صحت مند ماحول میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایکسپو 2020 عظیم پلیٹ فارم ثابت ہوگا

صحت مند ماحول میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایکسپو 2020 عظیم پلیٹ فارم ...
صحت مند ماحول میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایکسپو 2020 عظیم پلیٹ فارم ثابت ہوگا

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) یکم اکتوبر 2020 کو شروع ہونے والا ایکسپو 2020 کورونا وبا کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر کے بعد یکم اکتوبر2021ءکو پوری آب و تاب کے ساتھ شروع ہوگیا ہے۔ تاہم اسے نام ایکسپو 2020 کا ہی دیا گیا ہے۔ ایکسپو 2020 کا آغاز ایک رنگا رنگ اور یادگار تقریب سے ہوا جس میں دنیا بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔ یکم اکتوبر 2021 کو شروع ہونے والا ایکسپو 31 مارچ 2022ءتک پورے چھ ماہ رہے گا جس میں کروڑوں وزٹرز کی آمد متوقع ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 25 ملین سے زائد وزٹرز کی آمد کی توقع کی جارہی ہے۔

ایکسپو کے آغاز پر ہی دبئی میں چہل پہل نظر آرہی ہے اور سڑکوں پر ٹریفک کا جم غفیر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہوٹل بیرونی مہمانوں سے بھر گئے ہیں اور ایئر لائنز بھی کافی مصروف نظر آرہی ہیں یہی وجہ ہے کہ بائی ایئر آمدورفت خاصی مہنگی ہوگئی ہے اور سستے ٹکٹ مشکل سے ہی مل رہے ہیں۔ پوری دنیا سے لوگ ایکسپو میں شرکت کے لیے کھنچے چلے آرہے ہیں جن میں خاصی تعداد پاکستانیوں کی بھی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔

ایکسپو 2020 کی لوکیشن دبئی سٹی سے تقریباً 56 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ایکسپو 2020 کی لوکیشن پر لانے لیجانے کے لیے خاص طور پر 100 سے زائد بڑی بسیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ ٹیکسیاں وافر مقدارمیںم وجود ہیں جو وزٹرز کو ٹرانسپورٹ کی بہترین سروس فراہم کررہی ہیں۔ ایکسپو میں پوری دنیا سے 192 سے زائد ممالک شرکت کررہے ہیں اور وہاں ان کے پویلین موجود ہیں۔ پاکستان کا خوبصورت پویلین یہاں پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے اور مہمانوں کی آمد کا منتظر ہے۔ فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستانی پویلین کی تعمیر پر 30 ملین ڈالر تقریباً 110 ملین اماراتی درہم خرچ ہوئے ہیں۔ پویلین یہاں پاکستان کی شناخت ہے اور بہت سارے چھپے خزانے لیے ہوئے ہے اسی لیے اسے ”پاکستان چھپا ہواخزانہ“ کا نام دیا گیا ہے۔ پاکستانی پویلین کو واقعی انتہائی خوبصورتی سے بنایا اور سجایا گیا ہے اور یہ پویلین یہاں پاکستان کی آن بان اور شان ہے۔ پویلین کومزید دلکش بنانے اور اس میں جاذبیت پیدا کرنے کے لیے ایڈونچر، ٹورازم، انسٹرومینٹل میزک کا مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ پویلین میں موسمیاتی تبدیلی، صحت اور بزنس ڈویلپمنٹ کے سیمینار منعقد کیے جائیں گے۔ یہاں بزنس کو فروغ دینے کے لیے ”بزنس حب“ بھی لانچ کیا گیا ہے ۔ پاکستانی میوزک سے آگاہی اور مہمانوں کو محظوظ کرنے کے لیے موسیقی کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے جس میں پاکستانی آرٹسٹ گاہے بگاہے اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ 

پاکستانی پویلین میں بھی لاکھوں وزٹرز کے آنے کی توقع ہے اور اس سلسلہ میں وزٹرز کو زیادہ سے زیادہ اور جامع معلومات فراہم کرنے کے لیے تربیت یافتہ سٹاف بھی مہیا کیا گیا ہے۔ دیگر ممالک کے بزنس مین حضرات کے ساتھ کاروباری ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جس سے پاکستان کے تجارتی تعلقات دنیا بھر کے کاروباری اداروں سے ہوں گے۔ حکومت دبئی نے بین الاقوامی طور پر بزنس کو فروغ دینے کے لیے یہ بہت بڑا قدم اٹھایا ہے اور ایک جگہ پر 192سے زائد ممالک کو اکٹھا کردیا ہے۔ یقینا پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بہترین موقع ہے اگر اس سنہری موقع سے صحیح فائدہ اٹھایا گیا تو یقینا پاکستان کے تجارتی تعلقات دیگر ممالک کے ساتھ بڑھیں گے جس سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی اور عوام الناس میں خوشحالی آئے گی۔

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -