کرونا سے تعلیم متاثر،ویمن یونیورسٹی میں کانفرنس شروع

کرونا سے تعلیم متاثر،ویمن یونیورسٹی میں کانفرنس شروع

  

ملتان(نیوز  رپورٹر)ویمن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل کانفرنس شروع ہوگئی جس کا عنوان  کورونا کے بعد ایجوکیشن  کے مسائل ہے، کانفرنس تین روز جاری رہے گی، اس کانفرنس کا اہتمام پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور  شعبہ ایجوکیشن ویمن یونیورسٹی ملتان کے باہمی تعاون سے کیا گیا ہے افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی چار یونیورسٹی کے وائس چانسلرز تھے  افتتاحی سیشن (بقیہ نمبر50صفحہ6پر)

سے خطاب کرتے ہوئے  وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کانفرنس کے منتظمین کو ایسی کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا۔  انہوں نے تعلیمی اداروں میں تحقیق کے معیار کو فروغ دینے کے لیے اس قسم کی کانفرنسوں کے انعقاد پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام وائس چانسلرز کی موجودگی پر خوشی ہے جو ہمارے اور طلبا کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔کانفرنس سے وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر محمد رمضان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبا کو اپنی کلاس میں داخل ہونے سے پہلے اپنے مضمون کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے۔ اساتذہ سوشل میڈیا ذہنی صحت اور جذباتی پیچیدگیوں کے بارے میں بات کریں جو دماغی صحت کو متاثر کرتی ہیں ان کی ذہنی صحت اور تندرستی کے بارے میں آگاہی کی ذمہ داری ان پر ہے۔ وائس چانسلر (UET ملتان) پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کی منزل کے حصول کے لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہونا چاہییانہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ اپنی زندگی میں سیکھنے اور کمانے اور تعین کے اصول پر عمل کریں۔ پرو وائس چانسلر(بلوچستان یونیورسٹی) پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن خان نے تحقیقی شعبے میں اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور پاکستانی اداروں میں تحقیق کے معیار کو بڑھانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔  انہوں نے اپنی تقریر کے دوران یونیورسٹیوں کی بین الاقوامی درجہ بندی کے مظاہر کو واضح کیا کیونکہ یہ معیاری تحقیق پر منحصر ہے، لہذا انہوں نے تحقیق کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ ہم معیاری تحقیق کو فروغ دے کر بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل سکیں۔کانفرنس سے وائس چانسلر (اوکاڑہ یونیورسٹی) پروفیسر ڈاکٹر واجد نے بھی خطاب کیا جبکہ مقررین نے کہا کہ  ان لاک میں جس طرح سے معمول کی زندگی کا آغاز ہو گیا ہے،  مگر کوووڈ-19 وبا کی سطح اور شدت واضح طور پر صحت عامہ کے لیے ایک ایسا خطرہ بن گئی ہے کہ بعض حقوق پر پابندیاں جائز ہو جاتی ہیں اب تعلیمی اداریکھل گئے ہیں اور اساتذہ، والدین اور تعلیمی ماہرین پہلے ہی بچوں کی تعلیم میں بہت بڑا خلا محسوس کر رہے ہیں۔ مشاہدے میں آیا کہ زیادہ تر بچے اپنی مادری زبان میں واپس چلے گئے ہیں۔اس دوران سب سے زیادہ نقصان چھوٹے بچوں کا ہوا طلبا  کتاب روانی سے پڑھنے سے قاصر ہیں۔ وہ حروف تہجی، اعداد، بنیادی ریاضی کو یاد کرنے میں ناکام رہتے ہیں جیسے اضافہ اور گھٹاو اور ضرب میں انھیں مشکلات پیش آرہی ہیں اور وہ اپنے دوستوں سے آسانی سے بات نہیں کر سکتے۔بچوں نے سادہ جملے لکھنے کا اعتماد بھی کھو دیا ہیدیہی علاقوں میں یہ مسئلہ بہت عام ہے کیونکہ ان بچوں کے لیے آن لائن کلاسز اور سماجی ملاقاتیں دستیاب نہیں تھیں، کالجز اور یونیورسٹیاں بھی اس کے اثرات سے نہیں بچ سکیں،طلبا اب کلاس رومز میں لیکچرر لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے نا ہی وہ فزیکلی امتحان دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں 30 فیصد نصاب کی کٹوتی کی گئی ہے بڑا مسئلہ صرف تعلیم کی ترسیل کا نہیں بلکہ جو تعلیمی عمل ہوا ہے اس کو امتحانات کے ذریعے چانچنے کا ہے اور اس کے مطابق طلبا کو کامیاب کرنے کا ہے۔ اطمینان بخش تعلیمی عمل ہوا ہی نہیں تو اس کی جانچ کس طرح کی جائے نصاب میں کمی کے ساتھ ساتھ پرچہ سوالات میں بھی کچھ آسانیاں پید کی گئیں  انٹرنل مارکس میں بھی  فراخ دلی کا مظاہرہ  کیا گیا  جن حالات سے آج دنیا گزر رہی ہے ان حالات میں طلبہ کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اساتذہ اور والدین کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ کانفرنس سے ڈاکٹر سارہ،ڈاکٹر مہر سعید اختر، ڈاکٹر اسلم، ڈاکٹر عفیفہ خانم، ڈاکٹر آسیہ اور ڈاکٹر نسرین اختر نے بھی خطاب کیا  بعدازں اساتذہ کے عالمی دن کے حوالے سے کیک کاٹنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔مقررین نے معاشرے میں اساتذہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنے اساتذہ کا احترام کرنے والے ہی کامیاب اور دنیا پر راج کر سکتے ہیں۔آخر میں مہمانوں میں  سونیئر تقسیم کئے گئے۔ اس کانفرنس کی فوکل پرسن ڈاکٹر فریحہ سہیل، ڈاکٹر عظمی اور ڈاکٹر حنا منیر تھیں)  ویمن یونیورسٹی کے شعبہ سائیکالوجی کے زیراہتمام تین روزہ کانفرنس شروع ہوگئی،جس کا عنوان  تعلیم اور کلینیکل سوشل سائیکالوجی  ہے  افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سعدیہ مشرف,(چیئرپرسن شعبہ سائیکالوجی) نے کانفرنس میں معاشرتی فلاح و بہبود اور ذہنی صحت کی بحالی کیلئے علومِ نفسیات کے اطلاق، کمسنوں اور بالغوں کو درپیش خطرات،مثبت سماجی تعلقات اور ذہنی صحت،شخصی و انفرادی فرق، کام سے متعلق رویہ اور ملازمین کی کارکردگی،خاندانی تحرک اور نوجوانی کے مسائل،والدین کی نفسیات،تعلیم اور کھیلوں سے متعلق نفسیاتی نقطہ نظر،صنفی امتیاز اور بین الاثقافتی نفسیات، نفسیاتی بحالی پرمثبت نقطہ نظر اورانسانی تحفظ و علاج میں کلینیکل سائیکالوجی کے کردار پر روشنی  ڈالی جائے گی، جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے،  وائس چانسلر ڈاکٹر عظمی قریشی نے کہا کہ  نفسیات، تعلیم، اور دماغی صحت پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس نے سائنسدان کے جذبے کو ابھارنے کے لیے اپنے عزم کو ثابت کیا ہے جو اس صنعتی ترقی کے دور میں پیش آنے والے نفسیاتی شعبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بصیرت، اختراع اور تخلیقی صلاحیتیں فراہم کرتا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -