صوبے میں ڈینگی کی صورتحال پھر سے خراب ہو گئی: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

صوبے میں ڈینگی کی صورتحال پھر سے خراب ہو گئی: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

  

       پشاور(نیوزر پورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان نے کہا ہے کہ صوبے میں ڈینگی کی صورتحال پھر سے خراب ہوگئی ہے، فاضل چیف جسٹس نے ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کے احکامات دیتے ہوئے محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت27 اکتوبر تک ملتوی کردی چیف جسٹس قیصررشید خان کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ نے سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر کیس پر سماعت شروع کی توایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندرحیات شاہ، پروگرام منیجر ڈینگی کنٹرول ڈاکٹر رحمن آفریدی،ڈی جی ہیلتھ کے نمائندہ سلیم جاوید بھی عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ صوبے میں ڈینگی کی صورتحال پھر سے خراب ہوگئی ہے۔ حکومت اس حوالے سے کیا اقدامات کررہی ہے؟ جس پر پروگرام منیجر ڈینگی کنٹرول نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت ایک ہزار 724 ڈینگی کے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ 140 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔انہوں نے بتایاکہ صوبے میں پشاور، بونیراور خیبر ڈینگی سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع ہیں۔پشاور میں اب تک 384 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ ڈینگی سپرے کی کیا صورتحال ہے اور پشاور میں کونسے علاقے زیادہ متاثر ہیں،جس پر بتایاگیا کہ سربند، سفید ڈھیری، اچینی بالا اور پشتخرہ سے زیادہ کیسزرپورٹ ہورہے ہیں۔ ٹی ایم اے ڈبلیو ایس ایس پی متاثرہ علاقوں میں سپرے کررہے ہیں۔ اب تک 36 ہزار گھروں میں سپرے کرچکے ہیں۔منیجرپروگرام نے بتایا کہ چیف سیکرٹری کے ساتھ ہر ہفتے اس حوالے سے اجلاس ہوتی ہے۔ ڈینگی سے متاثرہ علاقوں کی گراونڈ صورتحال روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ضلعی انتظامیہ، ڈبلیو ایس ایس پی اور ٹی ایم اے متاثرہ علاقوں میں سپرے کو یقینی بنائیں اور ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ عدالت نے محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

مزید :

صفحہ اول -