہ شہر اقتدار کا مزاج کچھ ایسا ہی ہے۔یہ شہر اپنے جنم سے آج تک پاور پالیٹکس ہی دیکھتا چلا آ رہا ہے،جس میں ہر روز سیاست کا موسم بدلا ہوا نظر آتا ہے،بلکہ کسی ایک واقعہ سے پوری سیاست ہی بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قیاس آرائیوں کا بازار ہر دم گرم نظر آتا ہے۔ڈان لیکس اور پانامہ پیپرز نے ملکی سیاست ہی کو تبدیل کر کے رکھ دیا تھا،اب رہی سہی کسر پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس کھلنے پوری ہو گئی ہے۔اس بڑے مالیاتی لیکس میں بھی حسب ِ معمول پاکستان کے مالی وسائل پر قابض اشرافیہ کی چیدہ چیدہ شخصیات شامل ہیں۔پاکستان نے عمومی طور پر جتنے بھی سیاسی ادوار دیکھے ان میں ملکی معیشت کا ایک ہی ماڈل دیکھنے کو ملتا ہے،یعنی غریبوں سے ٹیکس وصولی اور امیروں و مراعات یافتہ طبقہ کو بیل آؤٹ کیا جائے یا نوازا جائے۔اس کے نتیجے میں پانامہ پیپرز  ہوں یا پنڈورا پیپرز ملکی وسائل پر قابض شخصیات کے نام ہی سامنے آئیں گے، جس کی وجہ سے ایک طوفان بپا ہوا ہے، لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ پاکستان جیسا ملک جو اپنے ”معاشی ماڈل“ کی وجہ سے ہر وقت نازک دور سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ایسے واقعات کا منطقی انجام پر پہنچنا خاموشی ہی ہوتا ہے۔ اس اثنا میں کوئی نیا واقعہ یا حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔یہی حال پانامہ پیپرز کا ہوا تھا۔پانامہ پیپرز صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر پاکستان مسلم لیگ(ن) یا پھر بالخصوص شریف خاندان کے لیے قیامت ثابت ہوا۔پانامہ پیپرز میں باقی جو لوگ تھے وہ معمول کے مطابق اپنی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔اب کی بار بھی اسلام آباد میں بہت شور مچا ہوا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے حسب ِ روایت فوری ایکشن لیتے ہوئے پنڈورا پیپرز تحقیقاتی سیل قائم کر دیا ہے۔ وزارت قانون کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان تحقیقات کے ”ٹی آر اوز“ تیار کئے جائیں۔اعلان کیا گیا ہے کہ پبلک ہولڈرز کے غیر ظاہر شاہ آف شور اثاثوں کے مقدمات نیب اور ایف آئی اے اور دیگر افراد کے معاملات کی ایف بی آر چھان بیان کرے گا۔ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر نے دانت تیز کر لئے ہیں۔ ملک کے اندر جاری معاشی کساد بازاری میں  ان کے  لئے نئے مواقع نظر آ رہے ہیں، جبکہ اہل ِ اقتدار کے بارے میں گمان ہے کہ اس نئے پنڈورا باکس سے سیاسی مفادات کے نئے امکانات تلاش کریں گے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ پنڈورا پیپرز میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا تعلق زندگی کے مختلف شعبہ جات سے ہے،جبکہ حکومت کے اندر بھی ایسی شخصیات کی ایک بڑی تعداد ڈھٹائی سے براجمان ہے،مفادات کے تصادم کا اصول ہو یا پھر کسی ممکنہ تحقیقات پر اثر انداز ہونے کا معاملہ ہو، اہل ِ اقتدار اس حمام میں اکٹھے ہیں،نہ ان پرکوئی اخلاقی دباؤ ہے،جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کی جانب سے پنڈورا پیپرز پر تحقیقات کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی،اے این پی سمیت تمام جماعتوں نے اسے تقریباً مسترد ہی کر دیا ہے،تاہم اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ پنڈورا پیپرز سے ملکی سیاست پر اثرات مرتب ہوں،ملکی سیاست کی تراش خراش کے لئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں پنڈورا پیپرز کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق تحقیقاتی ادارے  نئے سرے سے کمر بستہ ہو رہے ہیں تو ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر نے استعفیٰ داغ دیا ہے۔سابق پولیس افسر حسین اصغر بھی ایک منفرد شخصیت ہیں انہیں شاید یکطرفہ احتساب کے عمل سے اطمینان نہیں تھا۔جڑواں شہروں میں بعض اہم ترین کاروباری شخصیات پر ہاتھ نہ ڈالنے کی اجازت نہ ملنے سے بھی وہ پہلے ہی سے بددل تھے۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت پنڈورا پیپرز کے تحقیقاتی سیل کس طرز پر فعال کرتی ہے اس تحقیقات کے آئندہ عام انتخابات پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ اگرچہ ملک میں پنڈورا پیپرز کے حوالے سے احتساب کے ایک نئے مرحلہ کا آغاز ہوا چاہتا ہے، لیکن چیئرمین نیب کی تقرری یا موجودہ چیئرمین کے عہدوں میں توسیع بھی ایک اہم ترین  ایشو بن کر سامنے آ رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان موجوہ چیئرمین نیب کے عہدہ کی توسیع پر مصر نظر آتے ہیں،جبکہ حکومت اس اہم ایشو پر اپوزیشن کے تحفظات کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔اب دیکھنا ہے کہ یہ ایشو کس کروٹ بیٹھتا ہے،کیونکہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین عدم تعاون اور عدم اعتماد کی خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔حکومت کی طرف سے حال ہی میں تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو بھی اپوزیشن آڑے ہاتھوں لے رہی ہے اور ملک میں مہنگائی کا ایک نیا سیلاب آتا نظر آ رہا ہے۔فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا بھی بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے، سٹاک مارکیٹ میں مندی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کامیاب جوان پروگرام کے اجرا پر ایک تقریب سے خطاب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ مہنگائی سے لوگ تکلیف میں ہیں لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک کی نسبت گندم، چینی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں باقی دنیا کی نسبت کم بڑھائی ہیں،جبکہ اپوزیشن اور بعض آزاد معاشی ماہرین اس دعوے کو رد کر رہے ہیں،تاہم حکومت عام آدمی کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے بجائے غریب افراد کو ٹارگٹ سبسڈی کے منصوبے پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کا تعلق خطے کی صورت حال سے بھی جوڑا جا رہا ہے،کیونکہ افغانستان کی امداد بند ہے،بلکہ امریکہ سے ایسے اشارے سامنے آ رہے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ افغان صورت حال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں ملکی معیشت پر بے یقینی کے سائے نظر آ رہے ہیں،افغانستان میں امریکی شکست اور طالبان کی فتح کا ابھی ہنی مون ختم نہیں ہوا کہ پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان بھی سر اٹھانے لگی ہے، جبکہ وزیراعظم عمران خان  نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستان طالبان کے ایک گروپ سے مذاکرات جاری ہیں اور انہوں نے ہتھیار پھینکنے والوں کے لئے عام معافی کا یکطرفہ اعلان کر کے ایک بڑی رعایت دے دی ہے،لیکن بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی یک طرفہ رعایت اپنی کمزوری کی علامت نظر آتی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وطن کی مٹی کی حفاظت کے لئے قربانی دینے والے فوجی جوانوں کو اعزازات سے نوازا،جس میں فوجی جوانوں کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔

پانامہ کے بعد پنڈورا پیپرز، ہنگامہ برپا ہو گیا،کیا پانامہ کی طرح یہ بھی خاموشی سے گذر جائے گا،سیاسی اثرات تو ہوں گے

تحریک طالبان سے مذاکرات کی بات، یہ طالبان تو پھر سے سر اٹھا رہے ہیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -