سلیکٹیڈ حکمرانوں کے دور میں تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق ہوگیا،ہدایت اللہ پیر زادہ 

سلیکٹیڈ حکمرانوں کے دور میں تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق ہوگیا،ہدایت اللہ پیر ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)جمعیت طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی صدر ہدایت اللہ پیرزادہ نے جے ٹی آئی پنجاب کے صدر ملک محمد اویس کی رہائش گاہ واقع ملک ہاوس ہارون آباد میں طلباء کو درپیش مسائل کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت نے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق کر دیا ہے ملک بھر میں سراپا احتجاج طلباء کے تمام جائز اور قانونی مطالبات فوری طور پر حل کئے جائے۔ اس موقع پر جمعیت طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری آصف اللہ مروت ایڈووکیٹ، پنجاب کے صوبائی صدر ملک محمد اویس دیگر صوبائی، ضلعی عہدیداران بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں حکومت کی سرپرستی میں قادیانیوں کی آئے روز بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے فی الفور روکی جائے۔ مرکزی صدر ہدایت اللہ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ ملک میں فرسودہ اور مخلوط نظام تعلیم کا خاتمہ کرکے یکساں نظام تعلیم کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انھوں نے تعلیمی اداروں میں فیس کی شرح بڑھانے کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر فیسوں میں کمی لاکر مناسب تعلیمی پیکیج کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے طلباء سے انضمام کے وقت کئے گئے تمام وعدوں پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت رجسٹریشن اور تجدید کے نام پر دینی مدارس کو بیجا تنگ کرنے سے اجتناب کریں۔ پاکستان کے نصاب تعلیم میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات سے مضامین شامل کئے جائے۔ مدارس کی اسناد کے حوالے سے رائج طبقاتی نظام ختم کیا جائے۔ مدارس کے اسناد کو مساوی کی بجائے دیگر تعلیمی اسناد کی طرح مستقل حیثیت دی جائے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ طلباء یونین کی بحالی کے لئے عملی اقدامات کرکے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متفقہ ضابطہ اخلاق طے کرکے فوری طور پر طلباء یونین کے الیکشن کرائے جائے۔ آخر میں انھوں نے موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ جمعیت طلباء اسلام کسی بھی صورت میں طلباء کے مستقبل سے کھیلواڑ کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتی، طلباء برادری کو مزید دیوار سے لگانے کی سازشیں ترک کرکے ان کیمطالبات کو سنجیدگی سے لئے جائے بصورت دیگر ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جائیگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -