حکومت نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کو مشکل پوزیشن میں ڈالا ہے ان کو خود ہی استعفی دے دینا چاہیے تھا: مجیب الرحمن شامی

حکومت نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کو مشکل پوزیشن میں ڈالا ہے ان کو خود ہی استعفی دے ...
حکومت نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کو مشکل پوزیشن میں ڈالا ہے ان کو خود ہی استعفی دے دینا چاہیے تھا: مجیب الرحمن شامی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سنیئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ لگتا ہے حکومت نے نیب کے معاملے پر کافی سوچ بچار کیا ہے۔حکومت نے چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کو مشکل پوزیشن میں ڈالا، ان کو خود ہی استعفی دے دینا چاہیے تھا۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی سے قبل انٹیلی جینس  کاکام انٹیبلی جینس بیورو (آئی بی )کے پاس تھا۔آہستہ آہستہ طاقت آئی بی سے آئی ایس آئی کو منتقل ہوئی، افغانستان کی جنگ میں آئی ایس آئی کا بڑا کردار ہے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی آئی ایس آئی کے سربراہ سے آرمی چیف بنے۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) شجاع پاشا کا نام تحریک انصاف کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ  چیئرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے فروغ نسیم کی وضاحت کے مطابق اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ہوگی چاہے صدر سے ہو۔ ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کی بات کہیں نہیں سنی گئی ہوگی تو انہوں نے استعفے کا فیصلہ کیا۔نیب کے معاملے پر کافی سوچ بچار کیا گیا ہے۔حکومت نے جاوید اقبال کو مشکل پوزیشن میں ڈالا ہے ان کو خود ہی استعفی دے دینا چاہیے تھا۔ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے معاملے پر عدالتی سٹے موجود ہے جب تک وہ ختم نہیں ہوتا تب تک حلف کے حوالے سے آرڈیننس  کا اطلاق ان پر نہیں ہوگا۔سوشل میڈیا پر چلنے والی جعلی خبروں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ہر کسی کو اجازت کہ جو چاہے جس کی عزت سے ہاتھ صاف کرلے۔ باہر کے ملک میں ہوں تو ہتک عزت کا قانون حرکت میں آجائے۔جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ بولتا چلا جاتا ہے۔سمجھ نہیں آتا ہے کہ ہم ملکی فضا کو کیوں اتنا آلودہ کرنا چاہتے ہیں؟

پنجاب حکومت کے نئے ترجمان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ نئے ترجمان حسان  خاور سابق بیورو کریٹ ہیں اور پڑھے لکھے آدمی ہیں بین الاقوامی اداروں کیساتھ کام کرچکے ہیں۔صحافت تو ان کی گٹھی میں ہے۔یہ وزیراعظم کی نگاہ انتخاب کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق کام کریں گے۔انکا کہنا تھا کہ عمر شریف کی پوری دنیا میں دھوم تھی، انکا لوگوں کے دلوں میں گھر تھا،وفاقی اور سندھ حکومت نے اپنی پوری کوشش کی۔اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے۔جب تک اردو زبان موجود ہے عمر شریف کا نام زندہ رہے گا۔

خوشنود علی خان نے مفاہمت کا بادشاہ کے نام سے کتاب لکھی ہے،یہ کتاب کافی دلچسپ ہے اس میں آصف علی زرداری کی اہلیہ اور حلقہ احباب کے بارے میں ذکر موجود ہے۔بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زراری نے جب پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تو میں نے ان کے تمام گناہ معاف کردئیے۔میں اپنی کتاب بھی میں جلد ہی کسی دن قلم اٹھا کر لکھ دوں گا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -