حکومت اور قبائلیوں کے مابین رابطہ کاری کا نظام رائج کیا جائے 

  حکومت اور قبائلیوں کے مابین رابطہ کاری کا نظام رائج کیا جائے 

  

پشاور(سٹی رپورٹر) قبائیلی ضلع خیبر کے عمائدین کے نمائندہ جرگہ نے خیبر پختونخو احکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائیلی اضلاع میں مقامی عمائدین پر مشتمل جرگوں کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت اور قبائیلی عمائدین کے درمیان رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ضم اضلاع میں امن و امان برقرار رکھنے اور روزمرہ کے معاملات میں قبائیلی عمائدین کے کردار کے بارے میں صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام کو روزانہ کی بنیاد پر اگاہ رکھا جاسکے۔پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک دوران گل،ملک عبدالرزاق آفریدی،ملک خالد خان آفریدی، نادر خان شنواری سمیت دیگر معززین نے کہا کہ انضمام کے وقت حکومت نے قبائیلی عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ قبائیلی اضلاع کو ملک کے دیگر اضلاع کے برابر لانے کے لئے ترقی کے عمل کو تیز کردیا جائیگا، نیز قبائیلی خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن کا بھی خاتمہ کیا جائیگا، لیکن بدقسمتی سے تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی صورتحال میں کوئی بہتری نظر میں نہیں آرہی ہے۔انضمام کے وقت 25ویں آئینی ترمیم کے زریعے قبائیلی جرگے کے عدالتی اختیارات سلب کر کے عدالتی اور پولیس کا نظام نافذ کردیا گیا۔قبائیلی عمائدین نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے صورتحال میں بہتری کے بجائے خاندانوں،قبیلوں اور مختلف قبائیلی اضلاع کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہوا، لینڈ ریونیو ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے آراضی تنازعات میں اضافہ ہوا۔دوسری طرف عدلیہ اور پولیس صورتحال کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔صورتحال کو دیکھتے ہوئے قبائیلی عمائدین نے رضاکارانہ طور پر آج بھی قبائیلی جرگے کو بحال رکھا ہو اہے، جو تنازعات کو ختم کرنے اور قبائیلی اضلا ع میں روزمرہ معاملات چلانے میں انتظامیہ کے مددگار ثابت ہورہے ہیں،قبائیلی جرگے کی افادیت نے امن وامان برقرار کھنے میں بھی پولیس کا کام آسان بنادیا ہے۔قبائیلی عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ جرگے کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت  قبائیل کی سطح پر اور پاک افغان شاہراہ کے ہر چیک پوسٹ پر محرر کی تعیناتی یقینی بنائے جو روزمرہ کے معاملات میں جرگے کے کردار کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور مقامی قبائیل کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کرسکیں۔قبائیلی عمائدین نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے قبائیلی جرگے کے کردار کی پذیرائی نہیں کی ارو رابطہ کاری کے لئے ایریا محرروں کی تعیناتی سے اجتناب برتا تو قبائیلی جرگہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رضاکارانہ تعاون کوختم کرنے پر مجبور ہونگے، جس کی تما م تر نتائج کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -