تین افراد کو ہتھوڑے سے موت کے گھاٹ اتارنے والے قاتل کو سزائے موت، لیکن زہر کا ٹیکہ لگانے سے پہلے اسے کیا کچھ کھلایا گیا؟

تین افراد کو ہتھوڑے سے موت کے گھاٹ اتارنے والے قاتل کو سزائے موت، لیکن زہر کا ...
تین افراد کو ہتھوڑے سے موت کے گھاٹ اتارنے والے قاتل کو سزائے موت، لیکن زہر کا ٹیکہ لگانے سے پہلے اسے کیا کچھ کھلایا گیا؟

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سنہ 1994ءمیں امریکہ میں تین لوگوں کو ہتھوڑے کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتارنے والے سفاک قاتل کی سزائے موت پرعملدرآمد کرتے ہوئے بالآخر گزشتہ روز اسے ابدی نیند سلا دیا گیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس مجرم کا نام ارنسٹ لی جانسن تھا جسے بون ٹیری میں واقع میسوری سٹیٹ جیل میں سزائے موت دی گئی۔ اس نے 1994ءمیں کولمبیا میں ایک دکان میں ڈکیتی کی واردات کی تھی اور واردات کے دوران دکان کے تین ورکرز کو ہتھوڑے مار مار کر قتل کر دیا تھا۔

اس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں 46سالہ میری بریچر، 57سالہ میبل سکروگز اور 58سالہ فریڈ جونز شامل تھے۔اس 61سالہ قاتل کو زہریلا انجکشن لگا کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ امریکہ میں ایک روایت ہے کہ سزائے موت کے قیدی کی سزا پر عملدرآمد سے قبل اس کا پسندیدہ کھانا اسے کھلایا جاتا ہے۔ ارنسٹ سے بھی اس کا پسندیدہ کھانا پوچھا گیا۔ اس نے کئی اشیاءمنگوائیں جن میں دو ڈبل بیکن چیز برگر بھی شامل تھے۔ برگرز کے ساتھ اس نے دو سٹرابری ملک شیک منگوائے۔ اس کے بعد اس نے ایک لارج پیزاآرڈر کیا۔ 

مزید :

بین الاقوامی -