پنجاب حکومت نے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی، سعد رضوی کی دوسری نظر بندی انتہائی مضحکہ خیز: لاہور ہائیکورٹ

پنجاب حکومت نے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی، سعد رضوی کی دوسری نظر بندی ...

  

           لاہور(نامہ نگار)لاہور ہا ئی کورٹ نے تحریک لبیک کے سعد رضوی کی نظر بندی کالعدم قراردینے سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، مسٹرجسٹس طارق سلیم شیخ نے سعدرضوی کے چچاردرخواست گزار امیرحسین کی درخواست پر23صفحات پرمشتمل یہ فیصلہ جاری کیاہے،عدالتی فیصلے میں کہا گیاہے کہ پنجاب حکومت نے سعد رضوی کے کیس میں قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا، پنجاب حکومت نے انتہائی مضحکہ خیز انداز میں سعد رضوی کی دوسری نظر بندی کی منظوری دی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے نظر بندی کا معاملہ کابینہ میں بھجوایا اور مکمل وزراء کی رائے موصول ہونے سے قبل اسے کابینہ کی منظوری قرار دیدیا، نظر بندی کے معاملے پر کابینہ کے کچھ اراکان کو سمری پر 2 روز اور کچھ کو 3 روز میں رائے دینے کا کہا گیا، کابینہ کے اراکین کی منظوری کی سمری 13 جولائی کو ہوئی اور نظر بندی کا نوٹیفکیشن 10جولائی کو تین روز قبل جاری کیا گیا، وزیراعلیٰ اگر ایک معاملہ کابینہ کو بھجوا دے تو اسے وجوہات کیساتھ ہی واپس لیا جا سکتا ہے، عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیاہے کہ وزیر اعلیٰ کابینہ بھجوائے گئے معاملے پر اپنی خواہش کی بنیاد پر واپس نہیں ہٹ سکتا، کابینہ میں بھجوانے کے بعد معاملے پر بلاوجہ یو ٹرن نہیں لیا جا سکتا، سعد رضوی کی نظر بندی کی سمری پر پنجاب کابینہ کے 36 وزراء میں سے 19 وزراء نے غیر سنجیدگی سے جواب دیا، پنجاب کابینہ کے صرف 3  وزراء نے نظر بندی کی سمری پر منظوری کا لفظ لکھا جبکہ باقی 16 وزراء نے محض دستخط کئے، کابینہ کسی معاملے کو سرکولیشن کے ذریعے نہیں نمٹا سکتی، رولز آف بزنس وزراء کو سمری پر رائے دینے کا پابند بناتے ہیں، کابینہ نے نظر بندی کی سمری 13 جولائی کو دی اور نظر بندی کا نوٹیفیکیشن 10 جولائی کو تین روز پہلے ہی جاری کر دیا گیا، کابینہ کی منظوری کے بغیر ڈپٹی کمشنرز کو نظر بندی کے اختیارات ماضی سے دینے میں بے ضابطگیوں کو نظر انداز کرنے کی دلیل غلط ہے، صوبائی قانون کے تحت نظر بندی ختم ہونے کے وفاقی قانون کے تحت نظر بندی کی جا سکتی ہے، صوبائی نظر ثانی بورڈ نے حکومتی ریفرنس میں سعد رضوی کی نظر بندی کی ایک ایک وجہ کو خدشات کی بنیاد قرار دے کر مسترد کیا تھا، سعد رضوی کی صوبائی اور وفاقی نظر بندی کی وجوہات میں کوئی فرق نہیں پایا گیا، سعد رضوی کی دوسری نظربندی کی وجوہات مختلف ہونے پر نظر بندی کو جائز قرار دیا جا سکتا تھا، عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیاہے کہ ریاست نے سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال رکھا ہے، فورتھ شیڈول قانون کے تحت ریاست سعد رضوی کی نقل و حرکت کو محدود کر سکتی ہے، تحریک لبیک کے سربراہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں بھی ریاست پر کوئی قدغن نہیں ہے، نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور دوسری نظربندی کے آرڈز نے سعد رضوی کے بنیادی آئینی حقوق کو مزید محدود کر دیا،قانونی اعتبار سے کسی کی بھی نظر بندی قانون کے محدود اصولوں کے تحت ہی کی جا سکتی ہے، حالات و واقعات اس کیس میں سعد رضوی کے حق میں نظر آئے ہیں، فاضل جج نے فیصلے کا آغاز سنگا پور کے سابق سیاست دان کی قانون کی بالا دستی سے متعلق تقریر کے اقبتاس سے کیا،فیصلے میں سنگاپورسیاستدان کی تقریر کے اقتباس کاحوالہ دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ قانون کی حکمرانی کے نظریہ میں پہلا جز ریاست کے اختیارات میں واضح حدود مقرر ہونی چاہئیں، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، قانون کی نظر میں ہر کوئی برابر ہوتا ہے، انفرادی حقوق کا تحفظ بھی قانونی کی حکمرانی کے نظریہ کا تیسرا جز ہے۔

لاہورہائیکورٹ 

مزید :

صفحہ آخر -