وکلاء اور عدالت ایک ہی ادارے کا حصہ، دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے: چیف جسٹس

  وکلاء اور عدالت ایک ہی ادارے کا حصہ، دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے: ...

  

           لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزاراحمد نے کہاہے کہ جو توقع وکلاء عدالت سے رکھتے ہیں وہی توقع عدالت وکلاء سے رکھتی ہے،وکلا ء اور عدالت ایک ہی ادارے کا حصہ ہیں،وکلا ء کے بغیر عدالت نہیں چل سکتی عدالت کے بغیر وکلا ء نہیں چل سکتے،ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب بارکونسل کے تحت وکلاء کے تحفظ کے قانون کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا،چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بعض وکلاء کیس کے مطابق تیاری کر کے نہیں آتے، ہمیں بھی وکلا ء سے کافی شکایت ہوتی ہے کہ وہ کیس کی تیاری فائل کے مطابق نہیں کرتے، ایسے سینئر ممبران بھی ہیں جو ایوانوں میں بیٹھے ہیں وہ وکلا ء کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں،وکلا ء کی ہاؤسنگ سوسائٹی کا معاملہ بھی حل ہوچکا ہے،وکلا برادری سے ملاقات میں حالات کا پتہ چلتا رہتا ہے،وکلاء کو بہتر سے بہتر وکالت کرنے کے لیے سہولیات ملنی چاہئیں،پنجاب بار نے جو ایکٹ بنایا میں نے اس کا جائزہ لیا ہے، آج کا پروگرام وکلا کے تحفظ کے حوالے سے ہے،وکلا اور عدالت ایک ہی  ادارے سے تعلق رکھتے ہیں،کورونا کی وجہ سے بہت سے وکلا کو مالی پریشانیاں اٹھانا پڑیں،وکلا کو ہر جائز سہولت فراہم کی جانی چاہیے،وکلا ء کے تحفظ کے ایکٹ پر جو مجھ سے ہو سکے گا وہ کروں گا،اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمد امیر بھٹی نے بھی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا ء نے قلم کیوں چھوڑ دیا،ہمیں قلم کی طرف واپس آنا ہو گا،لہجے میں شائستگی پیدا کرنا ہو گی،وکلاء کی چیمبر میں تربیت جب تک واپس نہیں آئے گی تب تک فائدہ نہیں ہو گا،زیر تعلیم وکلا ء کو سیاست کے لئے سینئر وکلا بلا کر اپنی الیکشن کمپین چلاتے ہیں،ایک وکیل نے فیس نہ دینے پر موکل کو قتل کر دیا،وکلا ء کے تحفظ کے لیے ایکٹ بنایا جا رہا ہے مگر وکلا ء کے ایسے اقدامات روکنے پر بھی غور کیا جائے،میرے چیف جسٹس ہونے تک سب سے یکساں سلوک کیا جائے گا۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ آخر -