انگریزوں نے پنجابیوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے مذہبی جھگڑوں میں الجھا دیا

 انگریزوں نے پنجابیوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے مذہبی جھگڑوں میں ...
 انگریزوں نے پنجابیوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے مذہبی جھگڑوں میں الجھا دیا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:65 

 ان تحریکوں کو ناکام بنانے کےلئے انگریزوں نے ”پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو“ کی پالیسی استعمال کی۔ انہوں نے پنجابی عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کےلئے جو سب سے بڑا ہتھیار استعمال کیا وہ تھا مذہبی جھگڑے اور فرقہ واریت کا ہتھیار۔ پنجابی عوام کو جو اس دور تک بابا فریدؒ، باباگورو نانک،بابا بلھے شاہؒ اور شاہ حسینؒ کی انسان دوستی کی تعلیم کی روشنی میں پروان چڑھے تھی انگریزوں نے مذہبی جھگڑوں میں الجھا دیا۔ فرقہ واریت کی ذہنیت پنجابیوں کےلئے ایک نئی چیز تھی۔ اسے انگریزوں نے تخلیق بھی کیا اور اس میں تیزی بھی پیدا کی۔ مقصد یہ تھا کہ باہمی اتحاد نفاق میں تبدیل ہو جائے تاکہ عوام انگریزوں کے خلاف متحد نہ ہو سکیں۔ اکیلے انگریز اس پالیسی کے موجد نہیں تھے۔ انسانی تاریخ میں فرقہ واریت کا ہتھیار سامراجیوں، بیرونی حملہ آوروں اور لوٹ کھسوٹ کرنے والوں نے اپنا اقتدار قائم رکھنے کےلئے ہمیشہ استعمال کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ فرقہ واریت کا جو زہر انگریزوں نے پھیلایا تھا پنجاب میں آج بھی اس کے اثرات موجود ہیں جب تک غیر ملکی حکمرانوں کا پھیلایا ہوا فرقہ واریت کا یہ زہر پنجاب کے جسم سے خارج نہیں ہوتا ہر آنے والا آمر اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے پنجاب کو استعمال کرتا رہے گا۔

 انگریزوں نے پنجاب کو کنٹرول کرنے کےلئے وہ جاگیردار بھی پیدا کیے جن کی اولاد پنجاب کی آج کی سیاست پر بھی سانپ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھی ہے۔ ان جاگیرداروں نے جبری فوجی بھرتیاں کروائیں، آزادی کی تحریکوں کو توڑنے کےلئے انگریزوں کا ساتھ دیا، انگریزوں کی حمایتی سیاسی جماعتیں بنائیں اور انعام و اکرام حاصل کیے۔

 پنجاب کو فوجی بھرتیوں کا صوبہ بنانے کےلئے اس کے بارانی اضلاع میں تعلیمی ترقی اور صنعت کاری کو پالیسی کے تحت روکا گیا تاکہ لوگ غربت اور بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر فوجی ملازمت اختیار کریں اور انگریزوں کی خاطر دور دراز ملکوں میں جا کر گولی کا نشانہ بنیں۔ فوج میں بھرتی ہونے والوں کو ایسی ٹریننگ دی کہ وہ اور ان کے خاندان آزادی اور جمہوریت کے مخالف اور آمریت کے حامی و مددگار بن جائیں۔ آزادی کی تحریک میں حصہ لینے کی بجائے اسے کچلنے کی حمایت کریں۔

انگریزوں کی ان پالیسیوں کے پنجاب پر کسی قدر اثرات بھی مرتب ہوئے۔ مسلمانوں کے ایک حصے میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ انگریزوں سے نوکریاں اور دیگر فوائد حاصل کرنے چاہییٔں، حصول آزادی کےلئے لڑنا نہیں چاہیے۔ مسلمان کاروبار اور بیوپار میں پہلے ہی نہ ہونے کے برابر تھے تعلیمی استعداد بھی واجبی تھی۔ اس لیے نوکریوں کے حصول کی دوڑ لگوا دی گئی۔ یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ سیاست جاگیرداروں اور بیکاروں کا مشغلہ ہے۔ بچوں کو تعلیم دلاﺅ، محنت سے پڑھنے کی تلقین کرو اور پھر ملازم کراﺅ۔ ملازمت بھی سرکاری ہونی چاہیے۔ نوکری مل جانے کے بعد آنکھیں اور کان بند کرکے وقت گزارنا چاہیے اور باعزت طریقے سے پنشن لے کر ریٹائر ہونا چاہیے۔ اس پروپیگنڈے کے اثرات آج بھی پنجاب میں فراوانی سے موجود ہیں۔ تاہم اس پروپیگنڈے کے باوجود پنجابی مسلمانوں کا ایک حصہ آزادی کی جنگ میں پیش پیش رہا۔

 پنجاب پر انگریزوں کے قابض ہونے کے بعد یہاں کے لوگوں نے مندرجہ ذیل 10 بڑی تحریکیں چلائیں۔ چھوٹی تحریکیں ان کے علاوہ تھیں۔

-1  1857ءکی جنگ آزادی کے دوران پنجاب میں تحریک

-2  نامد ھاری کوکا تحریک 1871-72ء

-3  کالونائزیشن بل مخالف دیہی عوام کی تحریک1907-8ء

-4  غدرپارٹی تحریک

-5 لاہور سازش کیس

-6  1919ءکی رولٹ ایکٹ کے خلاف تحریک

-7  ہجرت تحریک

8 - ببرا کالی مورچے

-9  نوجوان بھارت سبھاکی کارروائیاں1928-30ء

-10 آزاد ہند فوج کی بغاوت۔

ذیل میں ہم ان تحریکوں کا سرسری جائزہ پیش کرتے ہیں۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -