کوئلے کے ذریعے بجلی

کوئلے کے ذریعے بجلی

  

چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن انجینئر ڈاکٹر شاہد منیر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 187 ارب ٹن کوئلے کے ذخائرموجود ہیں جن کی مالیت عالمی مارکیٹ میں 30کھرب ڈالر ہے، کلین کول ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتے ہوئے اس سے 500 سال سے زائد عرصے تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ کوہسار یونیورسٹی مری اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے زیر اہتمام پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے مشترکہ طور پر منعقدہ ”پیرا ڈائم شفٹ ان ہائر ایجوکیشن۔ ہیکاتھون پلاننگ فار فیوچر“ کے موضوع پر تین روزہ وائس چانسلرز کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو توانائی کے مہنگے وسائل درآمدی تیل و گیس پر انحصار کرنے کی بجائے بجلی کی بڑھتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی وسائل کی ترقی و استعمال کی ضرورت ہے۔سستی بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے مقامی کوئلے، گیس، شمسی توانائی، شیل آئل اور گیس اور ونڈ انرجی سے بھرپور استفادہ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ پاکستان گنا پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور ہم گنے اور کپاس کے ڈنٹھل کے فضلے سے بھی بجلی پیدا کر سکتے ہیں، جنوبی ایشیائی ممالک بھی بائیو گیس استعمال کر رہے ہیں جبکہ پن بجلی توانائی کا سب سے سستا ذریعہ ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے واضح لائحہ عمل طے کرے تاکہ مہنگی بجلی کے سنگین مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -