بیمار جسے بھوک لگتی ہو اس تندرست سے بہتر ہے جسے بھوک نہیں لگتی 

 بیمار جسے بھوک لگتی ہو اس تندرست سے بہتر ہے جسے بھوک نہیں لگتی 
 بیمار جسے بھوک لگتی ہو اس تندرست سے بہتر ہے جسے بھوک نہیں لگتی 

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:35

 پوری مدت حیات کے اندر بقراط کا مشغلہ بس فن طب پر غور و فکر، طبی اصول و مبادی کا استخراج، مریضوں کا علاج اور مریضوں کو راحت پہنچانا اور انہیں امراض سے نجات دلانا تھا۔”ابیدیمیا“ نامی جو کتاب اس نے لکھی اس میں مریضوں کے بہت سارے واقعات قلم بند کئے، جو اس کے زیر علاج آئے تھے۔

ابیدیمیا کے معنی ہیں”طاری ہونے والی بیماریاں“

 حصول ثروت اور ضرورت سے زیادہ دولت کی خاطر بقراط نے کبھی کسی بادشادہ کی خدمت کرنا پسند نہ کی۔ جالینوس لکھتا ہے۔

 ایران کا ایک عظیم بادشاہ جسے یونانی ارتخشرس کہتے تھے دارابن دارا کا دادا اردشیر فارسی تھا اس کے زمانے میں ملک کے اندر ایک وباءآئی تو شہر فاوان کے گورنر کو اس نے لکھا کہ بقراط کو سو قنطار سونا نہایت عزت و احترام کے ساتھ پیش کرے اور اتنی ہی قیمت کی جاگیر عطا کرنے کی بھی ضمانت دے، اسی کے ساتھ یونان کے بادشاہ کو بھی لکھا کہ وہ بقراط کو ایران روانہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس پر اس نے 7 سال کے لیے صلح کی ضمانت اسے پیش کی۔ مگر بقراط نے یہ گوارا نہ کیا کہ اپنے ملک سے نکل کر ایران جائے۔ یونانی بادشاہ نے بے حد اصرار کیا تو اس نے کہا دولت کے عوض شرف و فضیلت کا سودا نہیں کر سکتا۔

 بادشاہ بروقیس جب کچھ بیماریوں میں مبتلا ہوا تو بقراط اس کے یہاں عرصہ تک نہیں رہا۔ بلکہ اسے چھوڑ کر اپنے اور دیگر حقیر شہروں کے فقراءو مساکین کے علاج میں مصروف ہوا۔ اس نے یونان کے تمام شہروں کا دورہ کرکے آب و ہوا اور مقامات پر ایک کتاب لکھی۔ جالینونس مزید لکھتا ہے۔

 بقراط محض دولت کو حقیر ہی نہیں سمجھتا تھا بلکہ عیش و آرام کو بھی حقارت سے دیکھتا تھا اور کردار کی خاطر تعب اور تکان کو ترجیح دیتا تھا۔

بعض قدیم تاریخوں کے مطابق بقراط کا زمانہ بہمن بن اردشیر کا تھا۔ بہمن بیمار پڑا تو اس نے بقراط کے شہر والوں کو لکھا کہ اسے بھیج دیں مگر انہوں نے جواب دیا ہمارے شہر سے بقراط نکالا گیا تو ہم سب نکل کر اس پر نثار ہو جائیں گے۔ بہمن نرم پڑ گیا اور بقراط کو انہی کے پاس رہنے دیا بقراط بخت نصر کے 96 سال بعد منصہ شہود پر آیا تھا۔ اس وقت بہمن 14 سال حکومت کر چکا تھا۔

 سلیمان بن حسان معروف بہ ابن جلجل لکھتا ہے۔

 لفظ بقراط کے معنی گھوڑوں کے منتظم اور ایک قول کے مطابق اس کے معنی صحت پر گرفت رکھنے والے اور ایک دوسرے قول کے مطابق ارواح کو گرفت میں رکھنے والے کے ہیں۔

 یونانی میں بقراط کا اصل نام”ایفوقراطیس“ (Hippocrates) ہے عرب بالعموم اسماءکو مخفف کر دیتے ہیں اور معانی میں اختصار پیدا کرتے ہیں، اس نام کو مخفف کرکے انہوں نے ابقراط یا بقراط کر دیا ہے۔

 عربی اشعار میں یہ نام بکثرت آیا ہے، اسے تاءسے بھی لکھتے ہیں جیسے ابقرات یا بقرات۔

 مبشرابن فاتک ”مختار الحکم و محاسن الکلم“ میں لکھتے ہیں۔

بقراط خوبصورت، گورا، درمیانہ قد، دونوں پتلیاں سرخی آمیز، ہڈیاں موٹی، خمیدہ پشت، داڑھی متوازن اور سفید، سربڑا سخت اعصاب سست رفتار، متوجہ ہوتا تو مکمل طور پر کثرت سے سرجھکائے ہوئے گفتگو کرتا۔ سامع کے سامنے اپنی گفتگو بار بار دہراتا، نشست اختیار کرتا تو نگاہ نیچی رکھتا۔ اس میں تھوڑی خوش فعلی بھی تھی۔ کثرت سے روزہ رکھتا، ہاتھ سے کبھی نہ کھاتا، بلکہ چھری کانٹا استعمال کرتا۔

 حنین بن اسحاق”نو ادر الفلاسفہ و الحکمائ“ میں لکھتا ہے۔

 بقراط کی انگوٹھی کے نگینہ پر حسب ذیل عبارت منقشوش تھی”المریض الذی پشتھی ارجیٰ عندی من الصحیح الذی لایشتھی“(بیمار جسے بھوک لگتی ہو میرے نزدیک اس تندرست سے بہتر ہے جسے بھوک نہیں لگتی ہو)۔

 کہا جاتا ہے کہ بقراط کی موت فالج سے واقع ہوئی تھی۔ اس نے وصیت کی تھی اس کے ساتھ ہاتھی دانت کا بنا ہوا ایک ڈبہ بھی دفن کر دیا جائے، کسی کو معلوم نہ تھا اس میں کیا ہے، قیصر بادشاہ کا گزر اس کی قبر سے ہوا تو اس نے قبر کو خراب حالت میں دیکھا اور اس کی تجدید کا حکم دیا۔ اس زمانے میں حکماءکے حالات کی جستجو بحالت زندگی بھی اور وفات کے بعد بھی بادشاہوں کا معمول تھا۔ کیونکہ ان کے نزدیک حکماءنہایت جلیل القدر اور مقرب ہستیوں کا مقام رکھتے تھے۔ قبر کھودی گئی اور قیصر نے وہ ڈبہ نکال لیا۔ اس میں اس نے موت کے بارے میں 25 مسئلے پائے جن کا سبب نامعلوم تھا۔ کیونکہ ان مسئلوں کے اندر بقراط نے موت کا جو فیصلہ کیا تھا وہ متعین اوقات اوہام پر مبنی تھا یہ عربی زبان میں موجود ہیں کہا جاتا ہے کہ جالینوس نے ان کی تشریح کی تھی، مگر میرے نزدیک یہ بات دور ازقیاس ہے۔ یہ مبنی برحقیقت ہوتی اور جالینوس کی تشریح بھی موجود ہوتی تو یقینا عربی زبان میں منتقل ہوئی ہوتی کیونکہ بقراط کی جتنی کتابوں کی تشریح جالینوس نے کی ہے وہ سب کی سب عربی میں منتقل کر دی گئی ہیں۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -