جب امریکی سفارتخانے جا کر شہریت منسوخ نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟،  فیصل واوڈا نا اہلی کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس

جب امریکی سفارتخانے جا کر شہریت منسوخ نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے ...
جب امریکی سفارتخانے جا کر شہریت منسوخ نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟،  فیصل واوڈا نا اہلی کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نا اہلی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی ، عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب امریکی سفارتخانے جا کر شہریت منسوخ نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ  کیسے جاری کر دیا؟۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نا اہلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی ،  چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ  کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے،اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے۔

فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لاء نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا جس پر عدالت نے  فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت دی ۔

فاروق ایچ نائیک کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ  فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے۔ فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ  فیصل واوڈا نے حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ  فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ ، وکیل وسیم سجاد نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے ،  کاغذات نامزدگی پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ  فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ ، وکیل وسیم سجاد نے بتایا کہ  فیصل واوڈا نے نائیکاپ کینسل کرایا، فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا،  ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ  کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر شہریت منسوخ کرائی؟ ، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ  کیا آپ نےسفارتخانے جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟، وکیل وسیم سجاد نے بتایا کہ  امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ شہریت چھوڑ رہا ہوں، امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا۔

عدالت نے استفسار کیاکہ  بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے زحمت ہی نہیں کی کہ دہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟، وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ  نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا جس پر جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ  جب امریکی سفارت خانے جا کر شہریت کینسل نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟ ۔

عدالت نے  فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت 13اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -