حکومتی اتحادیوں کا لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ

  حکومتی اتحادیوں کا لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ

  

        اسلام آباد (آن لائن) حکمران اتحاد پی ڈی ایم نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ قبل ازوقت انتخابات کیلئے کوئی دباؤ قبول کیا، نہ ہی عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ کو اسلام آباد میں کسی صورت داخل ہونے دیا جائیگا،عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہو نگے، سائفر معاملہ پر آئین و قانون کے مطابق کارروائی ہوگی،پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کر نیکی ہر سازش کو ناکام بنایا جائیگا، نئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق وزیراعظم آئین و قانون کے مطابق اپنا اختیار استعمال کریں۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہبا ز شر یف کی زیرصدارت پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کی قیادت کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن سمیت اتحادی جماعتوں کی قیادت اور وفاقی وز ر اء نے شرکت کی۔اجلاس میں ملکی سیاسی، داخلی و معاشی صورتحال پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں آڈیو لیکس، سائفر معاملہ اور عمران خان کے لانگ مارچ کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم نے آڈیو لیکس اور سائفر معاملہ پر وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا، اتحادیوں نے سائفر معاملہ کو آئین و قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی حمایت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پی ڈی ایم اور اتحادی حکومت کے ممبران پر مشتمل 2 کمیٹیاں تشکیل دیں، کمیٹیاں پارٹی ترجمانوں اور قانونی ماہرین پر مشتمل ہیں۔ ترجمانوں کی کمیٹی میں ہر جماعت سے ایک ایک رکن شامل کیا جائیگا، ترجمانوں کی کمیٹی عمران خان کے بیانیہ کیخلاف اپنا بیانیہ عوام تک پہنچانے کی ذمہ دار ہوگی، قانونی کمیٹی اتحادی اور پی ڈی ایم جماعتوں کے درمیان قانونی امور پر لائحہ عمل کی ذمہ دار ہو گی۔ ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں کی قیادت نے کسی کو اسلام آباد پر یلغار کی اجازت نہ دینے کی بھی حمایت کی اور اتحادیوں نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو اختیار دیدیا کہ ملک کو سیاسی و معاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ہر کوشش سے سختی سے نمٹا جائے۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ملکی داخلی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا عمران خان کے لانگ مارچ کے حوالے سے ہماری تیاری مکمل ہے۔ذرائع کے مطابق انہوں نے سائفر، آڈیو لیکس سمیت دیگر امور سمیت کسانوں کیساتھ ہونیوا لے مذاکرات اور مطالبات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملکی معیشت، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ڈالرز کے مقابلے میں رو پے کی قدر سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، پی ڈی ایم اور حکومتی اتحادیوں نے وزیر خزانہ کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا پٹرولیم مصنوعات میں کمی، ڈالرز کے نیچے آنے سے حکومتی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے سیلاب کی حالیہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ وفاقی و سندھ حکومت کی جانب سے کئے جانیوالے اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق صدر آصف زرداری کی صحت سے متعلق ارکان کو آگاہ کیا گیا،جبکہ انکی صحت و سلامتی کیلئے بھی دعا کی گئی۔اجلاس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس، ضمنی انتخابات کے حوالے سے بھی حکمت عملی پر گفتگو کی گئی، جبکہ مولانا فضل الرحمن نے بلوچستان، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں افواج پاکستان کیخلاف بے بنیاد پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا پر چلائی جانیوالی مہم کی شدید مذمت کی گئی،پی ڈی ایم قائدین نے کہا عمران خان اقتدار کی ہوس میں پاگل ہوچکا ہے،افسوس ایسا شخص ملک کا وزیراعظم تھا جسے ملک اور اداروں کی پروا نہیں۔  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا سائفر معاملہ پر آئین و قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، انہوں نے اسحاق ڈار کی بھی تعریف کی اور کہا ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ملکی معیشت کیلئے نیک شگون ہے۔ 

پی ڈی ایم 

مزید :

صفحہ اول -