پرائیویٹ اسکولز کے بغیر تعلیم ممکن ہیں ہم تو ڈیسک ہی نہیں خرید سکے: سردار شاہ 

  پرائیویٹ اسکولز کے بغیر تعلیم ممکن ہیں ہم تو ڈیسک ہی نہیں خرید سکے: سردار ...

  

        کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیر تعلیم سندھ سید سردارشاہ نے کہاہے کہ پرائیویٹ اسکولز کے بغیر اتنے بچوں کو تعلیم دینا ممکن نہیں، ہم تو آج تک ڈیسک ہی نہیں خرید سکے، ٹینڈر کینسل ہوجاتے ہیں۔منگل کواساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے کہا کہ پورے سندھ سے آئے ہوئے اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آج سے چھبیس سال پہلے 5 اکتوبر کو عالمی اساتذہ دن کے موقع پر منانے کا عہد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آج ہم روشنیوں سے بھرے ہال میں بیٹھے ہیں۔ یہ سب ان اساتذہ کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ دنیا کی تمام رنگینیاں اساتذہ کے دم سے ہیں۔ تاریخ دیکھیں تو دنیا کی کوئی تاریخ پہلا استاد نہیں بتاتی، لیکن میری نظر میں پہلی استاد ماں ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک استاد کو بھی طے کرنا ہے کہ اسے معاشرے کو کیا دینا ہے۔آج بھی سوا دوکروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ آئین نے وعدہ تو کیا لیکن انہیں تعلیم نہیں دے سکا۔ پرائیویٹ اور پبلک اسکولز ہیں۔ مجھے پبلک اسکولز کا اندازہ ہے۔وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ پچیس تیس لاکھ بچے پرائیویٹ اسکولز میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس پرکام کیا جائے گا کہ کتنے اسکولز رجسٹرڈ ہیں اور کتنے نہیں۔ کتنے اسکول معیار پر پورا اترتے ہیں۔ کچھ والدین پرائیویٹ اسکولز کے تعلیمی اخراجات برداشت کرسکتے ہیں۔ لیکن مزدور پیشہ افراد کے بچے کہاں جائیں۔سردار شاہ نے کہاکہ ہمیں بچوں کو مفت تعلیم دینے کا بھی عہد کرنا ہے۔ استاد کی کم سے کم عمر کا تعین کیا جائے۔ بیروزگاری پر بھی کام کرنا ہے۔ اس پر بھی سوچنا ہے۔ میں پرائیویٹ اسکولز کے خلاف بالکل نہیں ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ پرائیویٹ اور پبلک اسکولز مل کر ہی اچھا کام کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز کے بغیر اتنے بچوں کو تعلیم دینا ممکن نہیں۔ آپ نے بچوں کو اچھا فرنیچر دیا ہوا ہے۔ ہم تو آج تک ڈیسک ہی نہیں خرید سکے، کبھی ٹینڈر کینسل ہوجاتے ہیں۔وزیرتعلیم سندھ نے کہا کہ میں نے خود ڈائریکٹوریٹ سے کہا کہ بلاوجہ کسی اسکول کو تنگ نہ کریں۔ اگر کسی قانون سے بھی مسئلے ہیں۔ تو اسے دیکھا جائے گا۔ قانون کو بھی ٹھیک کرنے کے لئے تیار ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -