تاحیات نااہلی کا ”کالا قانون“

تاحیات نااہلی کا ”کالا قانون“

  

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطاء بندیال نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل ووڈا کی الیکشن کمیشن کی طرف سے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ کسی بھی عوامی نمائندے کی تاحیات نااہلی ڈریکونین لاء یعنی ’کالا قانون‘ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ فیصل ووڈا کی عوامی عہدے کے لیے نااہلیت کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم بھی کردے تو بھی کیس کے حقائق وہی رہیں گے، تبدیل نہیں ہوں گے، اسی لیے جب فیصل ووڈا الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تو ہائی کورٹ نے بھی انہی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد ہی رٹ خارج کردی تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے حقائق کا درست طورپرجائزہ لیا ہے۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ وہ آرٹیکل 62 ون ایف کے خلاف کیس محتاط ہو کر سنیں گے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا ء بندیال کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ چیف جسٹس نے آئین کی جس شق 62 ون ایف کو آج کالا قانون قرار دیا ہے، چارسال قبل یعنی 2018 ء میں پانچ رکنی بینچ کا تاحیات نا اہلی کا متفقہ فیصلہ خود انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے تحریر کیا تھا۔ عمر عطا ء بندیال اس بینچ کا حصہ تھے جس نے اس قانون کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد یہ قرار دیا گیا تھا کہ اس قانون کے تحت نااہل ہونے والا شخص تاحیات نا اہل تصور ہو گا، وہ کسی الیکشن میں حصہ لینے اور عوامی عہدہ رکھنے کا اہل نہیں ہو گا۔ اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ کا تاحیات نااہلی کا متفقہ فیصلہ بھی جسٹس عمر عطا ء بندیال  ہی نے کمرہ ئعدالت میں پڑھ کر سنایا تھا۔ جسٹس عمر عطاء  بندیال کی طرف سے فیصلہ سنانے سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ پاکستانی عوام کو اچھے کردار کے حامل رہنماؤں کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت چھپانے پر فیصل ووڈا کو آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد وہ اسلام آباد ہائیکورٹ گئے جہاں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رہا اوراب فیصل ووڈا کے کیس کی سماعت عدالت عظمیٰ میں کی جا رہی ہے۔

فیصل ووڈا پہلے رکن اسمبلی نہیں جو آئین کی اس دفعہ کے تحت تاحیات نا اہل کیے گئے بلکہ نواز شریف اور جہانگیر ترین  پر بھی اس قانون کا اطلاق ہو چکا ہے۔ آئین کی شق 62 ون ایف کے مطابق پارلیمنٹ کا رکن بننے کے خواہش مند شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ سمجھدار ہو، پارسا ہو، ایماندار ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کے خلاف نہ آیا ہو، آئین کی یہ شق کسی شخص کے صادق اور امین ہونے کے بارے میں ہے۔ پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین عابد ساقی نے چیف جسٹس عمر عطاء  بندیال کی طرف سے 62 ون ایف کو ’کالا قانون‘ قرار دینے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ ابھی بھی چیف جسٹس کے اختیار میں ہے کہ وہ فل کورٹ یا سات رکنی لارجر بینچ بنا کر اس قانون کے تحت دیے گئے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ اگرچہ حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹر پلوشہ خان کی طرف 62ون ایف میں ترمیم کے لیے ایک بل سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق اس شق سے صادق اور امین کی عبارت کو راست گو اور وفا شعار کے الفاظ میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، مجوزہ ترمیم کے مطابق صادق اور امین دنیا میں صرف پیغمبر اسلام کی ذات ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین نے یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج رکھا ہے لیکن الفاظ کی تبدیلی سے کیا حاصل ہو گا؟ نئے الفاظ سے کیا تاحیات نااہلی کی تشریح بدل جائے گی؟ نئے الفاظ کی تشریح انتہائی بحث طلب کام ہے اور اس کے لیے خاصا وقت درکار ہو گا، ہو سکتا ہے نئے انتخابات سے پہلے ایسا ممکن نہ ہو پائے اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ مذکورہ ترمیم کے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں گے۔ایک نقطہئ نظر یہ ہے کہ اس حوالے سے آئینی ترمیم کی جانی چاہیے جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ عام قانون ہی کے ذریعے نااہلی کی مدت کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ آئین میں کہیں بھی تاحیات نااہلی کی سزا تجویز نہیں کی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں تاحیات ناہلی کے حق میں نہیں ہیں، عمران خان کی نظر میں اس قانون کو اسی طرح رہنا چاہئے، تاحیات نا اہلی بھی ہونی چاہئے، چاہے اس کی زد میں وہ خود ہی کیوں نہ آجائیں۔ حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے معاملے پر سپریم کورٹ کے 26 جولائی 2022 ء کے فیصلے میں جسٹس عمر عطا ء بندیال نے لکھا تھا کہ اگر کوئی جج ’نادانستہ‘ طور پر قانون کی غلط تشریح کردے تو اس کے پاس بعد ازاں دانستہ طور پر اِس کی صحیح تشریح کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ آئین میں 62ون ایف کے تحت ملنے والی سزا کا تعین ہی نہیں کیا گیا اس لیے یہ تصور کیا گیا کہ نااہلی تاحیات ہو گی۔اس حوالے سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ اس قانون کے تحت نااہلی سے متعلق دیے گئے فیصلوں کا جائزہ لے۔ تاحیات نا اہلی کی موجودہ تشریح سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کی تھی اس لیے اب لازم ہو گا کہ فل کورٹ یا لارجر بنچ اس معاملے کی سماعت کرے اور جو تشریح پہلے کی جا چکی ہے اُس پر نظرثانی کرے تاکہ تاحیات نااہلی کی سزا کتابِ قانون سے خارج کی جا سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -