عوام کی بدحالی کا ذمہ دار کون؟

عوام کی بدحالی کا ذمہ دار کون؟
عوام کی بدحالی کا ذمہ دار کون؟

  

تبدیلی کے اس سفر کو تین برس بیت چکے ہیں. حالات روز بروز پہلے سے زیادہ گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں، 90 دن میں تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کا دعویٰ کرنے والے تین سالوں میں ملک کو اس پٹری پر بھی نہیں چڑھا سکے جو اس خوشحال، خودمختار اور روشن پاکستان کی جانب جاتی ہو جس کو بنانے کا کنٹینر پر وعدہ کیا جاتا رہا.

بقول شاعر"وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے"داغ دہلوی نے کیا خوب کہا کہ

"غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا 

تمام رات قیامت کا انتظار کیا"

 عبرت مچھلی شہری نے کہا کہ

"کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا 

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں"

ناصر کاظمی التجائیہ انداز میں فریاد کررہے ہیں کہ شاید شنوائی ہوہی جائے

"تیری مجبوریاں درست مگر 

تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر"

مرزا غالب نے بھی اپنا حصہ یوں ڈالا

"ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا 

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا"

اب تو مہنگائی، بے روزگاری، غربت، تنگ دستی اور بے روزگاری کی آگ میں پستی عوام گویا کہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے

" برسوں ہوئے نہ تم نے کیا بھول کر بھی یاد 

وعدے کی طرح ہم بھی فراموش ہو گئے"

احمد فراز جیسے دور اندیش شاعر شاید اس صورتحال میں خاموشی اختیار کرنا ہی پسند فرماتے، کیوں کہ ان کے ہونہار لخت جگر شبلی فراز صاحب ان دنوں اپنی حکومت کے شاندار منصوبے "بھنگ اگاؤ" مہم کا افتتاح فرماتے نظر آرہے ہیں.

ابھی اگلے روز ہی انہوں نے بھنگ کا باقاعدہ افتتاح کیا اور کل ہی جناب فواد چوہدری صاحب فرماتے نظر آئے کہ ہم نے تو ایک کروڑ نوکریوں سے بھی زیادہ نوکریاں دے دی ہیں. سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس بھنگ کا اثر چوہدری صاحب پر اتنی جلدی کیسے ہوگیا کہ وہ سب اچھا کے تخیلات میں جھوم رہے ہیں یا پھر انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بھنگ کے منصوبے کا افتتاح کرتے ہی شاید عوام نے جھومنا شروع کردیا ہے.

کیا بڑی بات ہے کہ وہ کل یہ اعلان فرمادیں کہ ہم نےایک کروڑ نوکریوں کے ساتھ ساتھ 60 لاکھ گھر بھی بنادیے ہیں. 10 لاکھ گھر زیادہ اس لیے بنائے ہیں تاکہ جو بیرون ممالک سے لوگ یہاں نوکریاں ڈھونڈنے آرہے ہیں وہ قیام پزیر ہوسکیں. مہنگائی کا طوفان روک کر ہر چیز سستی کردی ہے. گھی 100 روپے کلو، چینی 40 روپے کلو، آٹا 20 روپے کلو، پٹرول 46 روپے لیٹر ہوچکا ہے. دالیں سبزیاں اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء تو بالکل مفت بانٹی جارہی ہیں، پولیس اصلاحات تو کب کی کردی ہوئی ہیں،عدالتی نظام تو یکسر بدل کر رکھ دیا گیا ہے،وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بھی بنا دیا ہوا ہے اور وہاں پر باقاعدہ پہلی ریسرچ بھنگ پر کی جارہی ہے. گورنر ہاؤس کی دیواریں گرادی ہوئی ہیں. ہمارے وزراء ایک ایک دربان رکھ کر دن رات عوام کے لیے اپنے دروازے کھولے بیٹھے ہیں اور وزیراعظم صاحب کا روزانہ سائیکل پر دفتر جاتے راستے میں ٹائر پنکچر ہوجاتا ہےاور  وہ اپنے ہاتھوں سے پنکچر لگاتے ہیں.

