پشاور سمیت خیبر میں امن و امان کی صورت حال مخدوش، سکھ حکیم کے قتل پر برادری سراپا احتجاج!!

 پشاور سمیت خیبر میں امن و امان کی صورت حال مخدوش، سکھ حکیم کے قتل پر برادری ...

  

خیبرپختونخوا میں بالعموم اور صوبائی دارالحکومت پشاور میں بالخصوص امن و امان کی صورت حال روز افزوں دگرگوں ہوتی جا رہی ہے۔ چوری،ڈکیتی، قتل اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد دہشت گردی کا ناسور بھی سر اٹھا رہا ہے، گزشتہ ہفتے میں تو اوپر تلے کئی واقعات رونما ہوئے، جن کے بارے میں بعض ذرائع کا کہناہے کہ یہ سرحد پار سے آنے والی انتہا پسندی کی لہر کا تسلسل ہے۔ اس بارے حتمی رائے تو شواہد سامنے آنے کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے تاہم جہاں تک لا اینڈ آرڈر کی مجموعی صورت حال کا تعلق ہے تو اسے کسی طور بھی اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، خصوصاً ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے تو لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔  ابھی دو روز قبل پشاور میں چارسدہ بس اسٹینڈ کے قریب  فائرنگ کرکے سکھ حکیم ستنام سنگھ کو قتل کردیا گیا، فقیر آباد تھانے کی حدود میں ان کے کلینک  کے اندر نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے  کہ نامعلوم ملزمان نے ستنام سنگھ پر فائرنگ کی اور جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے۔ مقتول کے بھائی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ  ستنام سنگھ محلہ جوگن شاہ میں اپنے گھر سے کلینک گئے تھے جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے انہیں قتل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ستنام سنگھ کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، شاید انہیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، وہ  شادی کی غرض سے  وطن واپس آیا تھا۔ پولیس  واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم تفتیشی افسر کا کہنا تھاکہ فی الوقت یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات ہیں۔ اگر چہ  وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ستنام سنگھ کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور  سٹی پولیس کو واقعے میں ملوث ملزمان کو تلاش کرکے ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا لیکن کئی روز گزر جانے کے باوجود تفتیشی ادارے اس واقعے کا سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ صرف اتنا کہا جا رہا ہے کہ ہم قتل کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں اور جلد تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں گی۔ دیکھتے ہیں کہ حکیم ستنام سنگھ کی ہلاکت کے پس پردہ حقائق کیا نکلتے ہیں۔

دوسری جانب  یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ   انتہا پسند تنظیم  داعش نے حکیم ستنام سنگھ کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی اور کہا ہے کہ 45 سالہ ستنام سنگھ کو ان کے اراکین کی جانب سے قتل کیا گیا ہے۔ یوں تو وزارت داخلہ کے  حکام کی جانب سے ملک میں داعش کی کسی منظم موجودگی سے انکار کیا جاتا  رہا ہے  لیکن مذکورہ گروپ نے حالیہ برسوں میں سیکیورٹی فورسز، مساجد، سیاسی ریلیوں، اور مذہبی اقلیتوں پر متعدد حملوں کا دعوی کیا اور ذمہ داری بھی قبول کی۔ سکھ برادری نے اپنے ساتھی کے اندوہناک قتل پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت خصوصی عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جائے۔  ستنام سنگھ ایک حکیم تھے جو گزشتہ 20 سال سے پشاور میں مقیم تھے اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات کو فروخت کرکے ایک چھوٹا کلینک چلا رہے تھے۔ 

دوسری جانب افسوسناک اطلاعات مل رہی ہیں کہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں امن و امان کی صورت حال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ خراب ہے اور گزشتہ آٹھ دس روز کے دوران تو دہشت گردی کے کئی واقعات رونما ہوئے، اگرچہ سیکیورٹی اداروں نے حملہ آوروں سمیت مشتبہ گروہوں کے خلاف بھرپور آپریشن بھی کیا لیکن ان واقعات میں کئی افراد مارے گئے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر و اہلکار بھی شامل ہیں۔   دوران آپریشن کئی جنگجو بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ٹھکانے ختم کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی گئی لیکن ان مقامات پر امن و امان مکمل طور پر کئی روز بعد بھی بحال نہیں کیا جا سکا۔ شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے میں فرنٹیئر کورکے چار جوان اور ایک لیویز سب انسپکٹر شہید ہوگئے جبکہ   وزیرستان میں آئی ای ڈی دھماکا کے نتیجہ میں دو فوجی جوان شہید ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں، ان  سیکیورٹی اہلکاروں میں چارسدہ کے 35 سالہ حوالدار زاہد، کرم ایجنسی کے 37 سالہ حوالدار اسحاق،  28 سالہ لانس نائیک عبدالمجید، خیبر ایجنسی کے 28 سالہ لانس نائیک ولی اور اسپن وام کے 38 سالہ سب انسپکٹر جاوید شامل ہیں۔ 

اس سے قبل جمعرات کو خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس اطلاع پر کیے گئے آپریشن میں پاک فوج کے کپتان   27سالہ کیپٹن سکندر  بھی جام شہادت نوش کر گئے تھے جبکہ  2 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔  شمالی وزیرستان میں مبینہ دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا جوان 30 سالہ محمد عامر اقبال شہید ہوگیا۔ یہ اطلاع خوش آئند ہے کہ قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں متحرک دہشت گرد گروپ نے حکومت کے ساتھ امن کے لیے 20 روز تک دشمنی کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔  حافظ گل بہادر کی قیادت میں شمالی وزیرستان کے شورا مجاہدین گروپ نے دو ہفتے قبل حکومتی مصالحت کاروں سے باقاعدہ مذاکرات کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اس گروپ کا کہنا تھا کہ دشمنی کا خاتمہ قبائلی ضلع میں امن کے لیے اس کی 'سنجیدگی' کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اعلان وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ ان کی حکومت نے تشدد کے خاتمے کے لیے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مختلف گروپوں سے 'مفاہمتی عمل' کا آغاز کیا ہے۔ یہ نیک شگون ہے لیکن امن و امان کی صورت حال صحیح معنوں میں اس وقت معمول پر آئے گی جب ٹی ٹی پی سمیت دیگر انتہا پسند تنظیمیں مفاہمی عمل پر عمل پیرا ہو کر مستقل ہتھیار پھینک دیں اور جنگ بندی کو دل سے قبول کریں۔

ٹارگٹ کلنگ سے  شہریوں کا جینا محال، قبائلی علاقوں میں دہشت گردی نے سر اٹھا لیا

وزیرستان میں آپریشن کے باوجود کئی سیکیورٹی افسر و اہلکار شہید، کئی شہری بھی زندگی کی بازی ہار گئے

ٹی ٹی پی کا مصالحت کاروں سے مذاکرات کے بعد 20 روزہ جنگ بندی کا اعلان خوش آئند ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -