افرادی قوت کی تیاری تحقیقی اداروں کا وظیفہ ہے، اقبال چوہدری

افرادی قوت کی تیاری تحقیقی اداروں کا وظیفہ ہے، اقبال چوہدری

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ سائینس پر منحصر ترقی  کے لئے افرادی قوت تیار کرنا تحقیقی اداروں کا بنیادی وظیفہ ہے، آئی سی سی بی ایس کابین الاقومی شہرت یافتہ ایم فل، پی ایچ ڈی پروگرام سو فیصد میرٹ پر ہے، 70نئے محققین کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) اور ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری میں خوش آمدید کہتے ہیں۔یہ بات انہوں نے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے تحت منگل کو سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم میں ایم فل اورپی ایچ ڈی پروگرام برائے2020کے نئے طالب علموں کے لئے منعقدہ ایک تعارفی کلاس میں کہی۔ اس تقریب میں طلبہ و طالبات، ریسرچ آفیسرز اور اساتذہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر خالد ایم خان، پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ شاہین، پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ،  پروفیسر ڈاکٹر سیدغلام مشرف، پروفیسر ڈاکٹر ظہیر الحق قاسمی، ڈاکٹر مقصود احمد چھوٹانی سمیت دیگرآفیشل نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا سائینس دنیا کی قدیم ترین علم ہے جس کی مدد سے اپنے اطراف کی دنیا کی آگاہی حاصل ہوتی ہے، ہماری کائنات کے متعلق بہتر معلومات سائینس و تجربات کی ہی مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے کہا بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی تعلیم و تحقیق کا بہترین ادارہ ہے جسے یونیسکو، ڈبلیو ایچ او اور او آئی سی سینٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اسے اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کا پرائز بھی مل چکا ہے، انہوں نے کہا بین الاقوامی مرکز پاکستانی صنعتوں اور سرکاری ایجنسیوں کو بھی تحقیقی خدمات فراہم کررہا ہے، یہاں قومی ضروریات کے تحت وائرولوجی، جینومکس، کلینکل ریسرچ اور صنعتی تجزیاتی مرکز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔پروفیسراقبال چوہدری نے نئے محققین کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی خوش قسمیتی ہے کہ آپ ایک بین الاقوامی ادارے میں حصولِ تعلیم کے لیے داخل ہوئے ہیں، یہ ادارہ اپنی نوعیت کا واحد پاکستانی تحقیقی ادارہ ہے جہاں متعدد غیر ملکی محقیقین سمیت600سے زیادہ پی ایچ ڈی اور ایم فل طالب علموں پر مشتمل اعلیٰ معیار کا پی ایچ ڈی پروگرام کامیابی سے میرٹ پر چل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت نئے محقیقین نامیاتی کیمیاء، تجزیاتی کیمیاء، طبعیاتی کیمیاء، غیر نامیاتی کیمیاء، حیاتی نامیاتی کیمیاء، فارماکولوجی، اور مالیکیولر میڈیسن جیسے اہم شعبہ جات میں تحقیق کرنے کے مجاز ہوں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -