’ شہباز شریف نیب کے ملزم ،وزیراعظم چیئرمین نیب کی تقرری کے لئےاُن سے مشاورت نہیں کریں گے‘فواد چوہدری نے دوٹوک اعلان کردیا

’ شہباز شریف نیب کے ملزم ،وزیراعظم چیئرمین نیب کی تقرری کے لئےاُن سے مشاورت ...
’ شہباز شریف نیب کے ملزم ،وزیراعظم چیئرمین نیب کی تقرری کے لئےاُن سے مشاورت نہیں کریں گے‘فواد چوہدری نے دوٹوک اعلان کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان چیئرمین قومی احتساب بیورو( نیب) کی تقرری کے لئے شہباز شریف سے مشاورت نہیں کریں گے، ہمارا واضح موقف ہے کہ اپوزیشن سے تو مشاورت ہوگی لیکن شہباز شریف سے نہیں، اگر اپوزیشن کو شوق ہے کہ لیڈر آف اپوزیشن سے مشاورت ہو تو اسے اپنا اپوزیشن لیڈر بدل لینا چاہئے۔

 وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت بارے ہمارا موقف بڑا واضح ہے کہ اپوزیشن سے تو مشاورت ہوگی لیکن شہباز شریف سے مشاورت نہیں ہو سکتی کیونکہ شہباز شریف نیب کے ملزم ہیں اور ان سے مشاورت کا مطالبہ ایسا ہی ہے جیسے چور سے پوچھا جائے کہ اس کا تھانیدار کون ہوگا؟ اگر حزب اختلاف کو لیڈر آف اپوزیشن سے مشاورت کرانے کا شوق ہے تو اسے اپنا لیڈر بدل لینا چاہئے، کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ ہم چوروں سے پوچھ کر تھانیدار لگائیں،اگر اپوزیشن لیڈر میں تھوڑی بہت بھی حیا ہوتی تو وہ خود ہی اپوزیشن لیڈر کے عہدہ سے ہٹ جاتے، ایک شخص جو نیب میں ملزم ہو اور وہ خود بضد ہو کہ چیئرمین نیب کی تقرری پر اس سے مشاورت کی جائے، غیر مناسب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد نیب مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے،آرڈیننس کا دوسرا حصہ ایکٹ بھی آئے گا، ہم آرڈیننس پر اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کریں گے، اپوزیشن کو دعوت دے رہے ہیں کہ اگر وہ مزید ترامیم یا اپنی رائے دینا چاہتی ہے تو ہمیں فراہم کر دے، ہم پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت ریفارمز لائیں گے،نیب بڑی کرپشن کے لئے بنا تھا، اس میں کاروبار اور دیگر چیزوں کو شامل کرنے سے نیب کا معیار گرا ہے، ہم نیب کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ 

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے نیب سے نجی اور بینکنگ تنازعات اور ٹیکس کو نکال دیا ہے، نیب کی توجہ اب بڑی کرپشن پر ہوگی، نیب کو بڑی مچھلیوں پر نظر رکھنی ہے، اس پر کیسز بننے چاہئیں،عدالتوں کی تعداد بھی بڑھائی جا رہی ہے، ان کا طریقہ کار تبدیل کر کے انہیں مضبوط کیا جائے گا، پراسیکیوشن کی مضبوطی کے لئے پراسیکیوٹر جنرل کے آفس کو بھی مضبوط کیا گیا ہے، اب پراسیکیوٹر جنرل جو ریفرنس فائل کریں گے وہ ذمہ دار ہوں گے کہ اس میں سزا بھی ہو، وزارت قانون نے پہلی مرتبہ ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دیا ہے۔

مزید :

قومی -