خلاف ضابطہ ادویات کی خریداری ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گورنرسٹیٹ بینک کوطلب کرلیا

خلاف ضابطہ ادویات کی خریداری ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گورنرسٹیٹ بینک کوطلب ...
خلاف ضابطہ ادویات کی خریداری ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گورنرسٹیٹ بینک کوطلب کرلیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خلاف ضابطہ ادویات کی خریداری پر گونرسٹیٹ بینک کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا،آڈٹ حکام کو30 دن میں انکوائری کرکے ذمہ داری فکس کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کردی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس چیرمین رانا تنویر حسین کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔کمیٹی میں علی نواز شاہ، اِبراھیم خان، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر طلحہ محمود، سید حسین طارق،ایاز صادق، شیریں رحمان، راجہ ریاض،خواجہ آصف،سردارنصراللہ خان دریشک ودیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں سٹیٹ بینک ،نیشنل بینک اور وزارت فوڈ سیکیورٹی کے آڈٹ پیروں کاجائزہ لیاگیا۔اجلاس شروع ہواتو چیرمین کمیٹی نے کہاکہ سٹیٹ بینک کے گورنرز کیوں نہیں آئے ہیں؟حکام نے بتایاکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ہورہے ہیں وہاں گئے ہیں۔چیرمین نے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں کیاپیسے مل جائیں گے کہ نہیں؟حکام نے بتایا کہ امید ہے کہ پیسے مل جائیں گے۔چیرمین نے کہاکہ قانون میں کوئی ترمیم لانا چاہتے ہیں تو لائیں باقی اپنے اختیارات کے لیے قانون میں تبدیلی کی ہے اور کہاتھا کہ مہنگائی کم ہوجائے گی مگر ہوا کچھ بھی نہیں ہواہے، جس طرح ایاز صادق حکام کی بجائے خود وضاحت دے رہےہیں اس طرح سردار ایاز صادق کو گورنر سٹیٹ بنک ہونا چاہیے ہمیں انہوں نے ایمپریس کردیا ہے۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ سٹیٹ بینک میں ادویات خریدنے کاکنٹریکٹ خلاف ضابطہ ہونے سے 3کڑور38لاکھ93ہزار روپے کانقصان ہوا۔ادویات اسلام آباد،راولپنڈی اور حیدرآباد ریجن کے لیے خریدی گئیں ادویات کی خریداری میں پیپرارولز کوبھی فالو نہیں کیاگیا۔کمیٹی نے کہاکہ سٹیٹ بینک کو پیپرا رولز کا فالو کرنا چاہیے اس پر ذمہ داری فکس ہونی چاہیے۔ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کمیٹی کوبتایاکہ ہمارے ہسپتال نہیں ہیں ڈسپنسریاں ہیں وہاں سے اپنے ملازمین کو دوائی دیتے ہیں۔کمیٹی نے کہاکہ یہ نقصان ہوا ہے اور یہ صرف تین شہروں میں دوائی خریدی گئی بتایاجائے کہ ان تین شہروں میں کتنے ملازمین ہیں اگرحساب لگایاجائے تو ایک شہر میں ایک کروڑ سے زائد کی ادویات خریدی گئیں جس پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے بتایاکہ ان کوملازمین کی تعداد کاعلم نہیں ہے جس پر کمیٹی نے گورنر سٹیٹ بینک کو طلب کرلیا۔ ڈپٹی گورنر کی تیاری نہ کرنے پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ ان کو اپنے ملازمین کا پتہ نہیں ہے،انی پائی ہوئی ہے۔وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ پیپرا رولز کو فالو ہونا چاہیے تھا۔چیرمین نے کہاکہ پیپرا حکام کو بھی کمیٹی میں طلب کرلیاکہ بتائیں اس پر پیپرارولز فالو کرنے بنتے ہیں کہ نہیں۔چیرمین کمیٹی نے معاملے کی انکوائری آڈٹ حکام کوہدایت کرتےہوئے کہاکہ انکوائری کریں اور ذمہ داری فکس کریں اس کے بعد اس پر ایکشن لیں اس معاملے پر 30دن کے اندر کمیٹی کو رپورٹ دیں۔

مزید :

قومی -