پنجاب گڈ گورننس ایک خواب

 پنجاب گڈ گورننس ایک خواب
 پنجاب گڈ گورننس ایک خواب

  

 جب پنجاب پر وسیم اکرم عثمان بزدار کا راج تھا تو اپوزیشن کا ایک ہی اعتراض ہوتا تھا پنجاب کو گورننس کے لحاظ سے زیرو کر دیا گیا ہے،عمران خان یہ کہتے تھے عثمان بزدار سے بڑھ کر صوبے کو کوئی اچھا وزیراعلیٰ نہیں ملا جبکہ واقفانِ حال کا خیال تھا اُن سے کمزور وزیراعلیٰ کوئی نہیں۔اُس زمانے میں کہا جاتا رہا کہ اگر عمران عثمان بزدار کی جگہ چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنا دیتے تو پنجاب کارکردگی کے حوالے سے ایک بہترین صوبہ بن جاتا، مگر عمران خان کب کسی کی سنتے ہیں۔ انہیں تو عثمان بزدار کی شکل میں ایک ہیرا مل گیا تھا جو پوری طرح اُن کی تابعداری کرتا،حکم بجا لاتا اور ہر ہفتے ڈکٹیشن لینے اسلام آباد پہنچ جاتا،خیر حالات نے پلٹا کھایا،عمران خان کی مرکز میں حکومت ڈانوا ڈول ہوئی تو انہوں نے اسے بچانے کے لئے مسلم لیگ(ق)  سے ڈیل کی، عثمان بزدار  کو استعفا دینے کا حکم دیا اور چودھری پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کر دیا۔خیر مرکزی حکومت تو نہ بچ سکی اور عدم اعتماد کامیاب ہو گئی۔تاہم پنجاب کو بچانے کی بہتری کوشش کی گئی، لیکن25 ارکانِ اسمبلی پی ٹی آئی چھوڑ کر مسلم لیگ(ن) کے امیدوار حمزہ شہباز سے مل گئے،وہ وزیراعلیٰ بن گئے اور چودھری پرویز الٰہی پھر وزیراعلیٰ بننے سے محروم رہے۔تحریک انصاف نے اپنے منحرف ارکان کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کی وساطت سے الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرنس بھیجا جس نے بالآخر اُن ارکانِ اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا اور گیم ایک مرتبہ پھر اوپن ہو گئی۔وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ پھر شروع ہوئی اور اس بار چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے۔آج صوبے میں اُن کی عملداری ہے اور پنجاب کے عوام اب راہ دیکھ رہے ہیں کہ صوبے میں گڈ گورننس کے کھوئے ہوئے آثار نظر آئیں جو فی الوقت تو کہیں دکھائی نہیں دیتے۔

یہ بات آج کل زبانِ زد عام ہے کہ بیورو کریسی جتنی عثمان بزدار دور میں بے لگام اور منہ زور تھی، آج چودھری پرویز الٰہی کے دور میں اُس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے بھی کوئی ایسا مانیٹرنگ کا نظام وضع نہیں کیا جو اِس بات کا جائزہ لے کہ سرکاری مشینری عوام کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں روزانہ اجلاس کرنے سے بات نہیں بنتی، جب تک فیلڈ میں نکل کر صورتِ حال کا جائزہ نہ لیا جائے۔ اِس وقت پنجاب کی حالت تو یہ ہے کہ چیف سیکرٹری نے کام کرنے سے معذرت کی ہوئی ہے،مستقل چیف سیکرٹری اُن کی جگہ موجود نہیں،وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کے آنے سے ایک کام ضرور ہوا ہے اور وہ ہے تبادلوں کا جھکڑ،روزانہ درجنوں کے حساب سے تبادلے ہوتے ہیں۔ عثمان بزدار کے دور میں الزام لگایا جاتا تھا کہ پیسے لے کر تبادلے اور تقرریاں کی جاتی ہیں۔اپوزیشن اُس دور میں یہ بھی کہتی رہی کہ فرح گوگی اور احسن گجر اِس سارے معاملے  کو دیکھتے ہیں۔ عثمان بزدار کی حکومت ختم ہوئی تو مسلم لیگ (ن) کی طرف سے باقاعدہ یہ الزامات لگائے گئے کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کے ریٹ مقرر تھے اور معاوضے کے حساب سے تقرری کی مدت کا تعین بھی کیا جاتا تھا، اس الزام میں کتنی صداقت تھی،اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جتنا عثمان بزدار کے دور میں تیزی سے تبادلے ہوئے کسی کے دور میں نہیں کئے گئے، اب چودھری پرویز الٰہی کے دور میں بھی یہی ہو رہا ہے اندازنہ ایک بڑی لسٹ اخبارات میں آ جاتی ہے آخر افسروں کی یہ تبدیلی کس مقصد کے لیے کی جاتی ہے، صرف چند ماہ تعینات رہنے والا افسر عوام کی کیا خدمت کر سکتا ہے جس پر ہر وقت تبادلے کی تلوار لٹکتی رہے اُسے اپنے کام سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ وہ تو کم وقت میں زیادہ سے زیادہ وسائل اکٹھے کرنے کی دوڑ میں شامل ہو جائے گا اور خلق ِ خدا اپنے مسائل لے کر دھکے کھاتے رہیں گے۔

ہم نے یہ دیکھا ہے کہ ہر حکومت کے افسروں کی ایک لسٹ ہوتی ہے یہ ہماری بیورو کریسی بھی قائداعظمؒ کے فرمان پر عمل کرنے کی بجائے اپنے مفادات کو سامنے رکھتی ہے، بڑے اور چھوٹے سے چھوٹا افسر سیاسی طور پر اپنا کوئی نہ کوئی قبلہ بنا کر رکھتا ہے۔ جونہی اُس کی من پسند حکومت آتی ہے وہ اچھی پوسٹنگ کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے ایسا بندہ بھلا قانون قاعدے اور میرٹ کے مطابق کام کیسے کر سکتا ہے،اُس کی تو ساری ترجیح اپنے سفارشیوں کو خوش رکھنا ہوتا ہے۔پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت بنی تو سینکڑوں افسروں کو عہدوں سے ہٹا کر نئے افسر تعینات کر دیئے گئے،مقصد یہ نہیں ہوتا کہ گڈ گورننس قائم ہو، عوام کو ریلیف ملے، بلکہ اصل مقصد یہ ہوتا ہے اپنے دفاداروں کو آگے لایا جائے۔ کئی افسر بچارے شک کی بنیاد پر رگڑے جاتے ہیں، اُن کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ وہ حکمرانوں کے آلہ کار بنیں،مگر اُن کے بارے میں یہ شک کہ انہیں پچھلی حکومت نے تعینات کیا تھا،اُن کے تبادلے کی بنیاد بن جاتا ہے۔بعض افسر میرٹ پر کار بند رہنے کی عادت کے باعث بھی تبدیلی کی زد میں آتے ہیں۔شاید حکمرانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ عوام کو تبدیلی کا احساس دلانے کے لیے افسروں کے بڑے پیمانے پر تبادلے بھی ضروری ہیں، حالانکہ یہ کار بے کار ہے، ایک پتھر کی جگہ دوسرا پتھر رکھنے سے کیا تبدیلی آ سکتی ہے۔سی ایس پی افسران کی کلاس کا حکمران ویسے بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔انہیں معطل تک کرنا اُن کے اختیارات میں نہیں، بس تبادلہ کر کے غصہ نکال سکتے ہیں،اس لیے فطرتاً تمام سی ایس پی افسران ایک جیسے ہو گئے ہیں اُن کے اندر وہ رمق باقی نہیں رہی جو عوام کی خدمت کے حوالے سے ہونی چاہیے۔ایک ڈپٹی کمشنر جاتا ہے تو اُس جیسا دوسرا آ کے بیٹھ جاتا ہے۔عوام کو پہلے والے سے کچھ فائدہ ہوتا ہے اور نہ نیا آنے والا اُن کے مسائل حل کرتا ہے۔

اسی تناظر میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ صوبے کا وزیراعلیٰ بدلنے سے گڈ گورننس آ جائے گی تو یہ اُس کی خام خیالی ہے۔اصل حکمرانی ہر دور میں افسر شاہی کرتی ہے۔افسر شاہی نے یہ ٹھان لی ہے کہ صوبے میں گڈ گورننس نہیں آنے دینی کیونکہ گڈ گورننس آ گئی تو عوام کی عادتیں خراب ہو جاتی ہیں اور وہ خود کو کیڑے مکوڑے سمجھنے کی بجائے شہری سمجھنے لگیں گے۔چودھری پرویز الٰہی جب سے وزیراعلیٰ بنے  ہیں پنجاب میں جرائم بھی بڑھ گئے ہیں اور عوام کے مسائل بھی، میں جنوبی پنجاب کی بات کرتا ہوں،یہاں سرکاری دفاتر میں چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے عوام کو خوار ہونا پڑتا ہے۔محکمہ مال،ایکسائز، صحت و صفائی کے ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ کرپشن پر احتجاج کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ڈپٹی کمشنروں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنے ضلع میں تمام سرکاری دفاتر کی کارکردگی جانچنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں،مگر اس وقت حال یہ ہے کہ خود ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر کی ذیلی برانچیں خلقِ خدا  کے لیے اذیت کا منبع بن چکی  ہیں۔ابھی ایک ڈپٹی کمشنر کو ضلع کے معاملات سمجھنے کا موقع نہیں ملتا کہ اُس کا تبادلہ ہو جاتا ہے تو صاحبو! آپ صرف عثمان بزدار کو یہ الزام نہ دیں کہ اُن کے دور میں پنجاب گڈ گورننس سے محروم تھا، موجودہ دور میں بھی صوبہ گڈ گورننس کے بغیر چل رہا ہے اور کسی کو اس کی پرواہ بھی نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -