چیئر مین نیب کو توسیع دینے کا آرڈیننس نامنظور، پیپلز پارٹی، قانون کے مطابق فیصلہ کرینگے: مسلم لیگ (ن)

  چیئر مین نیب کو توسیع دینے کا آرڈیننس نامنظور، پیپلز پارٹی، قانون کے مطابق ...

  

       لاہور،اسلام آباد،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے آ ئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرینگے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری آ ئینی عمل ہے اور اس پر عمل آئین اور قانون کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) نے مزید کہا کہ میرے ساتھ حکومت کی جانب سے کسی بھی سطح سے رابطہ نہیں کیا گیا۔  دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قانون توڑ کر چیئرمین نیب کو توسیع دی جارہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قانون کہتا ہے مشاورت کریں لیکن وزیراعظم انکار کررہے ہیں، صدر بھی آرڈیننس پر دستخط کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔انہوں نے پنڈورا پیپرز پر وزیراعظم کا تحقیقات سیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے پاس تحقیقات کرنیکا کوئی حق نہیں، ادارے تحقیقات کریں۔شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ پنڈورا پیپرز میں جن کے نام آئے ہیں ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو نواز شریف کے ساتھ کیا گیا، نوازشریف وزیراعظم ہوکر جے آئی ٹی میں پیش ہوسکتے ہیں تو وزیر کیوں نہیں، ان 700  لوگوں کو جیل میں ڈالیں اور تفتیش کریں۔علاوہ ازیں وفاقی حکومت  کی جانب سے چیئر نیب نیب کی توسیع سے متعلق آرڈیننس لانے کے فیصلہ کو پیپلز پارٹی نے  مسترد کر دیا ۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت کی طرف سے چیئر نیب سے متعلق آرڈیننس لانے کے حکومتی فیصلہ مسترد کردیا، آرڈیننس کے اوپر آرڈیننس لاکر حکومت نے پارلیمان کو غیر فعال بنا دیا ہے، کیا چیئرمین نیب کا تقرر اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اب آرڈیننس لایا جائیگا؟ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت خود معاملے کو دیکھیں اور آرڈیننس کے اوپر آرڈیننس کے اجراء  کے سلسلے کو روکیں، مذاکرات کے لئے اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کی شرط سمجھ سے بالاتر ہے، پیپلزپارٹی پارلیمان میں آرڈیننس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔پی پی سینیٹر کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے تقرر سے متعلق قانون بڑا واضح ہے، حکومت شرائط رکھنی کی بجائے پارلیمانی روایت کے تحت مذاکرات کرے۔

اپوزیشن رد عمل

مزید :

صفحہ اول -