بڑے لوگ اور ماسٹر جی

بڑے لوگ اور ماسٹر جی
بڑے لوگ اور ماسٹر جی

  

  تحریر :ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

 سڑک اور استاد اپنی جگہ پر ہی رہتے ہیں مگر طالب کو منزل تک پہنچا دیتے ہیں اور اسی میں ان کی عمر گزر جاتی ہے .خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت ہے، تو آپؓ نے فرمایا کہ" کاش میں ایک معلم ہوتا"۔ ”امام قاضی ابو یوسفؒ بیان کرتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے نماز پڑھی ہو اور اپنے استاد  امام ابو حنیفہؒ کیلئے دعا نہ مانگی ہو۔ ۔ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم و ادب کی تعظیم کے لئے امام اصمعی کے سپرد کر دیا تھا ۔ایک دن ہارون اتفاقاً انکے پاس جا پہنچا۔دیکھا کہ اصمعی اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔ہارون الرشید نے برہمی سے کہا۔میں نے تواسے آپکے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے۔آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوئے ۔

جو نہیں آتا وہ ضرور پوچھیں سوال ہی علم کی کنجی ہے جب اس میں ادب شامل ہو جائے تو وہ جلدی سمجھ آتا ہے اور منزل مقصود جلدی ملتی ہے ۔ اساتذہ کی بارگاہ میں بولتے ہوئے الفاظ کا چناؤ بھی احتیاط سے کرنا چاہیے اب دور حاضر میں بچے بہت سے سوال کرتے ہیں، اگر آپ سیکھنے کے لیے کرتے ہیں تو یہ سوال ہے  ادب کے دائرے میں رہ کر۔ مگر جب آپ بحث کرتے ہیں تو یقیناً لہجہ بدل جاتا ہے جو اساتذہ کی طبیعت پر ناگوار گزرتا ہے ۔احتیاط کا  تقاضا ملحوظ خاطر رکھنا چاہیےاور یہی احتیاط  والدین کے ساتھ بھی اپنا جائے تو ان کی دعا آپ کے حق میں جلد عرش بریں پر پہنچے گی۔

آپ اپنے استاد کی رائے سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں مگر یہ اس صورت میں ہے جب آپ کا کسی علم یا فن پر عبور ہو ورنہ محض یہ سوچ کہ اختلاف کرنا کہ مجھے یہ پسند نہیں یا میرا دل نہیں مانتا تو یہ کوئی معیار نہیں۔ اور اگر آپ کو اس میدان میں عبور حاصل ہے تو اس کی صورت بھی یہ ہے کہ ادب لازم ہے کیونکہ استاد نے ہی آپ کو وہ سکھایا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے۔پھر اس منصب کا ادب اس صورت میں لازم ہے کہ اس کی نسبت اس منصب سے ہے جس میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا" ۔

باادب با نصیب۔بے ادب بے نصیب ممکن ہے دور حاضر کی معلومات آپ کے پاس اپنے استاد کی نسبت زیادہ ہوں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مرتبے میں اپنے معلم سے بڑھ گئے ہیں۔صحابہ کرامؓ  کوکسی بات کا علم بھی ہوتا تو ادب سے یہ کہتے کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں ۔ایک لمحے کیلیے اسوۂ حسنہ میں نبی پاک ﷺ کے اس منصب کو دیکھا جائے کہ آپ ایک استاد ہیں تو صحابہ کرامؓ  نے آپؐ کی جوتیاں مبارک بھی سیدھی کیں ۔اپنے ہاتھوں سے پہنائیں اور اٹھائیں  تو نبی پاکﷺ رول ماڈل ہیں۔ اگر آپ کو یہ موقع اپنے اساتذہ کے لیے ملے تو اس موقع کو ضائع نہ کریں علم کا زیور اپنی چمک تب ہی دکھاتا ہے جب اس زیور پر کسی کامل جوہری نے سونے کا پانی چڑھایا ہو ۔دعا ہر استاد کا وہ سونے کا پانی ہے جو آپ کے اس زیورکی آب و تاب کو بڑھا دیتی ہے،  استاد کی غیبت بھی مت کریں اس سے بھی علم کے حصول کے وہ مراتب رک جاتے ہیں جن سے آپ کی اصل کامیابی وابستہ ہوتی ہے ۔

اصل کامیابی کا ایک نام سکون بھی ہے میں نے بہت سے ایسے طلباء کو دیکھا ہے جنھیں اپنی ذہانت پر ناز تھا اس بنا ءپر وہ ادب سے دور تھے آج وہ اچھے عہدوں پر ہیں مگر بے سکون ہیں۔اصل کامیابی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ کے علم سے دوسروں کو نفع ہو بہت سے اہل علم اپنے علم کے ساتھ مر جاتے ہیں ان کا علم ایسا شجر ہوتا ہے جس سے کسی کو سایہ ملا ، خوشبو نہ ہی پھل۔ اپنے اساتذہ کے سامنے ادب سےبیٹھیں ۔یہ ایک نصیحت ہمارے میتھ کر سر نے کی تھی،آپ بھی اس پر عمل کریں یقین مانیے اللہ آپ کو اس ادب کی بدولت بہت نوازے گا۔اس میں تھوڑا سا اضافہ کرلیں والدین اور اساتذہ دونوں کے سامنے  ادب سے بیٹھیں اور  ان کے سامنے موبائل کا بے جا استعمال نہ کریں۔ ایک شخص نے اپنے اولڈ ہوم میں آنے کی وجہ ہی یہ بتائی کہ اس کی اولاد کو اس سے زیادہ موبائل کا استعمال اور موبائل  پہ باتیں کرنا پسند تھیں وقت نہیں دیتے تھے۔ میں یہ سن کر رو دیا کیسے بد بخت ہیں وہ لوگ جو والدین کے زندہ ہوتے ہوئے بھی ان سے فیض نہیں لے پاتے ۔اپنے والدین سے فیض لیں  در در پہ جانے سے بچ جائیں گے۔ان سب باتوں میں صرف عمل شرط ہے۔

نوٹ : ادارے کا مضمون نگار کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -