سائفر معاملہ،تحقیقات کیلئے انکوائری ٹیم تشکیل

  سائفر معاملہ،تحقیقات کیلئے انکوائری ٹیم تشکیل

  

       اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سائفرمعاملے سے متعلق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے وفاقی تحقیقاتی کمیٹی (ایف آئی ا ے) کی انکوائری ٹیم تشکیل دیدی گئی۔ انکوائری ٹیم کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے کے 5 ممبران، آئی ایس آئی، ایم آ ئی اور آئی بی کے 3 نمائندے شامل ہو نگے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق ایف آئی اے اسلام آباد زون کے سربراہ تحقیقاتی ٹیم کے ڈائریکٹر ہونگے۔ ٹیم عمران خان،سابق وزراء اور اعظم خان کی سائفر سے متعلق گفتگو کی تحقیقات کریگی۔یاد رہے ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کرنے کی منظوری وفاقی کابینہ نے یکم اکتوبر کودی تھی،ادھر الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں سٹیٹ بینک سے عمران خان کے بینک اکاونٹس کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق اس ضمن میں سٹیٹ بینک کوخط بھی لکھ دیاگیا ہے،تفصیلات عمرا ن خان کے توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف مالی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پرمانگی گئی ہیں،سٹیٹ بینک عمران خان کے بینک اکاو نٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو دیگا جس کے ملنے کے بعد جائزہ لیا جائیگااور بعد ازاں الیکشن کمیشن محفوظ فیصلہ سنائیگا۔یاد رہے الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی نا اہلی پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔دوسری طرف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان اور فواد چودھری کو توہین الیکشن کمیشن نوٹس کے معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کی آئینی پٹیشن کی سماعت کیلئے لارجر بینچ بنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس صداقت علی خان، جسٹس مرزا وقاص رف اور جسٹس جواد الحسن پر مشتمل 3 رکنی لارجر بینچ آج بروز جمعرات کو دوپہر ایک بجے آئینی پٹیشنوں کی سما عت کریگا۔ توہین الیکشن کمیشن کے نوٹس کیخلاف پٹیشنوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک انتظامی کمیشن اور عدلیہ کا درجہ نہیں رکھتا۔ توہین عدالت کی کارروائی صرف عدلیہ کا اختیار ہے، لہٰذا الیکشن کمیشن کے نوٹس کالعدم قرار دیئے جائیں۔ سماعت کیلئے مقرر کیے گئے لارجر بینچ نے عمران خان، فواد چودھری، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

کمیٹی تشکیل

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ممکنہ لانگ مارچ کا آغاز کہاں سے ہو گا، وقت اور جگہ کا تعین میں کروں گا، اہم کارڈ ابھی میرے سینے سے لگے رہیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملاقات کرنیوالے پارٹی رہنما وسیم رامے سے دوران گفتگو کیا، عمران خان  نے کہا پارٹی رہنماؤں کو لانگ مارچ کیلئے ٹاسک دے دیئے ہیں۔ ہر ضلع سے چھ چھ ہزار لوگوں کو حقیقی آزادی مارچ میں لیکر آنا ہے، پارٹی تنظیم اپنی تیاری مکمل رکھیں، ہر تنظیم اپنا اپنا ڈیٹا سینیٹر شبلی فراز کو بھیج دے، ہر ضلع میں ساڑھے تین ہزار سے زائد عہدیدار ہونگے جو مارچ میں لوگوں کو لیکرآئیں گے۔ تنظیموں کی جانب سے مکمل ڈیٹا ملتے ہی لانگ مارچ کی کال دیدوں گا۔اس سے قبل عمران خان کے زیر صدارت ایوان وزیر اعلیٰ 90 شارع قائداعظم اجلاس ہوا، اجلاس میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی، میاں اسلم اقبال، یاسمین راشد، حماد اظہر و دیگر رہنما شریک ہوئے،اجلاس میں گوجرانولہ، ساہیوال، گجرات اور لاہورر ڈویژن کے پارٹی عہدیداروں نے شرکت کی۔اجلاس میں سینٹرل پنجاب کی یوسی لیول تک تنظیموں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب میں عمران خان نے کہا ملک کو کرپٹ مافیا سے بچانا، حقیقی آزادی کی حفاظت کرنا ہے اور آزادی مارچ کیلئے جب کال دوں آپ نے با ہر نکلنا ہے۔ عمران خان نے اس موقع ہر ارکان سے حلف بھی لیا۔ سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے حلف نامہ پڑھا۔عمران خان سمیت پارٹی کی تمام قیادت اور تنظیمی عہدید ا ران نے حلف اٹھا یا، جس میں عہد کیا گیا ملکی ائین کی سر بلندی،ملکی سالمیت کیلئے حقیقی آزادی مارچ کے جہاد میں شرکت اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔ عمران خان نے کہایہ الیکشن سے پہلے میری آخری کال ہوگی، امپورٹڈ اور کرپٹ حکومت نے پانچ مہینوں میں ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے، یہ چوروں کا ٹولہ اپنے کرپشن کے کیسز ختم کروا رہا ہے۔ امپورٹڈ حکو مت نے عوام پر مہنگائی کے بم گرائے دئیے ہیں۔ملک کے موجودہ بحرانوں کا واحد حل جنرل الیکشن میں ہے۔ پوری قوم پی ٹی آئی کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اس وقت تحریک انصاف واحد وفاقی پارٹی ہے،جسکی نمائندگی چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی موجود ہے، اور یہی جماعت ملک اور عوام کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دریں اثناء ایوان وزیراعلیٰ 90 شاہراہ قائد اعظم پر سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا ہر کام مذاکرات سے ہوسکتا ہے،کیونکہ آخر میں تو مذاکرات سے ہی با تیں طے ہوتی ہیں، لانگ مارچ کی تاریخ میں نے اپنے تک رکھی ہے، شاہ محمود قریشی کو بھی نہیں بتایا، 16اکتوبر دور لگتا ہے۔ ہوسکتا ہے ضمنی انتخاب کی نوبت ہی نہ آئے آرمی چیف کوئی بھی آجائے، مجھے فرق نہیں پڑتا، لیکن سپہ سالار کا تقرر میرٹ پر ہونا چاہیے، یہ مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں، یہ تو سکیورٹی تھریٹ ہیں، ایک مجرم کیسے اتنی بڑی تعیناتی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا سائفر کہیں چوری نہیں ہوا، اس کی ماسٹر دستاویز دفتر خارجہ میں ہوتی ہے، شکر ہے انہوں نے سائفر کو تسلیم تو کیا، کمیٹی مجھے بلاتی ہے تو پہلے یہ پوچھوں گا  ڈونلڈ لو نے کس کو ہٹانے کا حکم دیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا ان کو اپنی کرپشن کا ڈر ہے مجھے کوئی ڈر نہیں۔ مخالفین کو ایک بار پھر این آر او دیدیا گیا، موجودہ الیکشن کمیشن جتنا جانبد ا ر اتنا کبھی نہیں دیکھا، یہ مجھے نااہل کروانا چاہتے ہیں، چیلنج ہے میرا، آصف زرداری اور نواز شریف کا توشہ خانہ کیس ایک ساتھ سن لیا جائے، میں نے کچھ غیر قانونی نہیں کیا، انہوں نے تو غیر قانونی طور پر قیمتی گاڑیاں لے لیں، تو شہ خانہ میں زرداری اور نواز قیمتی گاڑیاں نہیں لے سکتے تھے مگر گھر لے گئے۔عمران خان نے مزید کہاانہوں نے نیب چیئرمین مرضی کا لگا لیا، یہ اداروں کے سربراہ اپنی مرضی کے لگانا چاہتے ہیں۔لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کیسے ہمیں روکے گا۔ اسلام آباد کے چاروں طرف تو ہماری حکومتیں ہیں، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر میں ہم ہیں، یہ خالی دھمکیاں دے رہا ہے۔

عمران خان

  

مزید :

صفحہ اول -