پیاز کی برآمد پر پابندی کی افواہیں تشویشناک ہیں،شیخ محمد شاہجہاں 

پیاز کی برآمد پر پابندی کی افواہیں تشویشناک ہیں،شیخ محمد شاہجہاں 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)فلاحی انجمن ہول سیل ویجی ٹیبل مارکیٹ نئی سبزی منڈی کراچی کے صدر شیخ محمد شاہجہاں و دیگر عہدے داروں نے پاکستان سے پیاز کی برآمد پر مبینہ پابندی لگائے جانے کی خبروں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ایک طرف زرمبادلہ کی کمی کا رونا روتی ہے لیکن دوسری طرف ملک کی زرعی مصنوعات کی ایکسپورٹ کی حوصلہ شکنی کر کے ملک کے کاشتکاروں اور ایکسپورٹرز کے ساتھ ظلم کر رہی ہے. پیاز کے کاروبار میں پاکستان کے سب سے بڑے حریف بھارت کی فصل دسمبر میں مارکیٹ میں آئے گی جبکہ سندھ کے پیاز کی تازہ فصل گذشتہ سال کی نسبت زیادہ مقدار میں مارکیٹ میں آنا شروع ہوگئی ہے جس کی ایکسپوٹ سے پاکستان میں ڈالروں کے انبار لگائے جا سکتے ہیں. سندھ سے پیاز کی تیار فصل کے25/30 ٹرک روزانہ مارکیٹ میں آرہے ہیں اور نومبر میں پیاز کی پیداوار عروج پر ہوگی ملکی ضروریات سے زائد اضافی پیاز کی ایکسپورٹ سے وطن عزیز کے لئے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا جبکہ عالمی مارکیٹ میں  پاکستانی پیاز کی بہت ڈیمانڈ بھی ہے. فلاحی انجمن ہول سیل ویجی ٹیبل مارکیٹ سبزی منڈی کراچی کے صدر شیخ محمد شاہجہاں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، ملائشیا، سنگاپور جیسے ممالک پاکستانی پیاز کے بڑے امپورٹر ہیں اور یہی موقع ہے کہ پاکستان کے کاشتکاروں کو خوشحال اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے پیاز کی بمپر پیداوار کو بھرپور طریقے سے ایکسپورٹ کرنے میں حکومت کاشتکاروں کی مدد کرے کیونکہ دسمبر سے بھارتی پیاز بھی مارکیٹ میں آجائے گا جس سے عالمی مارکیٹ میں پیاز کی قیمتوں میں کمی آجائے گی. بہترین ذائقے، رنگ اور اعلی ترین معیار کی وجہ سے پاکستان خصوصا سندھ کا پیاز پاکستان کے لئے زر مبادلہ کمانے کا اہم ترین ذریعہ ہے. سندھ سمیت ملک بھر کے کاشتکاروں نے کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باجود پیاز کی بمپر پیداوار یقینی بنائی ہے. پیاز کی برآمدات پر پابندی کی افواہوں کے خاتمے اور کاشتکاروں کی مدد کے ذریعے حکومت کاشتکاروں کے ساتھ ایکسپورٹرز کی بھی حوصلہ افزائی کرے تاکہ پاکستان کو معاشی بد حالی کے موجودہ امتحان سے نکالا جا سکے. ملکی استعمال کیلئے پیاز دنیا بھر میں سستی ہے جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو جائز لاگت بھی نہیں ملتی لیکن اضافی پیاز کی ایکسپورٹ کی وجہ سے کاشتکار اچھے دام حاصل کرتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -