سارہ انعام قتل کیس ، مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

سارہ انعام قتل کیس ، مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل ...
سارہ انعام قتل کیس ، مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سارہ انعام قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق   تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس کی جانب سے شاہنواز امیر کو سینئر سول جج محمد عامر عزیز کی عدالت میں پیش کیا گیا ، پولیس کی جانب سے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے ملزم کو  14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ 

خیال رہے کہ ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز نے اپنی اہلیہ کو گھر میں قتل کر دیا  تھا ۔ شاہنواز امیر نے شراب نوشی اور چرس پینے کا اعتراف  بھی کیا ۔ دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ شراب نوشی اور چرس بھی پیتا رہا جبکہ وقوعہ کے وقت گرفتاری کے موقع پر ملزم نشے میں نہیں تھا۔

ملزم شاہنواز امیر نے مقتولہ سے 48 ہزار درہم لے کر مرسڈیز کار خریدی، ملزم نے اپنی مقتولہ اہلیہ سے مرسڈیز کار لینے کا دوران تفتیش اعتراف کیا۔

گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقتولہ سارہ انعام کے والد انجینئر انعام نے کہا کہ سارہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی ، ہم سال  2000 میں کینیڈا شفٹ ہو گئے جہاں میری بیٹی پڑھائی کر رہی تھی ، سارہ نے اکنامکس میں ماسٹرز کیا تھا ، اس کے بعد  یو ایس ایڈ میں کا کیا ، اس نے ابو ظہبی میں بھی نوکری کی ۔ سارہ کی  شادی کیلئے  متعدد رشتے آئے مگر اس نے کوئی قبول نہ کیا ، اس سال جولائی کے اختتام ر اس نے ہمیں بتایا کہ وہ شادی کر چکی ہے ، ہم نے  پوچھا کہ بغیر گھر والوں سے مشورہ کئے آپ نے اتنا بڑا قدم کیسے اٹھایا ، جب انہوں نے بتایا کہ  صحافی ایاز امیر کے صاحبزادے سے شادی کی ہے تو ہم مطمئن ہو گئے ۔ 

سارہ کے اہلخانہ نے قاتل کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -