موبی لنک بینک نے مالیاتی فروغ کیلئے پالیسی تجاویز پیش کردیں 

موبی لنک بینک نے مالیاتی فروغ کیلئے پالیسی تجاویز پیش کردیں 

  

لاہور(پ ر)پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل بینک، موبی لنک مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ (ایم ایم بی ایل) نے ملک میں مالیاتی شمولیت کے فروغ کے لیے تحقیق اور دور رس اثرات پر مبنی 9 نکاتی پالیسی تجاویز پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پالیسی تجاویز میں صنفی تنوع و شمولیت، چھوٹے قرضے اور چھوٹے و درمیانی کاروبار کے لئے مالی وسائل کی فراہمی، ہاؤس فنانس، زراعت کے لئے مالی وسائل، ڈیجیٹل قرضے، ادائیگیاں، بچت اور انشورنس کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ موبی لنک مائیکروفنانس بینک کے صدر اور سی ای او، غضنفر عزام نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک (پی ایم این)، جاز پاکستان، ویون کے اعلیٰ حکام کے علاوہ ذرائع بلاغ کے نمائندوں کی موجود گی میں اس 9 نکاتی ایجنڈے کا باضابطہ اعلان کیا۔  اس تقریب میں ایم ایم بی ایل کے پریذیڈنٹ اور سی ای او، غضنفر عزام نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، ”عالمی وباء کووڈ۔19 کے باعث اب پاکستان کے لئے مجموعی سماجی و معاشی ترقی کے لئے پائیدار بنیادوں پر مکمل ڈیجیٹل تبدیلی کی قبولیت ناگزیر ہوگئی ہے۔ ملک میں مالیاتی سہولیات کی فراہمی میں قائدانہ کردار کے حامل ادارہ اور سب سے بڑے ڈیجیٹل بینک کے طور پر ایم ایم بی ایل نے ان اہم شعبوں کی نشاندہی کی جہاں فوری بنیادوں پر کام کرکے ہر پاکستانی تک مالیاتی خدمات کی رسائی ممکن ہوگی۔ ان شعبوں سے مالی رسائی ملکی معیشت کے لئے انقلابی تبدیلی ثابت ہوگی۔ ہم پاکستان کی ترقی میں اپنے کردار کی ادائیگی کے لئے پرعزم ہیں۔

“ایم ایم بی ایل کے چیف فنانس اور ڈیجیٹل آفیسر، سردار محمد ابوبکر نے کہا، "عوام کی ضروریات کے حل کے لئے مالیاتی سہولیات پر لازمی گفتگو ہونی چاہیئے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ڈیجیٹل طریقے سے سب کو یکساں مواقع حاصل ہوں گے اور درست طریقے سے ڈیجیٹل مالیاتی سہولت کی بدولت خواتین کو مالیاتی خدمات کی رسائی اور تمام اہم چھوٹے و درمیانی کاروباروں کی مالی وسائل تک رسائی سے غربت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔ نیشنل ڈیجیٹل ایگزیکیوشن پلان اور پبلک پرائیویٹ اشتراک سے اس ایجنڈے کو بہترین انداز سے آگے بڑھانے میں مد مل سکتی ہے۔" ایم ایم بی ایل تمام افراد بالخصوص خواتین کو بینکنگ خدمات کی فراہمی کی پرزور حمایت کرتا ہے اور چھوٹے و درمیانی کاروبار وں (ایس ایم ایز) کو باسہولت انداز سے سرمایے کی فراہمی کی سہولت فراہم کرتا ہے، ایس ایم ایز ملکی قومی پیداوار کا تقریبا 40 فیصد اور لیبر فورس کا 80 فیصد حصہ ہے۔ اس دستاویز میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت پر بھی زور دیا گیا ہے جس کے باعث مستقبل میں ڈیجیٹل فنانس کا نمایاں کردار اور ترقی سے ملک کی ڈیجیٹل معیشت نئے انداز سے آگے بڑھے گی۔ یہ پالیسی دستاویز حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ بینکوں کی جانب سے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم جیسے اقدامات کے طور پر ہاؤسنگ سیکٹر میں قابل ذکر اصلاحات کا اعتراف کرتی ہے۔ اس دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ عوام کے لئے سستی رہائش انتہائی اہم ہے اور ان کاوشوں کے لئے ہاؤسنگ فنانس میں اصلاحات اور جدید طریقہ کار کا ملاپ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 

مزید :

کامرس -