کہنے کو کل فواد چوہدری صاحب یہ اعلان بھی فرما سکتے ہیں کہ ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 170 روپے کا نہیں ہوا بلکہ ہمارے 170 روپیوں نے دنیا میں ڈالر کو تنہا کردیا ہے کہ وہ ہمارے 170 روپیوں کے آگے  سر جھکائے اکیلا شرمسار  کھڑا ہے. کیا مشکل ہے کہ وہ کل کی پریس کانفرنس میں ارشاد فرمادیں کہ ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے پنڈورا سکینڈل میں نام آنے والے وزراء کو ڈی چوک میں پھانسی پر لٹکا کر چائنہ کی اس مثال کو پورا کردیا ہے جو کئی دھائیوں سے وہ دے رہے تھے.

ڈاکٹر شہباز گل صاحب فرمارہے تھے کہ آپ لوگ چیخ رہے ہیں کہ ڈالر بڑھ گیا ہے، مہنگائی آگئی ہے میں آپ کو مثال سے سمجھاتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے، انہوں نے کمال منطقی انداز میں سمجھایا کہ جب آپ اپنی گاڑی کو ریس دیں اور زیادہ سپیڈ سے دوڑا دیں تو میٹر میں لگی سوئیاں اوپر چلی جاتی ہیں اور گاڑی تیل بھی زیادہ کھاتی ہے،بالکل اسی طرح ملک کی اکانومی ہے.

جو کل تک مہنگائی کو ایک آفت، طوفان، سونامی، مصیبت، عوام دشمنی، ظلم اور غریبوں کو مارنے کا پلان قرار دیا کرتے تھے آج وہ مہنگائی کو نعمت عظیمہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں.جو کل تک فرمایا کرتے تھے کہ اگر مہنگائی ہو تو سمجھو کہ وزیراعظم  چور ہے وہ آج قدم قدم پر ثابت کررہے ہیں کہ ایسا پہلے ہوتا ہوگا اب تو جتنی زیادہ مہنگائی ہوگی سمجھو کہ وزیراعظم اتنا زیادہ عوام کا خیر خواہ اور ایماندار ہے.سارا سارا دن غربت کی چکی میں پستی عوام کے سامنے یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ پاکستان تو خطے کا سستا ترین ملک ہے یہاں تو مہنگائی نام کی کسی شے کا کوئی وجود ہی نہیں ہے.یہ ان مفلس اور ناداروں کے زخموں پر نمک پاشی کے سوا اور کیا ہے؟ ایک تو وہ اس آفت کے ہاتھوں تڑپ رہے ہوں اور اپنے خون پسینے کی کمائی، اپنے بچوں کے منہ سے نوالے چھین کر ان وزراء کی فوخ ظفر موج کی عیاشیوں کا بندوبست کررہے ہوں اس لیے کہ ان کی جگتیں اور طنزیہ باتوں سے اپنی غربت اور بدحالی کا مذاق بنوا سکیں. مہنگائی کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ تباہ ہوا ہے جس کی کمائی سے تین گنا زیادہ اخراجات بڑگئے ہیں اور وہ قرض کے بوجھ تلے دبتا چلا جارہا ہے یا پھر فاقے اور خودکشیاں کرنے پر مجبور ہے،جس طبقے کی لاکھوں میں آمدن تھی اور اب بھی ہے اس کو اس سے کیا فرق پڑے گا؟

عمران خان صاحب کی خوش قسمتی کہیں یا غریب عوام کی بدقسمتی کہ انہیں انتہائی سست، نالائق اور بے حس اپوزیشن ملی ہے. وہ عوام کی ترجمان بن کر اس طوفان کے آگے دیوار بننے یا عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے عوام کی آواز بننے کی بجائے روزانہ ہونے والی مہنگائی پر ایک عدد ٹویٹ فرما کر اپنے کندھے اچکا لیتی ہے.دن رات مزاحمت اور مفاہمت کے راگ الاپ کر یہ باور کروانے پر تلی ہوئی ہے کہ کسی نا کسی طرح ہماری سی وی قبول کرلی جائے. حصول اقتدار کی اس جنگ میں غریب عوام کا وہ حال ہورہا ہے جیسے دو ہاتھیوں کی لڑائی میں فصل کا ہوتا ہے.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -