محکمہ خوراک دیجیٹائزیشن،شفافیت کو فروغ حاسل ہوگا:عاطف خان

  محکمہ خوراک دیجیٹائزیشن،شفافیت کو فروغ حاسل ہوگا:عاطف خان

  

     پشاور(سٹی رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک، سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی عاطف خان نے کہا کہ محکمہ خوراک میں ڈ یجیٹائزیشن کے عمل سے شفافیت کے عمل کو فروغ حاصل ہوگا، کوتاہی کی صورت میں اہلکاروں کو جواب دہ بنایا جاسکے گا اور مجموعی کارکردگی میں بہتری لائی جائیگی۔ڈیجٹائزیشن کا نیا سسٹم ایک جامع نظام ہے۔ جس میں صوبہ بھر کے سرکاری گوداموں میں گندم کے سٹاک کی معلومات سے لیکر گندم سپلائی کرنے والے ٹرکوں کی ٹریکنگ اور انسپکشن سمیت لیبارٹری مینیجمنٹ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں محکمہ خوراک کی ڈیجٹائزیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے نظام سے ایک کلک سے کسی بھی پہلو کے حوالے سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ عاطف خان کا کہنا تھا کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹی خوراک کا معیار بہتر کرانے کے حوالے سے زبردست کام کررہی ہے۔ اور شہریوں تک معیاری و محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں بھی مضر صحت اشیا کے خلاف ایکشن لئے جارہے ہیں، اور اب قانون میں ملاوٹ کرنے اور غیر معیاری خوراک تیار کرنے والوں کے خلاف جرمانوں سمیت قید و بند کی سزاں کو مزید سخت کیا جارہا ہے۔ نوجوانوں کے لئے آئی ٹی سیکٹر میں تربیت کے لئے تقریبا 9 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ڈیجیٹل سکیلز سے نوجوان مزید آگے بڑھ سکیں گے۔ سیکرٹری محکمہ خوراک کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ڈیجٹائزیشن سے مانٹرینگ کا کام مزید بہتر ہوگا، اور اب دفتر میں بیٹھ کرکسی بھی ضلع کے حوالے سے ایک کلک پر معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے انسپکشن کے نظام میں بھی انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔ فوڈ سیفٹی اتھارٹی اور محکمہ خوراک کے اہلکار ا پنے اپنے دائرہ اختیار میں معائنے کے دوران رپورٹ موبائل اپلیکشن کی مدد سے موقع پر ہی درج کرینگے۔ اور جرمانے کی صورت میں موقع پر چالان دیا جائیگا، جس سے جرمانہ کی رقم بینک میں جمع کی جائیگی۔ اس نظام سے شفافیت کو فروغ حاصل ہوگا، اور وقتا فوقتا کارکردگی اور صوبے میں اشیا خوردونوش میں ملاوٹ سمیت محکمہ خوراک سے متعلق مختلف پہلووں پر رپورٹس مرتب کی جائیں گی، جس سے کارکردگی بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔سپلائی چین مینیجمنٹ سے سرکاری گوداموں میں گندم کا ریکارڈ رکھنے کا روایتی طریقہ ان لائن ڈیٹا بیس میں تبدیل ہوجائیگا۔ صوبے میں گندم کے سٹاک کے حوالے سے تفصیلی معلومات میسر ہونگی، جیساکہ کتنی گندم درآمد کی گی، مقامی ذرائع سے کتنی گندم حاصل کی گئی، ساتھ میں صوبے کو مستقبل میں کتنی گندم کی ضرورت ہوگی۔ فلیٹ مینیجمنٹ سسٹم سے ٹرانسپورٹیشن سے منسلک تمام ٹھیکداروں کی معلومات کا ریکارڈ رکھا جائیگا، جبکہ ساتھ میں نقطہ آغاز سے منزل تک گندم کی ترسیل میں سپلائی کرنے والے ٹرک کی ٹریکنگ بھی کی جاسکے گی۔ لیبارٹری مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے زریعے خوراک کی ٹیسٹنگ کے دوران نتائج میں انسانی مداخلت کم سے کم کی جائیگی۔ اس سسٹم سے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی موبائل لیبارٹریز اور حیات آباد میں قائم فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو مرکزی سسٹم سے منسلک کیا جائیگا، تاکہ یہاں سے خوراک کے نمونوں کے ٹیسٹ کے نتایج آن لائن مرکزی ایم آئی ایس سسٹم میں درج کئے جاسکیں۔

مزید :

صفحہ اول -