قائمہ کمیٹی خزانہ،پنڈورا پیپرز کا  معاملہ آئندہ ایجنڈے میں شامل 

قائمہ کمیٹی خزانہ،پنڈورا پیپرز کا  معاملہ آئندہ ایجنڈے میں شامل 

  

اسلام آباد(آن لائن)آف شور اکاؤنٹس کا معاملہ،ایوان بالاء کی خزانہ کمیٹی تک پہنچ گیا۔سینیٹر شیریں رحمن کہتی ہیں کہ آف شور اکاؤنٹس کے ذریعے پیسہ ملک سے باہر جا رہا ہے یہ کہہ دینا کافی نہیں کہہ ہم نے اپنے آف شور اکاؤنٹس ڈکلیئر کر دیئے ہیں بہت اہم ایشو ہے اس میں وزیر خزانہ شوکت ترین کا نام بھی آ رہا ہے خزانہ کمیٹی کاپنڈورا پیپرز سے متعلق معاملے کو آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود زیر صدارت ہواکمیٹی کی پینڈورا پیپرز پر ایف بی آر کو آئندہ اجلاس میں بریفنگ کی ہدایت چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر  نہیں آئے چیئرمین ایف بی آر کا پیغام آیا لیکن یہ کمیٹی کا اجلاس 15 دن پہلے بلایا گیا تھاکمیٹی سیکرٹریٹ پہلے یو نوٹ جاری کرتا ہے اس پر جواب آنا چاہیے کسی نے اگر کہیں اور جانا ہے تو یو نوٹ جاری ہونے کے بعد بتادیں کمیٹی کا سیکریٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کی عدم حاضری پر اظہار برہمی چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ سیکرٹری خزانہ آئی ایم ایف میٹنگ میں جارہے ہیں تو پارلیمان کو بھی اہمیت دیں آئی ایم ایف نے ہمیں برباد کیا اور حکومت آئی ایم ایف سے ڈر رہی ہے عمل ناقابل برداشت ہے آج ہم چھوڑ رہے ہیں لیکن آئندہ برداشت نہیں کیا جائے گافیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام نے خزانہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس چھوٹ کسٹمز سے متعلق نہیں تھی ضم شدہ اضلاع میں سیلز اور انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی تھی درآمدی خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی تمام ملک کیلئے یکساں ہے ضم شدہ اضلاع کیلئے آنے والے خام مال کو ملک کے دوسرے حصوں میں لیجائے جانے کا انکشاف ہوا ہے کسٹمز حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر انفورسمنٹ نے اس پر کاروائی کی اور خام مال کے ٹرک پکڑے گئے ضم شدہ اضلاع سے فنشڈ گڈز لیک ہوتی ہیں اس لیکیج پر ایکشن لے رہا ہے۔چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے عجلت میں لائیبیلٹی کاروباری افراد پر ڈالی ان کی ویڈیو موجود ہے نوٹسز کی وجہ سے کاروباری طبقہ شدید متاثر ہوا ہے 2.4 ٹریلین کے نوٹسز بھیجنے کے بعد بھی وصولی کم ہی ہوتی ہے کمیٹی کاضم شدہ اضلاع کی صنعتوں کے حوالے سے ایف بی آر کو ایک ماہ کا وقت دیدیا ممبر ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ضم شدہ اضلاع اور پاٹا میں قائم صنعتوں کی انسپکشن کرے گا سینٹر شیریں رحمان کا کہنا تھا کہ ڈالر 172 روپے پرہے کمیٹی کو بتایا جائے اسٹیٹ بنک نے مداخلت کی یا نہیں تجارتی خسارہ 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے جس پر حکومتی رکن کمیٹی محسن عزیز کا کہنا تھا کہ ایک خصوصی کمیٹی میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرنی چاہیے وزیر اعظم نے معاملے کی جانچ پڑتال کیلئے کمیٹی قائم کر دی ہے۔

خزانہ کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -