ہر صبح پیکنگ ہاؤسز کے دروازوں پر ہزاروں بھوکے اور بے روزگار کام کی امید میں پڑے رہتے

ہر صبح پیکنگ ہاؤسز کے دروازوں پر ہزاروں بھوکے اور بے روزگار کام کی امید میں ...
ہر صبح پیکنگ ہاؤسز کے دروازوں پر ہزاروں بھوکے اور بے روزگار کام کی امید میں پڑے رہتے

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:37

 بوڑھا آنٹاناس جہاں کام کرتا تھا وہاں سردیوں میں سخت اندھیرا رہتا اور گرمائش کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا۔ سارا دن آدمی کو اپنے مونھ سے نکلنے والی بھاپ دکھائی دیتی رہتی اور بعض اوقات انگلیاں جم کر اکڑ جاتیں۔ ایسے میں بوڑھے کی کھانسی ہر دن بڑھنے لگی حتیٰ کہ وہ وقت بھی آیا کہ جب اسے ایک لمحے کو آرام نہ آتا اور ارد گرد کے لوگ اس سے تنگ ہونے لگے۔ پھر اس سے بھی بڑا واقعہ ہوا۔۔۔ وہ جس جگہ کام کرتا تھا وہاں اس کے جوتے سارا دن کیمیکل میں ڈوبے رہتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ کیمیکل اس کے جوتے کھا گیا۔ پھر اس کے پاؤں پر زخم بننے لگے جو بڑھتے اور خراب ہوتے گئے۔ پتا نہیں اس کا خون خراب تھا یا گھاؤ گہرا تھا۔ اس نے جب لوگوں سے ذکر کیا تو اسے جواب ملا کہ یہ تو یہاں معمول کی چیز ہے، اسے شورا کہتے ہیں۔ اور یہاں کام کرنے والوں کو جلد یا بدیر اس کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہ زخم کبھی نہیں بھرتے البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر اس نے نوکری نہ چھوڑی تو اس کا انگوٹھا گل کر گر جائے۔ لیکن بوڑھے آنٹاناس نے نوکری نہیں چھوڑی۔ اسے گھر کی تکلیفوں کا اندازہ تھا اور یہ بھی یاد تھا کہ اسے نوکری کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی تھی۔ چنانچہ اس نے پاؤں کو باند ھ لیا اور لنگڑاتا، کھانستا کام کرتا رہا۔ اور ایک دن بے دم ہوکر زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ انھوں نے اسے اٹھا کر ایک خشک جگہ پر لٹایا پھر رات کو2 آدمی مل کر اسے گھر چھوڑ آئے۔ اسے بستر میں لٹا دیا گیا، اور اگرچہ وہ ہر روز اٹھنے اور کام پر جانے کی کوشش کرتا لیکن آخری وقت تک وہ دوبارہ بستر سے نہ اٹھ سکا۔ وہ دن رات بستر میں پڑا کھانستا رہتا۔ اس کا جسم بس ہڈیوں کا ڈھانچا رہ گیا تھا۔ پھر ایسا وقت بھی آیا کہ یوں لگتا جیسے کھال اس کی ہڈیوں پر منڈھی ہوئی ہے، جسے دیکھ کر خوف آتا تھا۔ ایک رات اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑا اور ساتھ خون کی بڑی سی اُلٹی آئی۔ گھر والوں نے گھبرا کر فوراً ڈاکٹر کو بلوایا جس نے صرف یہ بتانے کا آدھا ڈالر لے لیا کہ اب اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ شکر ہے ڈاکٹر نے یہ بات بوڑھے آنٹاناس کے سامنے نہیں کہی جو اب تک یہ سمجھ رہاتھا کہ وہ کل، نہیں تو پرسوں، ٹھیک ہو کر اپنے کام پر جائے گا۔ کمپنی والوں نے پیغام بھیجا تھا کہ وہ اس کی جگہ محفوظ رکھیں گے۔۔۔ یا شاید یورگس نے کمپنی کے کسی ملازم کو رشوت دے کر یہ بات سکھائی تھی کہ وہ کسی اتوار آکر بوڑھے کو یہ بات کَہہ دے۔ دادا آنٹا ناس اس بات پر یقین کرتا رہا۔ اسے یکے بعد دیگرے ہیمرج کے 3 حملے ہوئے اور ایک صبح سب جاگے تو اس کا جسم اکڑا ہوا اور ٹھنڈا پڑا تھا۔ اس کی موت کا آنٹ الزبیٹا کو بہت صدمہ ہوا۔ ان کے حالات اچھے نہیں تھے اس لیے وہ تجہیز و تکفین مناسب طریقے سے نہیں کر سکے۔ایک گاڑی تابوت کےلئے تھی اور ایک چھکڑا عورتوں اور بچوں کےلئے۔ یورگس نے،جو بہت تیزی سے چیزیں سیکھ رہا تھا، سارا اتوار اسی بھاؤ تاؤ میں گزارا اور وہ بھی گواہوں کے سامنے تا کہ بعد میں گاڑی والا مکر کر زیادہ پیسے نا مانگنے لگے۔ بوڑھا آنٹاناس اور اس کا بیٹا 25 سال جنگل میں اکٹھے رہے تھے اور اب یوں بچھڑنا بہت تکلیف دہ تھا۔ لیکن چوں کہ یورگس کا سارا دھیان اس بات پر تھا کہ وہ دیوالیہ ہوئے بغیر اس فرض سے سبکدوش ہو جائے اس لیے اسے پرانی یادیں سوچنے اور دکھی ہونے کی مہلت ہی نہیں ملی۔

اب قیامت خیز سردیاں شروع ہو چکی تھیں۔ جنگل میں تو ساری گرمیاں درختوں کی شاخیں روشنی کےلئے مصروف ِ جنگ رہتی تھیں اور جب زمہریری ہواؤں اور برف کے جھکڑ چلنا شروع ہوتے تو زمین پر مردہ شاخوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ پیکنگ ٹاؤن میں بھی کچھ ایسا ہی تھا لیکن یہاں شاخوں کی جگہ انسان تھے۔ سبھی مزدور زندہ رہنے کی کشمکش میں جُٹ جاتے اور جن کا وقت آچکا ہوتا وہ زندگی کے پیڑ سے سوکھی ٹہنیوں کی طرح ٹوٹ کر گر جاتے۔ سارا سال وہ پیکنگ مشین کا پرزہ بنے کام میں لگے رہتے۔ سرما وہ موسم ہوتا جب اس مشین کے ٹوٹے اور خراب پرزوں کو بدلا جاتا تھا۔ ہر طرف نمونیے اور نزلے کی وباءپھوٹ پڑتی۔ تپ ِ دق کے مریض اپنے انجام کو پہنچنے لگتے۔ٹھنڈی یخ ہواؤں کے جھکڑ چلتے۔ برف کے طوفان کمزور جان والوں کی ہمت آزماتے۔ ہر دن کوئی نا کوئی بیمار کام پر نہ پہنچ سکتا۔ ایسے میں وقت ضا ئع کیے بغیر اور کسی پوچھ تاچھ یا افسوس کے بناءنئے آدمی کو نوکری پر رکھ لیا جاتا۔

 کام ڈھونڈنے والوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ ہر صبح پیکنگ ہاؤسز کے دروازوں پر ہزاروں بھوکے اور بے روزگار کام کی امید میں پڑے رہتے۔ انہیں برف کے طوفان سے یا ٹھنڈ سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ سورج نکلنے سے 2 گھنٹے اور کام شروع ہونے سے1 گھنٹہ پہلے وہاں پہنچ جاتے۔ ٹھنڈ کی شدت سے کبھی ان کے چہرے تو کبھی ان کے ہاتھ پاؤں جم جاتے اور کبھی ان کا سارا وجود ہی ٹھٹھر جاتا لیکن پھر بھی وہ وہاں آتے کیوں کہ جانے کی اور کوئی جگہ بھی تو نہیں تھی۔ ایک دن ڈرہم نے اخبار میں برف کاٹنے کےلئے 200آدمیوں کی ضرورت کا اشتہار دیا۔ اس دن کوئی 200 مربع میل کے علاقے کا ہر بے گھر اور فاقہ زدہ آدمی برف میں چلتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔اس رات سٹاک یارڈ ڈسٹرکٹ کے سٹیشن ہاؤس میں بے شمار لوگ جمع تھے۔ کمرے بھرے ہوئے تھے۔ برامدوں میں اور ہر جگہ آدمی پر آدمی چڑھا ہوا تھا، حتیٰ کہ پولیس کو آکر دروازے بند کرنا پڑے جس سے بعض لوگ سردی میں جمنے کےلئے باہر رہ گئے۔ اگلی صبح ڈرہم کے دروازے پر تقریباً 3 ہزار لوگ جمع تھے اور بلوا روکنے کےلئے پولیس کو بلانا پڑا۔ پھر ڈرہم کے افسروں نے 20 بہترین جوان چن لیے۔ 200 کا ہندسہ تو پرنٹر کی غلطی سے چھپ گیا تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -