ملک میں بار بار مارشل لاءلگنے پر لطیف طنز 

ملک میں بار بار مارشل لاءلگنے پر لطیف طنز 
ملک میں بار بار مارشل لاءلگنے پر لطیف طنز 

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:11 

ان ملازمتی مجبوریوں کے باوجود 77ءکے مارشل لاءسے نا پسندیدگی کا اظہار انہوں نے کر دیا ہے انہوں نے مارشل لاءکو براہ راست تو طنز کا نشانہ نہیں بنایا لیکن بین السطور وہ اس پر تنقید کر جاتے ہیں مثلاً

”پہلے دن کی اطلاعات سے اندازہ ہوا کہ حسب معمول مارشل لاءکا ملک بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے فوجی کارروائی ملک کے ہر حصے میں کسی خون خرابے کے بغیر مکمل ہوگئی ہے اور چھوٹے بڑے پرندے کوہ مری میں اپنے گھونسلوں میں بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔“ 

یہاں حکومتی ذرائع ابلاغ کے انداز پر تنقیدکی گئی ہے جس میں ملک کی دگرگوں حالت کو ہمیشہ اطمینان بخش قرار دیا جاتا ہے اسی طرح مارشل لاءکے خیر مقدم کے لیے ”حسب معمول“ کا استعمال بہت ذومعنی ہے ملک میں بار بار مارشل لاءلگنے پر لطیف طنز کیا ہے۔انگریزی کتاب "State and Politics" میں انہوں نے صدر ضیا ءالحق کے طول اقتدار اور الیکشن کے التوا ءپر براہ راست تنقید کی ہے۔شاید اسی لیے حکومت نے اسے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی یہ کتاب1984ءمیں لکھی گئی تھی اور سالک کی وفات کے9 سال بعد 1997ءمیں شائع ہوئی۔ اس کتا ب کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو جسے پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ وہ حق کےلئے حاکم وقت کے خلاف لب کشائی کی جرأت رکھتے ہیں:

"By stability perhaps is meant prolongation of one regime like the 'Stable' 10 years rule of Field Marshal Ayub Khan or 'Stabler' 26 years reign of the Shaha of Iran . " 

اس کتاب میں انہوں نے صدر ضیاءالحق کی حکومت کی تعریف کی ہے کہ اس سے ماضی کے مقابلے میں ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی لیکن انہوں نے طنز یہ پیرائے میں اظہار کیا ہے کہ جب لوگ حکومت کے اقدامات سے خوش ہیں تو صدر صاحب الیکشن کیوں نہیں کرواتے آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار پر پابندی کیوں نہیں اٹھاتے طنز یہ انداز میں لکھتے ہیں:

"If the people are so happy and contented, nobody should be able to exploit or agitate them. Therefore, there should be no need for banning the political processions detaining the political leaders or imposing the pre-censor or self-sencorship on the national press."

اس سے زیادہ کسی ماتحت سے اپنے حاکم اعلیٰ کے خلاف اور کس اظہار کی توقع کی جا سکتی ہے سالک نے مزید صدر ضیاءالحق کی الیکشن کروانے کی یقین دہانیوں کو دن اور تاریخ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ صدر کو کم از کم اپنے وعدوں کا پاس کرنا چاہےے۔

اسے بجاطور پر صدیق سالک کی حق پر ستی اور اصول پسندی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ وہ صدر ضیاءالحق کی مخالفت کسی ذاتی نقصان کی وجہ سے نہیں بلکہ جمہوریت کی خاطر کر رہے تھے ورنہ ذاتی طورپر صدیق سالک صدر ضیا الحق کے منظور نظر تھے۔

حاکم وقت ان پر اتنا مہربان تھا تو اپنے مفاد کے لیے وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا کر خوشامد کر کے زیادہ فائدے میں رہ سکتے تھے لیکن صدیق سالک نے مقدور بھر صدر ضیاءالحق کے غلط فیصلوں پر تنقید کی ہے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -