سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی  کیخلاف درخواستوں کی مزید  سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی 

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی  کیخلاف درخواستوں کی مزید  سماعت 8 اکتوبر تک ...

  

 لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمد امیر بھٹی،جسٹس ملک شہزاد احمد خان،جسٹس مس عالیہ نیلم،جسٹس شہباز رضوی،جسٹس سردار احمد نعیم،جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل 7رکنی فل بنچ نے ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف دائر درخواستوں کی مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کردی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فاضل بنچ کے رکن مسٹرجسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ جے آئی ٹی سے متعلقہ تمام ریکارڈ پہلے ہی ریکارڈ پر لایا جائے تاکہ عدالت کا وقت بچ جائے،جس پر سرکاری وکیل نے ریکارڈ عدالت میں پیش کردیاجبکہ عدالتی حکم پردرخواست گزاروں کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے بھی تحریری جواب داخل کروادیا،مسٹرجسٹس ملک شہزاد احمدخان نے اعظم نذیرتارڑ سے استفسارکیا کہ آگاہ کیا جائے کیا نئی جے آئی ٹی بنانے ضروری تھی یا نہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نئی جے آئی ٹی بنانے کیلئے کابینہ کی منظوری ضروری تھی،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں کی جاسکتی تھی وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ معاملہ ایمرجنسی ہونے کی وجہ سے وزراء کی زبانی منظوری لی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے سپریم کورٹ کاکوئی حکم موجود نہیں ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ میں صرف یہ بیان دیاکہ نئی جے آئی ٹی تشکیل دی جارہی ہے پہلی ایف آئی آر پر ایک جے آئی ٹی بنائی گئی تھی دوسری ایف آئی آر میں 17 نومبر 2014ء میں دوسری جے آئی ٹی بنائی گئی، اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کسی بھی جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے،دوسری جے آئی ٹی پہلے بنائی گئی اور اسکی منظوری بعد میں لی گئی،وزیراعلیٰ پنجاب نے نئی جے آئی ٹی بنانے کی زبانی منظوری دی،جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے تحریری کارروائی بعد میں کی گئی،انہوں نے جواب میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے کابینہ کی منظوری ضروری نہیں،سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق صوبائی حکومت سے مراد کابینہ سے مشاورت ہے چیف جسٹس نے اعظم نذیر تارڑ کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت آج کابینہ سے منظوری لے کر نئی جے آئی ٹی بنا دیتی ہے تو کیا ہو گا،آپ پھر نئی جے آئی ٹی کو چیلنج کریں گے لیکن کسی نئے انداز سے کریں گے،پھر آپ کا آج والا سوال تو  ختم ہو گیا کہ کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی،اعظم نذیرتارڑ نے کہاکہ اگر سپریم کورٹ دونوں پارٹیوں کو سن کے جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کرتے تو ہم کیس فائل نہ کرتے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے بیان کی روشنی میں سپریم کورٹ نے معاملہ نمٹایا تھا کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے میں موجود ہیں کو چالان جمع ہونے اور ٹرائل شروع ہونے کے بعد دوبارہ تحقیقات نہیں ہو سکتیں،عدالتی حکم پردوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیااعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ وزیراعظم یا وزیرِ اعلیٰ اگر کابینہ کی منظوری کے بغیر آرڈر جاری نہیں کر سکتا، بغیر کابینہ کی منظوری کے حکم کی  قانونی حیثیت سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بیان کر دی  فاضل بنچ نے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 8اکتوبر پر ملتوی کردی۔ 

جے آئی ٹی

مزید :

صفحہ آخر -