پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کیلئے ماہرین متحرک،نظام کو سادہ بنانے کی کوشش

 پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کیلئے ماہرین متحرک،نظام کو سادہ بنانے کی ...

  

ملتان (پ ر)  دی ایسوسی ایشن آف سرٹیفائیڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے)، سی ایف او کلب اور پاکستان(بقیہ نمبر50صفحہ6پر)

 اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس)کے زیر اہتمام منعقدہ پینل مذاکرے میں ماہرین نے ریگولیٹری فریم ورک کو سادہ بنانے، ریٹیل سرمایہ کار کی شرکت میں اضافے اور انٹر-کارپوریٹ منافع پر ٹیکس کا خاتمہ کر کے ہولڈنگ کمپنیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی شدید ضرورت پر زور دیا ہے۔ 

ا س ویبی نار کی خاص بات اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم، ایف بی آر کے سابق چیئرمین، شبّر زیدی، مارکیٹنگ اینڈ بزنس ڈیویلپمنٹ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ہیڈ، راعدہ لطیف، KASB سیکیورٹیز کے منیجنگ ڈائریکٹر، آصف سومرو، سی ایف او کلب کے بانی، شہزاد ڈھیڈی اور اینگرو فرٹیلائزرز کے سی ایف او،عمران احمد سمیت انڈسٹری کے ممتاز راہنماؤں اور مالی ماہرین کی شرکت تھی۔اپنے افتتاحی کلمات میں سجید اسلم نے کہا:”پاکستان میں، ترقی پذیر کیپٹل مارکیٹس کی نشوونما کے لیے زبردست گنجائش موجود ہے۔ ہمیں کیپٹل مارکیٹ کے بارے میں مالی خواندگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اورافراد کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح اپنی سرمایہ کاری سے مزید سرمایہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اسٹارٹ اپس اور کاروباری اداروں کو بھی اس قابل بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ قرض کی صورت میں حاصل ہونے والے فنڈزاور ایکویٹی فنڈزکو عمدہ طریقے سے استعمال کر کے اپنے سرمایہ میں اضافہ کر سکیں۔“شبّر زیدی کے مطابق مارکیٹ میں انتہائی بلند غیریقینی صورت حال بھی انفرادی سرمایہ کاروں کی شرکت میں کمی کا ایک وجہ ہے جب کہ بڑے پنشن فنڈز بھی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔اْنھوں نے تجویز پیش کی کہ ٹیکس کریڈٹس اور لسٹڈ کمپنیوں کے لیے غیر ضروری کمپلائنس کے تقاضوں کے خاتمے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اداروں کی لسٹنگ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔راعدہ لطیف نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا:”گزشتہ چند برسوں میں، ہم نے ریگولیٹری فریم ورک میں مثبت تبدیلیاں دیکھی ہیں اور ہم زیادہ شفافیت اختیار کر رہیہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی سرمایہ کاروں کی تعلیم کو ترجیح دیرہا ہے اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی شرکت  کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔“آصف سومرو نے تجویز پیش کی کہ حکومت کو انٹر-کارپوریٹ منافع پر ٹیکس کی کے خاتمے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کیوں کہ یہ ایک غیر ضروری اور اضافی تقاضا ہے۔یہ ریلیف جامع شراکتی طریقہ کار اور سنہ 2007-08 میں عالمی بینچ مارکنگ کے بعد متعارف کرائی گئی تھی تاکہ ہولڈنگ کمپنیوں کے اسٹرکچر کو فروغ دیا جا سکے اور خاندان کی ملکیت اداروں کو اداروں میں تبدیل کیا جا سکے۔مذاکرے کا اختتام اس اتفاق رائے پر ہوا کہ ریگولیٹرز کو چاہیے کہ نئی گورننس پالیسیاں اور لیگل فریم ورک متعارف کرنے سے مارکیٹ کے بارے میں گہری سمجھ بوجھ حاصل کریں۔غیر معمولی رد عمل کی روشنی میں اے سی سے اے پاکستان اور سی ایف او اسی قسم کے سیشنز مستقبل میں بھی منعقد کریں گے تاکہ معیشت کے مختلف پہلوؤں پر پر گفتگو کے قابل بنایا جا سکے۔ یہ سیشن www.facebook.com/ACCA.Pakistan  یا  https://www.facebook.com/engro.corporation/   پر دیکھا جا سکتا ہے۔اس تحریر کے وقت تک فیس بک پر دیکھنے والوں کی تعداد 500,000  افراد سے تجاوز کر چکی تھی۔

مارکیٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -