شوگر ایڈوائزری بورڈ کا پہلا اجلاس آج طارق بشیر چیمہ کی زیر صدارت ہو گا

شوگر ایڈوائزری بورڈ کا پہلا اجلاس آج طارق بشیر چیمہ کی زیر صدارت ہو گا

  

لاہور(خصوصی رپورٹ)پاکستان شوگر ملز ایسوایشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت ِ پاکستان نے شوگر ایڈوائزری بورڈ کو منسٹری آف انڈسٹریز سے الگ کر کے منسٹری آف فوڈ سیکورٹی کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ اس طرح منسٹری آف فوڈ سیکورٹی میں شوگر ایڈوائزری بورڈ کی نئے سرے سے تشکیل دی گئی ہے۔شوگر ایڈوائزری بورڈ کی پہلی میٹنگ آج طلب کر لی گئی ہے۔ اس میٹنگ کی صدارت وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ صاحب کریں گے۔ میٹنگ کے ایجنڈے کا اجرا بھی کر دیا گیا ہے جس میں اہم ایجنڈا چینی کی پیداوار، کھپت اور قیمتوں کے حوالے سے قومی اور صوبائی سطح کے اعدادوشمار کا جائزہ لینا ہے۔اس اجلاس کے ایجنڈے پر مشاورت کیلئے پاکستان شوگر ملز ایسو ایشن کا اجلاس ہوا جس کی صدارت چئیرمین پاکستان شوگر ملز ایسوایشن،  چوہدری محمد ذکا اشرف نے کی۔ اس اجلاس میں وزارت میں جاری کئے گئے ایجنڈے اور اعدادوشمار پر غوروخوض کیا گیا۔وزارت کی طرف سے جاری ایجنڈے کے مطابق ملک میں سال 22-2021 میں 7،905،564 ٹن چینی پیدا ہوئی۔ جبکہ پچھلے سال کے اسٹاک سے 51،706 ٹن چینی موجود تھی۔شوگر بیٹ سے حاصل ہونے والی چینی کی مقدار 70،000 ٹن تھی۔ اس طرح سیزن اور سال کے آغاز پر چینی کی کل مقدار 8،027،270 ٹن تھی۔ جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق اب تک یعنی 30 ستمبر تک 5،316،473 ٹن چینی اسٹاک سے جا چکی ہے یا استعمال ہو چکی ہے۔ روزانہ کھپت کا تخمینہ 15،980 ٹن ہے۔ اس طرح منسٹری کے جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق نومبر میں نیا کرشنگ سیزن شروع ہونے تک ملک میں 1،736،017 ٹن چینی فالتو موجود ہو گی۔اجلاس میں ممبران نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیاکہ اب تک حکومت نے چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جبکہ ملک میں 17 لاکھ ٹن سے زائد چینی موجود ہے۔اگر اس زائد از ضرورت چینی کو برآمد نہ کیا گیا تو کسانوں، شوگر ملوں اور ملک کی معیشت کو شدید نقصان ہو گا۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طورپر چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔

اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -