1950سے 2021تک، فرانس کے گر جا گھروں میں 2لاکھ 16ہزار بچوں کا جنسی استحصال 

  1950سے 2021تک، فرانس کے گر جا گھروں میں 2لاکھ 16ہزار بچوں کا جنسی استحصال 

  

      پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں گرجا گھروں میں پادریوں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے چشم کشا تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق 1950 سے 2020  فرانس میں کیتھولک گرجا گھروں میں مجموعی طور پر بچوں سے بدفعلی کے 2 لاکھ 16 ہزار واقعات ہوئے، بچوں سے بدفعلی میں چرچ کے 3200 پادری اور دیگر ارکان ملوث رہے۔ متاثرہ بچوں کی عمریں 9 سے 13 برس کے درمیان تھیں جبکہ ان میں اکثریت لڑکوں کی تھی۔ تفتیشی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سال 2000 تک کیتھولک چرچ نے بچوں سے زیادتی کے کیسز  پر ظالمانہ لاتعلقی کا رویہ اپنائے رکھا اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے۔کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چرچ کو ان واقعات کی تفتیش کے لیے انٹرنل ٹریبونل بنانے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے بشپ کانفرنس آف فرانس کے صدر نے رپورٹ کو خطرناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔

جنسی استحصال

مزید :

صفحہ آخر -