سندھ حکومت کا نالہ متاثرین کو 2سال تک ماہانہ 15ہزار روپے دینے کا فیصلہ 

سندھ حکومت کا نالہ متاثرین کو 2سال تک ماہانہ 15ہزار روپے دینے کا فیصلہ 

  

         کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت نے کراچی میں نالہ صفائی متاثرین کو 2سال تک ماہانہ 15ہزار روپے دینے کا فیصلہ کرلیا جبکہ متاثرین کو نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں رہائشی یونٹ بھی دیا جائے گا۔منگل کو وزیراعلی سندھ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں  وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے مختلف نالوں کے متاثرین کی بحالی پر اجلاس کو بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ تجاوزات ہٹانے سے 344 گھر گجر نالے اور 60 گھر اورنگی نالے جبکہ 6 فیکٹریز متاثر ہوئی ہیں۔ وفاقی حکومت سے 3 لاکھ کی سبسڈی لے کر 30ہزار یونٹ متاثرین کو دیے جائیں گے اور سندھ حکومت ہاسنگ پروجیکٹ کے لیے زمین دے گی۔انہوں نے بتایا کہ سال 2020 میں کراچی میں شدیدبارشوں کے باعث اربن فلڈنگ ہوئی جس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ نالوں کے اردگرد تجاوزات کا خاتمہ کرکے نالوں کی صفائی کرے۔وزیر بلدیات نے بتایا کہ وزیراعظم نے ستمبر میں کراچی کا دورہ کیا اور سندھ حکومت کے ساتھ ملکر 1.13کھرب روپے کے پیکج کا اعلان کیا۔ وزیراعلی سندھ کی سربراہی میں صوبائی کوآرڈینیشن اینڈ اپملیمینشن کمیٹی(پی سی آئی سی)بنائی گئی۔پی سی آئی سی نے 3 بڑے نالوں محمودآباد، گجر اور اورنگی کی صفائی کا فیصلہ کیا۔ ان نالوں کی ہائیڈرولک اور ہائیڈرا لاجیکل سروے کا کام این ای ڈی یونیورسٹی کو سونپا گیا۔سندھ حکومت نے تین درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں جس میں سپریم کورٹ کو درخواست کی گئی ہے کہ جو بحریہ ٹاؤن سے 10ارب روپے وصول کیے ہیں وہ سندھ حکومت کو دیے جائیں۔ اس رقم سے متاثرین کے لیے گھر بنائے جائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -