بے زبان 

  بے زبان 
  بے زبان 

  

 جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو جانوروں کا عالمی دن گزرے دو دن سے بھی کم وقت ہوا ہو گا۔ یہ دن ہر سال 4 اکتوبر کو منایا جاتا ہے اور مقصد پالتو جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے اور ان کے تحفظ سے متعلق شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ عالمی دن تمام جانوروں کے حقوق اور تحفظ کا خیال رکھنے اور انسان اور جانوروں کے مابین انسیت کے جذبے کو اجاگر کرنے پر زور دیتا ہے۔ یہ الگ بات کہ آج کے اس ترقی یافتہ اور علم و آگہی والے دور میں بھی جانوروں کے حقوق پورے نہیں کئے جا رہے۔ ویسے تو باربرداری کے لئے جانوروں کے استعمال میں کمی آ رہی ہے کہ اس مقصد کے لئے پٹرول و ڈیزل سے چلنے والی مختلف نوعیت کی مکینیکل گاڑیاں دستیاب ہیں‘ لیکن جہاں جہاں تانگوں اور گدھا گاڑیوں کا نظام اب بھی موجود ہے وہاں وہاں جانوروں کے نا گفتہ بہ حالات کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہاں لاہور اور دوسرے علاقوں میں بھی جگہ جگہ جانوروں کو پانی پلانے کے لئے حوذیاں بنی ہوتی تھیں‘ اب کہیں نظر نہیں آتیں اور جانوروں کے مالکان بھی اپنے جانوروں کو بروقت پانی پلانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ جانور جن گاڑیوں کے آگے جُتے ہوتے ہیں، ان پر اوورلوڈنگ بھی عام ہے۔ بعض اوقات یہ اوورلوڈنگ جانور کی استعداد سے اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جانور کی اگلی ٹانگیں ہوا میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ میں نے کئی جگہوں پر تانگوں‘ ریڑھوں اور ریڑھیوں میں جُتے جانوروں کو پانی کے لئے ترستے اور خوراک کے لئے ادھر ادھر منہ مارتے دیکھا ہے۔ پتہ نہیں یہ بات ان جانوروں کے مالکان کو کیوں نظر نہیں آتی؟

یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ہو رہا ہے کہ ہمارے مذہب نے جانوروں کے حقوق نہ صرف مقرر کئے بلکہ ان حقوق کی پاس داری پر خاصا زور بھی دیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جانور انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں، ہماری کئی روزمرہ کی ضرورتیں ان سے وابستہ ہیں انسانی زندگی میں جانوروں کی اہمیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا، جانوروں کی اہمیت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ کلام پاک میں ان کا بار بار ذکر آیا اور پروردگار نے ان کا شمار اپنی نعمتوں میں کیا‘ بلکہ قرآنِ پاک کی کئی سورتوں کے نام جانوروں کے ناموں پر رکھے گئے جیسے سورہ بقر (گائے) سورہ نحل (شہد کی مکھی) سورہ نمل (چیونٹی) سورہ عنکبوت (مکڑی) سورہ فیل (ہاتھی) اور ایک سورہ الانعام (چوپائے) کے نام سے بھی ہے۔ علاوہ ازیں قرآنِ پاک میں 35 جانوروں کا تذکرہ ملتا ہے۔ احادیث پاک میں بھی جانوروں کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا گیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے انہیں ستانے اور پریشان کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ عرب کے لوگ جانوروں کو آپس لڑا کر بڑے لطف اندوز ہوتے تھے۔ آپﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ جانوروں کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ ہم انسان ان بے زبان جانوروں کو اللہ کی مخلوق سمجھیں اور ان کے ساتھ شفقت ونرمی اور رحم و کرم کا معاملہ کریں۔ جانوروں کے حقوق کے بارے میں اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمرؓ نے کہا تھا کہ دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا پیاسا مر گیا تو انہیں خوف ہے کہ اس کی بھی ان سے بازپرس ہو گی۔

اب تو موسمِ سرما شروع ہونے والا ہے لیکن گرمیوں کے موسم میں ہمیں اپنی چھتوں پر پانی کا برتن رکھنا چاہئے تاکہ پیاسے پرندے سیراب ہو کر آپ کو دعائیں دیں اور ممکن ہو تو ان کے لیے دانہ بھی ڈال دیا کریں۔ گلی محلے وغیرہ میں کہیں کوئی بھوکا پیاسا جانور دیکھیں تو اس کی ضرورت پوری کریں۔ اس کے لئے ضروری نہیں کہ موسمِ گرما کا ہی انتظار کیا جائے‘ یہ کام ہم سردیوں کے موسم میں بھی کر سکتے ہیں۔ جب ہم کوئی جانور پالتے ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اور اس کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے باز پرس بھی ہو گی۔ جانور ہماری ذمہ داری اس لئے ہیں کہ وہ ہماری خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں‘ ان سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں‘ بعض جانوروں سے ہم خوراک اور کچھ سے سواری کا کام لیتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ زبان تو رکھتے ہیں لیکن اپنا مدعا بیان نہیں کر سکتے۔ ہمیں خود ہی سمجھنا ہوتا ہے کہ اس وقت انہیں کس چیز کی ضرورت ہے‘ اور پھر اس ضرورت کو پورا بھی کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی جانور کا گوشت درکار ہے تو اسے سہولت کے ساتھ ذبح کرنا چاہئے تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو۔ اگر وہ باربرداری کے کام آتا ہے تو ضروری ہے کہ اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ کسی جانور سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لینا چاہئے تاکہ وہ مصیبت میں نہ پڑ جائے۔ 

لیکن افسوس کہ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ آج بھی دیہات میں کتوں کی آپس میں‘ کتوں کی ریچھ کے ساتھ اور مرغوں کی مرغوں کے ساتھ لڑائیاں بڑے شوق سے کرائی اور دیکھی جاتی ہیں۔ ریڑھیوں اور ریڑھوں کے آگے جتے ہوئے گدھوں اور خچروں کو اپنے مالکان کے ہاتھوں پٹتے تو آپ نے بھی متعدد بار دیکھا ہو گا۔ یہ بھی کئی بار ہوا کہ گدھا یا خچر پوری رفتار سے چل رہا ہے پھر بھی مالک ان پر ڈنڈے برسا رہا ہے۔ ایسا کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ یہ بھی جان دار ہیں اور ان کو بھی پیٹے جانے یا کاٹے جانے پر درد ہوتا ہے۔ اسی طرح کھلے‘ آزاد پرندوں کا بڑی بے رحمی سے شکار کیا جاتا ہے۔ میں یورپ‘ برطانیہ یا امریکہ کی مثال نہیں دیتا کہ وہاں اگر جانوروں کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے تو انسانوں کے کئی حقوق پامال بھی کئے جاتے ہیں‘ لیکن ہم مسلمان ہیں اور جانوروں کے ساتھ اچھے سلوک کا حکم ہمیں اپنے مذہب سے ملتا ہے۔ ہمیں تو دوسروں کے لئے مثال ہونا چاہئے تھا‘ لیکن ہم جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مثال بنے ہوئے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور بھی اس زمین کا مفید و کارآمد حصہ ہیں اور مختلف شکلوں میں ہماری ضروریات پوری کرتے ہیں‘ چنانچہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کی بہتر دیکھ بھال کے ساتھ ان کی خوراک اور صحت و صفائی کا بھی خیال رکھا جائے۔ پاکستان میں 1990 میں جانوروں پر ظلم کے خلاف بِل منظور کیا گیا تھا جس کے تحت ایسے کسی فعل پر جرمانہ اور سزا سنائی جا سکتی ہے، لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں جانوروں سے بد سلوکی، ان پر ظلم، تشدد اور مختلف صورتوں میں ان کا استحصال جاری ہے اور ایسے افراد کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بل پر جمی گرد صاف کی جائے اور اس کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اور جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی این جی اوز کو بھی متحرک ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اگر یہاں جانور نہ ہوں تو یہ دنیا اور ہماری زندگی کیسی لگے؟

مزید :

رائے -کالم -